برطانیہ: کارٹون احتجاج پر مقدمات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں اسلامی تنظیم المہاجرون کے سابق سربراہ انجم چودھری کے خلاف لندن میں اس سال فروری میں متنازعہ کارٹونوں کی اشاعت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرنے پر مقدمہ قائم کردیا گیا ہے۔ لندن کے علاقے الفرڈ سے تعلق رکھنے والے 39 سالہ انجم چودھری کے خلاف پولیس کو نوٹس دیئے بغیر احتجاجی مظاہرہ منظم کرنے کا الزام ہے۔ انجم چودھری کے علاوہ مشرقی لندن سے تعلق رکھنے والے اٹھارہ سالہ عبدالمحد کے خلاف ’قتل کی حمایت‘ کرنے پر مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔ ڈنمارک میں شائع ہونے والے متنازعہ کارٹونوں کے خلاف لندن میں ڈنمارک کے سفارتخانے کے سامنے تین فروری کو احتجاجی مظاہرے کیئے گئے تھے۔ ان دونوں افراد کو جمعرات کو لندن کے سٹینسٹڈ ایئر پورٹ سے اپنی ضمانت کی مبینہ خلاف ورزی کرنے پر گرفتار کیا گیا اور لندن کے ایک پولیس سٹیشن میں زیر حراست رکھا گیا۔ یہ دونوں افراد سب سے پہلے مارچ میں گرفتار کیئے گئے تھے۔ عبدالمحد ابھی بھی زیر حراست ہیں اور وہ ’بو سٹریٹ‘ میجسٹریٹ کی عدالت کے سامنے ہفتہ کے روز پیش ہورہے ہیں جبکہ انجم چودھری گیارہ مئی کو عدالت میں پیشی تک ضمانت پر ہیں۔ | اسی بارے میں کارٹون تنازع: ادیبوں کا انتباہ02 March, 2006 | آس پاس متنازع کارٹون: اشاعت، مقصد اور نتائج؟25 March, 2006 | آس پاس غیرملکی اخباروں کے خلاف مقدمہ25 April, 2006 | پاکستان گرفتار پاکستانی کی ہلاکت کی مذمت05 May, 2006 | پاکستان کارٹونوں کے معاملے پر تحمل کی اپیل04 February, 2006 | صفحۂ اول کارٹون:’سیاست کی اجازت نہیں‘ 28 February, 2006 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||