افغانستان میں عرب فوجی بھی ہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بی بی سی کے نامہ نگار فرینک گارڈنر نے انکشاف کیا ہے کہ افغانستان میں امریکی فوجیوں ساتھ عرب فوجی بھی خطرناک فرائض انجام دے رہے ہیں۔ نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ان کی موجودگی کو تا حال اس قدر خفیہ رکھا جارہا ہے کہ خود ان کے ملک کے لوگوں کو بھی نہیں معلوم کہ ان کے ملک کے فوجی افغانستان میں فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ان میں متحدہ عرب امارت یو اے ای کے فوجی ہیں جو زیادہ تر اپنے مسلمان بھائیوں کو انسانی نوعیت کی امداد فراہم کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ کبھی کبھی طالبان کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں میں بھی حصہ لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ اردن کے فوجی ہیں جو زیادہ تر مختلف اڈوں پر فرائض انجام دیتے ہیں لیکن ان کے برخلاف یو اے ای کے فوجی مکمل طور پر فوجی کارروائیوں میں حصہ لیتے ہیں۔ اس نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ایک ایسے کمرے میں جس میں کوئی کھڑکی تک نہیں تھی اور جس کے چاروں طرف ریت سے بھری بوریاں رکھی ہوئی تھیں، امارات کے ایک کمانڈر اپنے فوجیوں کو ایک افغان گاؤں میں جانے کے بارے میں ہدایات دے رہے تھے اور انہیں بتا رہے کہ ان کا مشن گاؤں کے لوگوں کا دل جیتنا ہے۔ ان فوجیوں نے صحرائی وردی پہنی ہوئی تھی اور سروں پر عمامے باندھ رکھے تھے جو عام طور پر خلیج میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ جب فوجیوں کا یہ دستہ پہاڑوں سے گھری ہوئی وادی سے باہر نکلا تو وہ امریکہ اور اس کے اتحادی فوجیوں سے بالکل الگ لگ رہا تھا۔ راستے سے گزرتے ہوئے بھی وہ انتہائی چوکنا تھے کیونکہ راستوں پر لگائے جانے والے ممکنہ بموں کا خطرہ تھا۔
انہیں جس گاؤں میں جانا تھا، بالکل آخری لمحوں میں وہ انتہائی خطرناک دکھائی دینے لگا اور یہ بھی ظاہر تھا کہ امریکی انہیں فضائی تحفظ فراہم کرنے کی ضمانت بھی نہیں دے سکتے تھے۔ اس لیے انہوں نے اس گاؤں جانے کا ارادہ ترک کر دیا اور ایک بار پھر اسی گاؤں چلے گئے جس کا دورہ وہ اس سے پہلے بھی کر چکے تھے۔ انہوں نے گاؤں کے لوگوں کو تحفے دیے اور ان سے پوچھا کہ وہ ان کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔ ظاہر ہے مسلمان ہونے کے ناطے ان کا بڑی گرمجوشی سے خیر مقدم کیا گیا۔ ایک نوجوان افغان نے ان کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پہلے تو میں سمجھا کے امریکی ہیں، اس لیے میں نے اپنا راستہ لینے کی کوشش کی لیکن جب انہوں نے کہا کہ وہ مسلمان ہیں تو میں رک گیا کیونکہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے تو یہ ہمارے بھائی ہیں‘۔ ایک اور افغان حاجی فضل اللہ کا کہنا تھا کہ ’عرب فوجی ہمارے ملک اور ہمارے گاؤں میں آئے ہیں تو یہ ہمارے لیے خوشی کی بات ہے‘۔ عرب مسلمان فوجی گزشتہ پانچ سال سے افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں لیکن اب بھی یہ بات شاید بہت سے لوگوں کے لیے حیرت انگیز ہو گی۔ کیا ان فوجیوں کو احساس ہے کہ عرب ممالک میں لوگوں کو جب اس کا علم ہو گا تو ان کا ردِ عمل کیا ہو گا؟ یہی سوال جب میجر غنیم سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا ’ہمارے پاس اس کا جواب ہے، اور وہ جواب اماارت کے لوگوں کے لیے بھی ہے، خلیج کے لوگوں کے لیے بھی اور اگر افغانستان میں پوچھا جائے تو افغانستان کے لیے بھی‘۔
ان کا کہنا تھا ’ہم نے امریکی فوجیوں سے ایک معاہدہ کیا ہے کہ ہم یہاں لوگوں کی مدد کریں گے ان سے جنگ میں حصہ نہیں لیں گے‘۔ لیکن جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ ان کے فوجی تو امداد کے ساتھ ساتھ سرکشوں سے جھڑپوں میں بھی حصہ لے رہے ہیں تو ان کا کا کہنا تھا: ’اگر ہم پر براہِ راست حملہ ہوتا ہے تو ہم اس کا جواب دیتے ہیں اور اس کے بعد ہم اس علاقے کے بڑوں کے پاس جاتے ہیں اور انہیں بتاتے ہیں کہ ہم پر حملہ کیوں کیا جا رہا ہے، ہم تو یہاں آپ کی مدد کے لیے آئے ہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم انہیں اپنے بارے میں اور پھر امریکی اور برطانوی فوجیوں کے بارے میں قائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ وہ بھی یہاں آپ لوگوں کو امن دینے کے لیے آئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ بہت حد تک کارآمد ہوتا ہے لوگ امارات کے فوجیوں سے اس طرح خوفزدہ نہیں ہوتے جیسے امریکی اور اتحادیوں سے ہوتے ہیں۔ کیونکہ انہیں خیال ہوتا ہے کہ امارات کے فوجی ان کے مذہب کے خلاف نہیں ہیں۔ لوگ ان سے انتہائی دوستانہ انداز میں پیش آتے ہیں انہیں کھانا کھلانے پر اصرار کرتے اور پوچھتے ہیں۔ خوست کے گورنر معراج الدین پٹھان کے ذریعے امارات سرمایہ کاری بھی کر رہی ہے لیکن امارات کے فوجیوں کی سوچ یہ ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائیوں سے مل رہے ہیں جن کے لیے پہلے مذہب ہے اور سکول اور ہسپتال اس کے بعد۔
لیکن اس طریقۂ کار کے دور رس اور ملک گیر ثمرات حاصل کرنے کے لیے اور اسے پورے افغُانستان میں توسیع دینے کے لیے اس کا مزید کئی بار اچھی طرح جائزہ لینا ہو گا اور پھر اسے وسیع کرنا ہو گا اور مستقبل قریب میں تو اس کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||