عراق سے فوج کی واپسی کا مطالبہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے اہم رکن جان مرتھا نے عراق سے امریکی فوجوں کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔ امریکی کانگریس کے رکن جان مرتھا کا شمار ان سیاستدانوں میں ہوتا ہے جنہوں نے عراق پر حملے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ جان مرتھا نے، جو ویت نام جنگ میں بہادری کا اعزاز حاصل کر چکے ہیں، کہا کہ امریکی فوجی عراق میں تشدد کا باعث بن رہے ہیں۔ جان مرتھا نے یہ بیان اس وقت دیا ہے جب امریکی صدر جارج بُش حال ہی میں اپنی عراق پالیسی کے مخالفین کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔ امریکہ کے نائب صدر ڈک چینی نے کہا ہے کہ تنقید کرنے والے جھوٹ پھیلا رہے ہیں۔ جان مرتھا کا کہنا تھا کہ امریکی فوجی عراق میں مزاحمت کاروں کا نشانہ بن رہے ہیں اور مزاحمت کار امریکی فوج کے خلاف متحد ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عراق میں سنی، صدام حسین کے حامی اور غیر ملکی ’جہادی‘ سبھی امریکی فوج کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ جان مرتھا نے مشرق وسطیٰ میں ’فوری کارروائی کرنے والی فورس‘ کے قیام کی تجویز پیش کی۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ جان مرتھا کے بیان سے امریکی صدر کی عراق پالیسی کے لیے حمایت حاصل کرنے کی کوششوں کو شدید دھچکا لگے گا۔ | اسی بارے میں ’عراق کے معاملے پر صبر سے کام لیں‘28 August, 2005 | آس پاس بیٹے کی موت پرماں کا احتجاج 22 August, 2005 | آس پاس صدر بش کی ایران کو دھمکی13 August, 2005 | آس پاس فوج بدسلوکی سے باز رہے: سینیٹ06 October, 2005 | آس پاس صدام کے مقدمے پر سب کی نظر20 October, 2005 | آس پاس بیرونی لِنک بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||