ڈینش عدالت: کارٹون مقدمہ خارج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیغمبرِ اسلام کے متنازعہ کارٹونوں کی اشاعت کرنے والے اخبار کے خلاف دائر مقدمہ ڈینش عدالت نے خارج کر دیا ہے۔ ان کارٹونوں کی اشاعت کے بعد دنیا بھر میں پرتشدد مظاہرے ہوئے تھے۔ آرہس کی سٹی کورٹ کا کہنا ہے کہ یہ بات رد نہیں کی جا سکتی کہ جولین پوسٹن میں شائع ہونے والے ان بارہ خاکوں کے باعث مسلمان غم و غصے کا شکار ہوئے تھے۔ لیکن عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ اس اشاعت سے یہ مطلب کسی طور پر نہیں نکالا جا سکتا کہ ان کارٹونوں کا مقصد مسلمانوں کو بدنام کرنا تھا۔ یہ مقدمہ مسلمانوں کی سات تنظیموں نے مارچ میں درج کروایا تھا۔انہوں نے جولین پوسٹن کے اخبار پر الزام لگایا تھا کہ اس میں ایسا مواد اور خاکے شائع کیے گئے ہیں جن سے پیغمبرِ اسلام کی توہین ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ کاٹون پیغبرِ اسلام پر ایمان رکھنے والوں کی عزت پر حملہ ہے جیسا کہ ان میں پیغبرِ اسلام کو ایک جنگجو اور مجرم کی طرح دکھایا گیا ہے اور ان کی مدد سے پیغبرِ اسلام، جنگ اور دہشت گردی میں واضح رابطہ ظاہر کیا گیا ہے‘۔ لیکن عدالت کے جج نے جعمرات کو یہ مقدمہ خارج کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارٹون ’نفرت انگیز نہیں تھے باوجود اس کے ان کے ساتھ چھپنے والے مواد کو تحقیر اور تضحیک آمیز کہا جا سکتا ہے‘۔ 30 ستمبر 2005 میں جولین پوسٹن کی ان بارہ خاکوں کی اشاعت کے بعد مسلمانوں میں احتجاجی مظاہروں کا آغاز ہوا تھا اور ان مظاہروں نے اس سال فروری میں بہت شدت اختیار کر لی تھی۔ اسلام میں یہ بات سختی سے ممنوع کی گئی ہے کہ پیغمبرِ اسلام اور دیگر اہم مذہبی شخصیتوں کے خاکے بنائے جائیں۔ ان خاکوں میں سے کم از کم ایک خاکہ ایسا تھا جو کہ پیغمبرِ اسلام کو دہشت گرد ظاہر کر رہا تھا۔ | اسی بارے میں کارٹون تنازعہ، مغرب اور اسلامی دنیا کے روابط14 February, 2006 | آس پاس کارٹون تنازع: ادیبوں کا انتباہ02 March, 2006 | آس پاس برطانیہ: کارٹون احتجاج پر مقدمات06 May, 2006 | آس پاس ڈنمارک میں پِھر کارٹون تنازعہ10 October, 2006 | آس پاس ایران: کارٹون کے خلاف احتجاج16.01.2003 | صفحۂ اول کارٹونوں کے معاملے پر تحمل کی اپیل04 February, 2006 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||