BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 03 March, 2008, 07:38 GMT 12:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسلام پر نئی فلم، نیٹو کے خدشات
افغانستان
ایران اور پاکستان پہلے ہی اس فلم کی مذمت کر چکے ہیں
نیٹو کے سیکرٹری جنرل جاپ ڈی ہوپ نے کہا ہے کہ انہیں خدشہ ہے کہ اسلام پر تنقید کرنے والی ایک نئی ڈچ فلم کی نمائش سے افغانستان میں نیٹو افواج کی حفاظت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

سیکرٹری جنرل کے اس بیان سے پہلے اتوار کو افغانستان میں سخت گیر ڈچ رکن پارلیمان گریٹ ولڈرز کی اس فلم کے خلاف احتجاج ہوا تھا۔

ڈچ حکومت نے مسٹر ولڈرز کو متنبہ کیا ہے کہ اس فلم سے ہالینڈ کو سیاسی اور اقتصادی سطح پر نقصان ہوگا۔

مسٹر ولڈرز کا کہنا ہے کہ یہ فلم قرآن کے بارے میں ہے مگر انہوں نے مزید تفصیلات دینے سے انکار کر دیا ہے۔

ماضی میں مسٹر ولڈرز نے قرآن کا موازنہ ہِٹلر کی ’مئین کیمف‘ سے کرتے ہوئے اس پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کی نئی فلم کی پہلے سے ہی ایران اور پاکستان سمیت کئی مسلم ممالک میں مذمت ہو چکی ہے۔

نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ افغانستان میں اس فلم کے خلاف احتجاج کے بعد انہیں نیٹو افواج کی حفاظت کی فکر ہے۔

انہوں نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ ’اگر اس فلم کی وجہ سے افواج کو مزید خطرات کا سامنا کرنا پڑا تو ظاہر ہے مجھے اس بارے میں تشویش ہے اور میں اسی تشویش کا اظہار کر رہا ہوں۔‘

مسٹر ولڈرز ہالینلڈ کی ’فریڈم پارٹی‘ کے سربراہ ہیں
اتوار کو افغانستان کے شمالی شہر مزار شریف میں سینکڑوں افراد نے اس فلم کے خلاف احتجاج کیا۔ مظاہرین نے ہالینڈ کے جھنڈے نذر آتش کیے اور افغانستان میں تعینات نیٹو افواج میں سے ڈچ فوجیوں کی واپسی کا مطالبہ کیا۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ اگر افغان حکومت نے ڈچ فوجیوں کو واپس نہیں بھیجا تو مظاہروں کی شدت میں اضافہ کیا جائےگا۔ اس کے علاوہ مظاہرین نے حال ہی میں پیغمبر اسلام کے توہین آمیز خاکوں کی ڈینش اخباروں میں دوبارہ اشاعت کی بھی مذمت کی اور ملک سے ڈینش افواج کی واپسی کا بھی مطالبہ کیا۔

مظاہرے میں شامل مولوی عبدالحادی نے خبر رسان ادارے اے پی کو بتایا کہ ’ہم نہیں چاہتے کہ ہماری حکومت ہالینڈ اور ڈینکامارک کے ساتھ کسی بھی قسم کے سفارتی تعلقات رکھے۔ ہم ان دونوں ممالک کے فوجیوں کو افغانستان میں نہیں چاہتے۔ انہیں نیٹو افواج کا حصہ نہیں ہونا چاہیے۔‘

گریٹ ولڈرز کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ پندرہ منٹ لمبی اس فلم کی نمائش مارچ میں، ہالینڈ میں ہوگی اور اسے انٹر نیٹ پر رلیز کیا جائے گا۔ ہالینڈ کی حکومت نے مسٹر ولڈرز سے کہا ہے کہ ہو سکتا ہے انہیں اپنی حفاظت کے لیے ملک چھوڑ کر جانا پڑے۔

مسٹر ولڈرز کی فلم کا نام ’فتنہ‘ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فلم میں یہ دکھایا جائے گا کہ کس طرح قرآن سے لوگ عدم برداشت، قتل اور دہشت کی ترغیب لیتے ہیں۔

مسٹر ولڈرز ہالینلڈ کی ’فریڈم پارٹی‘ کے سربراہ ہیں، جس کو ڈچ پارلیمان میں نو سیٹیں حاصل ہیں۔ سن دو ہزار چار میں ڈچ فلم ساز تھیو وان گو کے ایک اسلامی بنیاد پرست کے ہاتھوں قتل کے بعد مسٹر ولڈرز کو پولیس کی حفاظت حاصل ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد