BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 25 March, 2006, 04:01 GMT 09:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
متنازع کارٹون: اشاعت، مقصد اور نتائج؟

اخبار کے کلچر ایڈیٹر نے انگریزی اخبار میں اپنے کالم میں کارٹون شائع کرنے کی وجوہات بتائی ہیں
ڈنمارک کے اخبار جولین پوسٹن کے کلچر ایڈیٹر فلیمنگ روز نے حال ہی میں واشنگٹن پوسٹ میں لکھے گے ایک مضمون میں وہ اسباب بتائے ہیں جن کی بنا پر انہوں نے پیغمبرِ اسلام کے متنازع کارٹون بنوائے اور شائع کیے۔

میں نے ان کے مضمون کی تلخیص کی ہے تاکہ اردو پڑھنے والے کارٹونوں کے تنازع پر بات کرتے ہوئے، رائے دیتے ہوئے یا رائے قائم کرتے ہوئے یہ پہلو بھی سامنے رکھ سکیں۔

طوالت کے ڈر سے میں نے فلیمنگ روز کی کسی بات پر کوئی رائے نہیں دی لیکن میں یہ حق محفوظ رکھتا ہوں کیونکہ میرے خیال میں ان کی بہت سی باتیں کم فہمی پر مبنی ہیں یا متضاد ہیں۔

فلیمنگ روز کہتے ہیں کہ اسلام اور اس سے متعلق معاملات کی وجہ سے یورپ میں کئی ایسے واقعات ہوئے جن کی وجہ سے سیلف سنسرشپ میں اضافہ ہوا ہے۔

ان واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ گزشتہ ستمبر میں ڈنمارک میں ایک بڑے مزاحیہ فنکار نے جولین پوسٹن کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا ’مجھے کیمرے کے سامنے بائیبل پر پیشاب کرتے ہوئے کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی لیکن میں قرآن کے ساتھ ایسا کرنے کی ہمت نہیں کر سکتا‘۔

تنازعہ کی تاریخ
تیس ستمبر: ڈنمارک کے اخبار میں خاکے کی اشاعت
بیس اکتوبر:مسلمان سفیروں کی ڈنمارک کے وزیر اعظم کو شکایت
دس جنوری: ناروے کے اخبار میں خاکے کی دوبارہ اشاعت
چھبیس جنوری: سعودی سفیر کی واپسی
تیس جنوری: غزہ میں یورپی یونین کے دفتر پر حملہ
اکتیس جنوری: ڈنمارک کے اخبار کی معذرت
یکم فروری: فرانس، جرمنی، ہسپانیہ اور اٹلی کے اخبارات میں خاکوں کی اشاعت

فلیمنگ ایک اور واقعہ بیان کرتے ہیں’گزشتہ ستمبر ہی میں ڈنمارک میں بچوں کے لیے لکھنے والے ایک مصنف نے پیغمبر اسلام کی زندگی کے بارے میں ایک کتاب لکھی اور اسے مصور کرانے کے لیے مصوروں سے رابطہ کیا لیکن تین لوگوں نے اس کام کے نتائج کی وجہ سے انکار کر دیا۔ آخر ایک یہ کام کرنے پر آمادہ بھی ہوا تو اس شرط پر کہ اس کا نام ظاہر نہ کیا جائے۔ میری رائے میں یہ سیلف سنسر شپ ہے‘۔

ان کا کہنا ہے کہ ’اسلام کے بارے میں لکھی جانے والی تنقیدی کتابوں کے یورپی مترجم کتابوں پر مصنفوں کے ساتھ اپنے نام دینے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ صومالیہ نژاد ایک ڈچ سیاستداں اسی بناء پر ان دنوں روپوش ہونے پر مجبور ہے‘۔

وہ بتاتے ہیں’اسی عرصے میں لندن کی ٹیٹ گیلری نے ایک ایسی انسٹالیشن کی نمائش سے انکار کر دیا جس کو بنانے میں قرآن، بائیبل اور تورات کے صفحات پھاڑ کر استعمال کیے گئے تھے۔ گیلری کی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ وہ نہیں چاہتی کہ لندن کی بمباری کے بعد کسی طرح کی بے چینی کا حصہ بنے۔ (اس سے کچھ ہی ماہ قبل گوئٹن برگ، سویڈن کے ایک میوزیم نے صرف اس خیال سے کہ مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوں گے، ایک ایسی جنسی پینٹنگ ہٹا دی تھی جس کے ساتھ قران کا اقتباس استعمال کیا گیا تھا)‘۔

