پاکستان پر کرزئی کا براہِ راست الزام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے پاکستان کی انٹیلیجنس ایجنسی کو براہِ راست افغان شدت پسندوں کے حالیہ حملوں کے پیچھے ہونے کا الزام دیا ہے۔ صدر حامد کرزئی نے براہِ راست کہا ہے کہ افغان شدت پسندوں کے حالیہ حملوں کے پیچھے پاکستان کی انٹیلیجنس ایجنسی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ان حملوں میں دارالحکومت کابل میں بھارتی سفارتخانے کے باہر ہونے والا خود کش حملہ بھی شامل ہے۔ کابل میں بھارتی سفارتخانے کے باہر ہونے والے اس حملے میں چالیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔ حامد کرزئی نے کہا کہ افغانستان اپنے دشمنوں کو بتانا چاہتا ہے کہ وہ اپنی عزت کی حفاظت کرے گا۔ افغان صدر نے پیر کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اب یہ واضح ہو چکا ہے اور ہم پاکستان حکومت سے کہا ہے کہ افغانستان میں لوگوں کی ہلاکت، افغانستان میں پُلوں کی تباہی پاکستانی انٹیلیجنس اور پاکستانکے فوجی محکمے کرا رہے ہیں‘۔ اس سے پہلے افغان حکام افغانستان میں ہونے والے حملوں کے حوالے سے پاکستان کی اینٹیلیجنس سروس پر درپردہ الزامات لگاتے رہے ہیں۔ پاکستان ان حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کرتا رہا ہے۔ اس سے پہلے افغان صدر حامد کرزئی بھارتی سفارتخانے کے باہر خود کش حملے کے بعد دھمکی دی تھی کہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے لیے افغان فوج کو بھی پاکستان بھیجا جا سکتا ہے۔ |
اسی بارے میں ’امداد افغان تعمیرِ نو پر خرچ کریں‘06 July, 2008 | آس پاس ’امریکی بمباری، 22 شہری ہلاک‘06 July, 2008 | آس پاس افغانستان: ہلاکتیں، متضاد اطلاعات05 July, 2008 | آس پاس قندھار:چوکی پر حملہ، آٹھ ہلاک04 July, 2008 | آس پاس جون اتحادی افواج کے لیے بھاری رہا02 July, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||