| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی کارروائیوں میں تیزی
حالیہ بم حملوں کے بعد امریکی فوج نے صدام کے حامیوں کے خلاف کارروائیاں تیز تر کر دی ہیں۔ امریکی فوج نے بغداد اور ملک کے کئی دیگر علاقوں میں سابق صدر صدام کے مبینہ حامیوں کے خلاف ایک بڑی مسلح کارروائی کی ہے۔ امریکی فوج نے بغداد کے ہوائی اڈے کے قریب کچھ ٹھکانوں پر مارٹر گولے برسائے جو امریکی مخالف جنگجوؤں کے زیر استعمال تھے۔ امریکی صدر بش نے کہا ہے کہ صدام کے حامیوں کے خلاف حملوں میں استعمال ہونے والے خفیہ معلومات خود عراقی دے رہے ہیں۔ واشنگٹن میں اٹلی کے صدر کارلو چانپی سے ملاقات کے بعد صدر بش نے کہا کہ اس سلسلے میں مزید عراقیوں کو سامنے آنا چاہیے۔ مسٹر بش نے کہا کہ امریکی فوج کی حالیہ کارروائیاں دشمن چھاپہ ماروں کے حکمت عملی میں تبدیلی کے جواب میں کی گئی ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ امریکی فوج صدام حسین کو ڈھونڈ نکالیں گی اور عراق کو ایک جمہوری ملک بنایا جائے گا۔ ’ہم اس وقت تک عراق میں رہیں گے جب تک ہمارا کام مکمل نہیں ہو جاتا اور ہمارا کام عراق کو آزاد اور پرامن ملک بنانا ہے۔‘ اس سے پہلے امریکی فوجی حکام نے بتایا تھا کہ انہوں نے سات ایسے مشتبہ عراقیوں کو ہلاک کر دیا ہے جو راکٹ کے ذریعے ملک کے شمال میں امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنانا چاہتے تھے۔ امریکی ترجمان نے بتایا کہ تکریت کے قریب ہیلی کاپٹر کے ذریعے کی جانے والی اس کارروائی کے دوران ایک عراقی کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ ایک عراقی فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ یہ کارروائی اس مقام پر کی گئی جو سابق عراقی صدر صدام حسین کی جائے پیدائش ہے۔ بعد میں زمینی امریکی دستوں نے سینکڑوں راکٹ اور میزائل ضبط بھی کیے۔ امریکی ترجمان کا کہنا ہے عراقیوں کے خلاف کارروائی اس وقت ہوئی جب ایک ہیلی کاپٹر معمول کے گشت پر تھا۔ امریکی ہیلی کاپٹر عراق کے شمال اور بغداد کے اردگرد اس طرح کی پروازیں کرتے رہتے ہیں۔ ان پروازوں کا مقصد باغیوں کی بیخ کنی اور ہتھیاروں کا خاتمہ ہے، خصوصاً ان لوگوں کے خلاف کارروائی کرنا بھی ہے جو امریکی فوج پر حملے کررہے ہیں۔ امریکی فوج نے یہ اعلان بھی کیا کہ جمعرات کو ایک امریکی شہری اس وقت ہلاک ہو گیا تھا جب مسلح افراد نے گاڑیوں کے ایک قافلے پر حملہ کر دیا تھا جو بغداد کے شمال کی جانب جا رہا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||