BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 05 March, 2007, 11:13 GMT 16:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برطانوی چھاپے، مالکی کی مذمت
عراقی وزیراعظم کی مذمت
پہلے مارے جانے والے چھاپوں میں حاصل معلومات کی بنیاد پر انٹیلیجنس کے حراستی مرکز کے خلاف اپریشن کیا گیا۔
عراق کے وزیراعظم نے اتوار کو بصرہ میں عراقی اور برطانوی فوجیوں کی طرف سے ایک انٹیلی جنس ادارے کے حراستی مرکز پر چھاپے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

نوری المالکی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس غیر قانونی اور غیر ذمہ دارانہ عمل کے ذمہ دار افراد کو سزا دی جانی چاہیے۔

برطانوی فوج کا کہنا ہے کہ چھاپہ انسداد دہشت گردی سے متعلق عراقی فوج کی سربراہی میں جاری آپریشن کا حصہ ہے جو قتل و غارت میں ملوث ایک ’ڈیتھ سکوارڈ کے رہنما‘ کو تلاش کررہا ہے۔

انکا کا کہنا ہے کہ جنوبی عراق میں قائم اس حراستی مرکز میں قیدیوں کو تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے شواہد ملے ہیں۔

نوری المالکی کے دفتر سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ’وزیراعظم نے بصرہ میں قائم سکیورٹی ہیڈ کوارٹر پر چھاپہ مارنے سے متعلق فوری تحقیقات کا حکم جاری کیا ہے۔‘

برطانوی فوج نے ایک جوابی بیان میں کہا ہے کہ عراق کے انٹلیجنس ایجنسی کے مرکز کو جان بوجھ کر نشانہ نہیں بنایا گیا ہے بلکہ پہلے سےمارے جانیوالے چھاپوں میں جو معلومات ملی تھیں ان کی بنیاد پر وہ مرکز میں داخل ہوئے تھے۔

’آپریشن کے دوران ایک خاتون اور دو بچوں سمیت تیس قیدی عراقی فوجیوں کے ہاتھ لگے جن کو زیرحراست رکھا گیا تھا ۔ان میں سے بعض قیدیوں نے تشدد کے نشانات دکھائے اور بتایا کہ انہیں گالیاں دی گئی تھیں۔‘

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ عراقی فورسز نے دروازوں کے تالے توڑ دیئے جسکی وجہ سے بعض قیدی فرار ہو نے میں کامیاب ہوگئے اور بیان میں ان رپورٹوں کی تردید کی گئی ہے کہ عراقی فورسز نے ان قیدیوں کوجان بوجھ کر چھوڑ دیا تھا۔

اس سے قبل بصرہ میں پانچ افراد کو اس شک پر گرفتار کیا گیا کہ وہ کثیرالقومی افواج اور عراقی شہریوں کے خلاف سڑک بم حملوں، اغواء، تشدد اور ہلاکتوں میں ملوث ہیں۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ پیر کے روزگیارہ سوعراقی اور امریکی فوجیوں نے مشترکہ طور پر بغداد کے ایک ایسے علاقے میں آپریشن کیا جو شیعہ رہنما مقتدہ الصدر کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آپریشن کے دوران نہ اسلحہ اور نہ ہی کسی عسکریت پسند کو گرفتار کیا گیاہے۔

یہ چھاپے ایسے وقت مارے گئے ہیں جب عراقی وزیراعظم نے کہا ہے کہ وہ ان مزاحمت کاروں کو صلح کی پیش کش کررہے ہیں جو مذاکرات اور صلح کی زبان کو جانتے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ جنہوں نے یہ پیش کش قبول نہیں کی ان کو ایسی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑیگا اور عراق کے چپے چپے میں ایسی ہی کارروائیاں ہوں گی۔

انہوں نے واضح نہیں کیا کہ کیا ان مزاحمت کاروں کو جو ہتھیار رکھیں گے عام معافی ملی گی کہ نہیں۔

نوری المالکی نے مزید کہا ہے کہ وہ آئندہ دو ہفتوں کے دوران کابینہ میں ردوبدل کرنے والے ہیں۔

اس سے متعلق ابھی تک کسی قسم کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں تاہم بعض رپورٹوں میں ایک نامعلوم حکومتی اہلکار کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اس بات کا امکان ہے کہ وزیراعظم مقتدہ الصدر کے وفادار چھ وزراء کو فارغ کردے ۔مقتدہ الصدر پر امریکہ کی جانب سے تنقید جاری ہے۔

اسی بارے میں
امریکی کارروائیوں میں تیزی
15 November, 2003 | صفحۂ اول
بش، نور المالکی سے ملیں گے
22 November, 2006 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد