ڈنمارک میں پِھر کارٹون تنازعہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈنمارک کے وزیر اعظم نے پیغمبر اسلام کے بارے میں نئے کارٹون بنائے جانے کی سخت تنقید کی ہے۔ یہ کارٹون ڈنمارک میں امیگریشن مخالف جماعت کے یوتھ ونگ نے بنائے ہیں۔ ملک کے وزیر اعظم نے بظاہر ایک سال قبل اسی طرح کے کارٹونوں کی اشاعت کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کو روکنے کے لیئے اس بار مداخلت کی ہے۔ ڈنمارک کی سیاسی جماعت ڈینش پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو ٹی وی پر متنازعہ کارٹون بناتے ہوئے دکھایا گیا تھا جن کی عالم اسلام میں مذمت کی گئی۔ ایران اور مصر کی تنظیم اخوان المسلمین نے کہا ہے کہ نئے کارٹون اسلام کی توہین کرتے ہیں۔ ایران نے اتوار کو ڈنمارک کی حکومت سے احتجاج کیا اور کہا کہ یہ بات قابل مذمت ہے کہ ان کے ملک میں ایسے انتہا پسند عناصر ہیں جنہوں نے ڈنمارک کے اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات خراب کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایک سال قبل بھی ایسے کارٹونوں کی اشاعت پر زبردست مظاہرے ہوئے تھے جن میں اسلامی ممالک میں پچاس سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے۔ ڈنمارک کے وزیر اعظم نے نئے کارٹونوں کو ناقابل قبول کہا اور ساتھ اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ ذرائع ابلاغ کو کنٹرول نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے کارٹون بنائے ہیں وہ ڈنمارک کے لوگوں کی اسلام اور مسلمانوں ڈنمارک میں بی بی سی کے نامہ نگار نے کہا کہ ملک میں مسلمان رہنماؤں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اس تازہ ترین واقعہ سے مشتعل نہیں ہوں گے۔ | اسی بارے میں ڈنمارک برآمدات کو شدید دھچکا09 September, 2006 | آس پاس ’پوپ کے الفاظ انتہائی خطرناک ہیں‘18 September, 2006 | آس پاس برطانیہ: کارٹون احتجاج پر مقدمات06 May, 2006 | آس پاس متنازع کارٹون: اشاعت، مقصد اور نتائج؟25 March, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||