فلیمنگ کے مطابق ’انتہا یہ ہے کہ اماموں کا ایک وفد ڈنمارک کے وزیراعظم سے ملا اور ان سے کہا کہ وہ اسلام کی مثبت کوّریج کے لیے اخبارات کے معاملات میں دخل اندازی کریں‘۔

ان کا کہنا ہے ’اس طرح دو ہفتے کے دوران ہم نے نصف درجن کے قریب ایسے واقعات کا مشاہدہ کیا جن سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ اسلام سے تعلق رکھنے والے معاملات کی وجہ سے اظہار کی آزادی سے گریز اور سیلف سنسرشپ کی گئی۔ یہ مسئلہ بجا طور پر ایک ایسی خبر تھا جسے سامنے آنا چاہیے تھا۔ اس لیے جولین پوسٹن نے صحافت کا یہ جانا مانا طریقہ ’بتاؤ مت، دکھا دو‘ استعمال کر کے اسے سامنے لانے کا فیصلہ کیا۔ میں نے اس سلسلے میں ایسوسی ایشن آف ڈینش کارٹونسٹس سے رابطہ کیا اور ان سے کہا کہ ’محمد کے خاکے بناؤ جیسے بھی تم انہیں تصور کرتے ہو‘ بلاشبہ ہم نےانہیں محمد کا مذاق اڑانے کے لیے نہیں کہا۔ اس کے جواب میں ایسوسی ایشن کے پچیس سرگرم ارکان میں سے بارہ نے آمادگی ظاہر کی‘۔

کارٹونوں کی اشاعت پر دنیا بھی کئی مسلمان ممالک میں زبردست احتجاج کیا گیا

فلیمنگ مزید لکھتے ہیں ’شاہی خاندان ہو یا عوامی شخصیات، طنز کی ہماری ایک اپنی روایت ہے اور اس کا اظہار ان کارٹونوں سے بھی ہوتا ہے۔ کارٹونسٹوں نے اسلام کے ساتھ بھی وہی رویہ روا رکھا ہے جو وہ عیسائییت، بدھ مت، ہندو مت اور دوسرے مذاہب کے ساتھ اختیار کرتے ہیں۔ اس طنز کے ذریعے انہوں نے ڈنمارک کے مسلمانوں سے برابری کا سلوک کر کے انہوں نے انہیں یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ ہم تمہیں ڈنمارک میں طنز کی روایت کا حصہ بنا رہے ہیں کیونکہ تم کوئی اجنبی نہیں ہماری سوسائٹی کا حصہ ہو۔ ان کارٹونوں نے مسلمانوں کو اپنے اندر سمویا ہے انہیں دھکیلا نہیں ہے۔

کارٹونوں میں مسلمانوں کو شر بنا کر یا گھسے پٹے انداز میں نہیں دکھایا گیا۔ یہ کارٹون پیغمبر یا جو بھی ان کا ہدف ہے اسے دکھانے میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ایک کارٹون میں جولین پوسٹن کا مذاق اڑایا گیا ہے اور اس میں اس کے کلچر ایڈیٹروں کو اشتعال پھیلانے والوں کا ٹولا دکھایا گیا ہے۔ ایک اور بچوں کے لیے لکھنے والے مصنف کو، جسے اپنی کتاب کے لیے مصور نہیں ملا تھا اس طرح دکھایا گیا ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے صرف سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے گیا۔ ایک اور میں دکھایا گیا ہے کہ اینٹی امیگریشن ڈینش پیپلز پارٹی کی سربراہ ایک قطار میں ایسے کھڑی ہے جیسے کوئی مشتبہ مجرم ہو۔

ایک کارٹون میں پیغمبر کو پگڑی میں بم کے ساتھ دکھایا گیا اور جس پر سب سے زیادہ متشدد ردِعمل ہوا ہے۔ ناراضگی کا اظہار کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس کارٹون میں یہ دکھایا گیا ہے کہ پیغمبر دہشت گرد تھے یا ہر مسلمان دہشت گرد ہے۔ جب کہ میں نے اس کا مطلب یہ لیا تھا کہ کچھ لوگوں نے پیغمبرِ کے نام پر دہشت گردانہ اقدام کر کے مذہب اسلام کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ یہی لوگ ہیں جنہوں نے مذہب کو بدنام کیا ہے۔یہ کارٹوں الہ دین کی کہانی کا تصور بھی تازہ کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ نارنگی جو پگڑی پر گر رہی ہے خوش بختی کی بھی علامت ہے۔ اس سے یہ بھی مطلب نکلتا ہے کہ بم پگڑی میں کہیں باہر سے آ کر گرا ہے اور پیغمبر کے کردار کی وراثت نہیں ہے۔


’بعینہ یہی وجوہ ہیں جن کی بنا پر کارل کوپر نے اپنی کتاب’کھلا معاشرہ اور اس کے دشمن‘ میں اصرار کیا ہے کہ غیر روادار کے ساتھ رواداری نہیں برتی جا سکتی۔ کسی بھی ایسے جمہوری معاشرے میں جہاں اظہار کی آزادی بنیادی حق نہ ہو اتنے سارے مذاہب ایک دوسرے کے ساتھ پُرامن طور پر موجود نہیں رہ سکتے۔ سعودی عرب میں صلیب پہننے پر یا بائیبل سوٹ کیس میں رکھنے پر آپ کو گرفتار کیا جا سکتا ہے لیکن سکیولر ڈنمارک میں مسلمانوں کی مساجد ہیں، قبرستان ہیں، سکول ہیں ٹی وی ہیں اور ریڈیو ہیں‘۔

فلیمنگ کہتے ہیں: ’میں اس کا اعتراف کرتا ہوں کہ کارٹونوں کی اشاعت سے کچھ لوگوں کے جذبات مجروح ہوئے ہوں گے۔ جولین پوسٹن نے اس کے لیے معافی مانگی ہے لیکن وہ کسی بھی طرح کے مواد کی اشاعت پر، یہاں تک کہ جارحانہ مواد کی اشاعت پر بھی معافی نہیں مانگ سکتے۔ اگر آپ اس طرح کی پریشانیوں سے مفلوج رہیں گے کہ کس چیز کی اشاعت سے ممکنہ طور پر کس کی توہین ہو سکتی ہے تو آپ اخبار کی ادارت نہیں کر سکتے‘۔

وہ کہتے ہیں ’مجھے بھی روزانہ ایسی ہی تکلیف سے گزرنا پڑتا ہے، اسامہ بن لادن کی تقریروں کے متن، ابو غریب کی تصاویر، لوگوں کے ایسے بیانات جن میں اسرائیل کو صفحۂ ہستی مٹانے پر اصرار کیا جاتا ہے اور کچھ لوگوں کا کہنا کہ مرگِ انبوہ (یورپ میں یہودیوں کی اجتماعی ہلاکتیں) ہوا ہی نہیں تھا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اگر وہ قانون کے دائرے اور اخبار کے ضابطۂ اخلاق کے خلاف نہیں تو انہیں شائع نہ کیا جائے۔ دوسرے مدیروں کا اس کے برخلاف مختلف فیصلے کرنا پلورل ازم یا کثرتیت کا جوہر ہے۔‘

فلیمنگ کے مطابق ’ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ میں جو کچھ ہوا ہے اس کا انہیں اندازہ بھی نہیں تھا لیکن ڈنمارک میں جولین پوسٹن کو ایک سو چار باقاعدہ دھمکیاں ملی ہیں، دس افراد کو گرفتار کیا گیاہے، کارٹونسٹوں کو روپوشی اختیار کرنی پڑی ہے، انہیں جان سے مارنے کی دھمکیں دی گئی ہیں اوربم کی دھمکیوں کے بعد جولین پوسٹن کے صدر دفاتر کو کئی بار خالی کرایا گیا ہے‘۔

’یہ تو وہ حالات نہیں ہیں جن سے سیلف سنسر شپ میں کمی کا ماحول پیدا ہو سکتا ہے‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد