عراقی حکومت کا بائیکاٹ جاری ہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے دو نائب صدور میں سے ایک سنّی عرب طارق الہاشمی نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ان کی پارٹی اس وقت تک شیعہ پارٹی پر مبنی قیادت کا بائیکاٹ جاری رکھے گی جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں کیے جاتے۔ الہاشمی کی عراقی اسلامک پارٹی کے علاوہ اور بھی کئی سنّی گروپوں نے حکومت سے علیحدگی اختیار کر رکھی ہے جس کے باعث اس وقت کابینہ میں سنّی عرب ممبران کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ دیگر اطلاعات کے مطابق حکومت میں شامل ایک اور سیکولر سیاسی گروپ عراقیہ لسٹ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اگلے ہفتے باقاعدہ طور پر حکومت سے علیحدہ ہو جائیں گے۔ واضح رہے کہ یہ پارٹی اس سے قبل بھی کابینہ کی میٹنگز کا بائیکاٹ کرتی رہی ہے۔ اس ضمن میں عراقیہ گروپ کے سربراہ اور سابق عارضی وزیرِاعظم ایاد علاوی نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے موجودہ شیعہ حکومت ملازمتوں کے معاملے میں فرقہ پرستی سے کام لے رہی ہے۔ اس سے قبل ایک امریکی انٹیلیجنس رپورٹ میں خبردار کیا گیا تھا کہ عراقی حکومت کی پوزیشن آئندہ آنے والے مہینوں میں مزید غیر یقینی ہو جائے گی۔ اس سلسلے میں حال ہی میں ایک ری پبلکن سینیٹر جان وارنر نے صدر بش پر زور دیا ہے کہ وہ عراق سے جزوی طور پر اپنی افواج کا انخلاء کریں۔ جان وارنر کا کہنا ہے کہ اس انخلاء سے عراقی حکومت پر یہ بات عیاں ہوجائے گی کہ واشنگٹن کی عراق کے لیے مدد مستقل بنیادوں پر نہیں ہے۔ | اسی بارے میں عراق میں مزید فوج بھیجی جائے گی16 December, 2006 | صفحۂ اول عراق نے امریکی رپورٹ رد کردی03 June, 2006 | صفحۂ اول عراق میں سنیوں کی مساجد بند 21 May, 2005 | صفحۂ اول مذاکرات ناکام، لڑائی کا امکان 14 August, 2004 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||