ڈنمارک برآمدات کو شدید دھچکا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈنمارک میں حکام کا کہنا ہے کہ کارٹون تنازع کے باعث مسلم ممالک کے لیئے ڈنمارک کی برآمدات کو شدید دھچکا لگا ہے۔ مسلمانوں کا کہنا ہے کہ کارٹونوں کے ذریعے پیغمبر اسلام کی توہین کی گئی تھی۔ کئی مسلمان ممالک اور حلقوں کی جانب سے ڈنمارک کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کے باعث فروری سے لے کر جون تک ڈنمارک کی برآمدات میں ساڑھے پندرہ فیصد کمی واقع ہوئی ہے جبکہ مشرق وسطٰی کے ساتھ تجارت میں 50 فیصد کمی ہوئی ہے۔ ایک کی ڈینسک انڈسٹری کے سربراہ پیٹر تھیگسن کا کہنا ہے کہ اس بات میں شک نہیں کہ کاروبار میں مندی کی وجہ متنازعہ کارٹون ہی ہیں۔ ڈنمارک کے ایک اخبار میں گزشتہ سال ستمبر میں یہ کارٹون شائع کیئے گئے تھے جس کے بعد دنیا بھر کے مسلمانوں کی جانب سے اس پر شدید احتجاج کیا گیا تھا۔ جنوری میں کئی مسلم ممالک میں لوگوں نے اپنے غصے کا اظہار ڈنمارک کی اشیاء کا بائیکاٹ کرکے کیا تھا۔ ڈنمارک کے قومی اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب جانے والی برآمدات میں 40 فیصد کمی ہوئی جبکہ ایران کے لیئے، جوکہ ڈنمارک کی تیسری بڑی مارکیٹ تھی، ڈنمارک کی برآمدات 47 فیصد کم ہوگئیں۔ اسی طری لبیا، شام، سوڈان اور یمن کے ساتھ تجارت میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔ مختلف مصنوعات میں سب سے زیادہ خسارہ ڈیری مصنوعات کے شعبہ میں دیکھنے آیا۔ پیٹر تھیگسن کا کہنا ہے کہ تجارت میں ہونے والی مندی کا مکمل اندازہ ابھی تک نہیں لگایا جاسکا ہے اور سورتحال کی درست عکاسی کے لیئے مزید وقت درکار ہے۔ | اسی بارے میں کارٹون تنازع: ادیبوں کا انتباہ02 March, 2006 | آس پاس متنازع کارٹون: اشاعت، مقصد اور نتائج؟25 March, 2006 | آس پاس غیرملکی اخباروں کے خلاف مقدمہ25 April, 2006 | پاکستان گرفتار پاکستانی کی ہلاکت کی مذمت05 May, 2006 | پاکستان کارٹونوں کے معاملے پر تحمل کی اپیل04 February, 2006 | صفحۂ اول کارٹون:’سیاست کی اجازت نہیں‘ 28 February, 2006 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||