ڈینش وزیراعظم کا دورہ بھارت مؤخر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈنمارک کے وزیر اعظم اندش فاگ رسمیسن کے دورہ ہندوستان کو غیر معینہ مدت کے لیےمؤخر کردیا گیا ہے۔ ہندوستان کے ذرائع ابلاغ میں ان خبروں کے عام ہونے کے بعد کہ متنازعہ کارٹونوں کے سبب بھارتی حکومت نے ڈنمارک کے وزیراعظم اندش فاگ رسمیسن کو اپنے بھارت دورے کو ملتوی کرنے کی گزارش کی ہے، وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ چونکہ دورے کے لیے یہ وقت مناسب نہیں ہے اسی لیے یہ فیصلہ کرنا پڑا۔ ڈنمارک کے وزیراعظم دو اپریل کوہندوستان کے دورے پر آنے والے تھے۔ وزارت خارجہ کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ’دونوں ملکوں نے پایا کہ دورے کے لیے مجوزہ وقت مناسب نہیں تھا‘۔ بیان کےمطابق ہندوستان اور ڈنمارک مستقبل قریب میں اس دورے کے لیے پر امید ہیں۔ دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں ڈنمارک کے ساتھ اچھے رشتوں کا ذکر کرتے ہوئے انہیں مزید وسعت دینے کی بات کی ہے۔ پیغمبر اسلام کےمتنازعہ کارٹون پہلی بار ڈنمارک میں ہی شائع ہوئے تھے اور اس کے خلاف دنیا بھر کی طرح ہندوستان میں بھی زبردست احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے۔ ملک کے کئی بڑے اخبارات نے لکھا ہے کہ حکومت نےاس اندیشے کے پیش نظر کہ ڈنمارک کے وزیراعظم کے دورے سے ملک بھر میں متنازعہ کارٹوں کے خلاف دوبارہ احتجاج شروع ہوسکتا ہے اس دورے کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اخبار ٹائمز آف انڈیا نے لکھا ہے کہ تین روز قبل بھارت کے دفتر خارجہ نے خاموشی سے ڈنمارک کی حکومت سے مسٹر اندش فاگ کے’دورے کی تاریخ اوراوقات ازسرنو مرتب کرنے کو کہا تھا‘۔ اخبار کے مطابق اس دورے کو موخر کرنے کی تجویز بھارت کی حکومت نے دی تھی اور ڈنمارک نے وقت کا تقاضہ سمجھتے ہوئے اسے تسلیم کرلیاہے۔ ہندوستان ٹائمز نےلکھا ہے کہ دورہ پہلے سے طے تھا لیکن چونکہ اس کا اعلان نہیں کیا گیا تھا اس لیے دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی سطح پر کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔ ٹائمز آف انڈیا نے لکھا ہے کہ بائیں باوز کی جماعتوں نے امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے اور صدر بش کے دورے کے خلاف آواز بند کرکے منموہن سنگھ حکومت کے خلاف مسلمانوں کواکسایا ہے اور آئندہ ماہ پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اس لیے حکومت ایسا کچھ نہیں کرنا چاہتی جس سے مسلمانوں کے جذبات بھڑکیں اور مسلم رائے دہندگان کانگریس سے ناراض ہوجائیں۔ اخبار کے مطابق اس فیصلے کے پیچھے ووٹوں کی سیاست بھی کارفرما ہے۔ | اسی بارے میں کشمیر: کارٹونوں کے خلاف احتجاج07 February, 2006 | آس پاس کارٹون کی اشاعت پر ایڈیٹر گرفتار12 February, 2006 | آس پاس کارٹون تنازعہ، مغرب اور اسلامی دنیا کے روابط14 February, 2006 | آس پاس یہ کارٹون جعلی ہے: کارٹونِسٹ14 February, 2006 | آس پاس کارٹونسٹ کے قتل پر 51 کروڑ روپے18 February, 2006 | انڈیا کارٹون چھاپنے پر مدیر گرفتار24 February, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||