BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 07 July, 2008, 23:47 GMT 04:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دھماکہ، سلامتی کونسل کی مذمت
کابل دھماکہ
کار بم حملے میں کم از کم چالیس افراد ہلاک ہوئے
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کابل میں پیر کی صبح بھارتی سفارتخانے پر ہونے والے خودکش کار بم دھماکے کی شدید مذمت کی ہے جس میں چالیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ سلامتی کونسل نے ایک بیان میں کہا: ’کوئی بھی دہشت گردانہ کارروائی افغانستان میں امن، جمہوریت اور تعمیرِ نو کا کام نہیں روک سکتی ہے۔‘

بیان کے مطابق پندرہ رکنی سلامتی کونسل کے ممبر ممالک نے حملے کی ’سخت الفاظ میں مذمت کی‘ اور طالبان، القاعدہ اور دیگر غیرقانونی گروہوں سے ہونے والے خطرات پر تشویش کا اظہار کیا۔

امریکہ اور یورپی یونین نے بھی بھارتی سفارتخانے پر ہونے والے حملے کی مذمت کی ہے۔ امریکی صدر جارج بش کے ترجمان نے جاپان میں جی ایٹ اجلاس کے دوران کہا کہ اس مشترکہ دشمن کے خلاف امریکہ افغانستان اور بھارت کے عوام کے ساتھ ہے۔ برسلز میں یورپی یونین نے بھی اس حملے کی مذمت کی ہے۔

بھارتی سفارتخانے پر خودکش کار بم حملے میں کم از کم چالیس افراد ہلاک اور ایک سو چالیس سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ بھارتی وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں افغانستان میں تعینات بھارتی فوجی اتاشی، ایک سینئر بھارتی سفارتکار اور تین دیگر بھارتی شہری بھی شامل ہیں۔

افغان صدر حامد کرزئی نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے بھارت اور افغانستان کے دوستانہ تعلقات کو نقصان پہنچانے کی کوشش قرار دیا ہے۔

کابل میں مقامی پولیس حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ خود کش حملہ پیر کی صبح شہر کے مرکزی علاقے میں واقع بھارتی سفارتخانے پر اس وقت ہوا جب ایک حملہ آور نے بارود سے لدی کار سفارتخانے کے دروازے سے ٹکرا دی۔

حملے میں اطلاعات کے مطابق سفارت خانے کی دوگاڑیاں بھی تباہ ہوئی ہیں
اس حملے میں بھارتی سفارتخانے کی دو گاڑیاں بھی تباہ ہوئی ہیں۔ یہ سفارتخانہ افغان وزارتِ داخلہ کی عمارت کے نزدیک واقع ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق خودکش حملہ آور نے ممکنہ طور پر ان افراد کو نشانہ بنایا ہے جو بھارتی سفارتخانے سے ویزا لینے کے لیے جمع تھے۔

دھماکے کے بعد ایمبولینسوں کو زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے اور پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔ دھماکے کے وقت جائے حادثہ پر اخبار فروخت کرنے والے عبدالرزاق نے بی بی سی کو بتایا کہ’ مجھے کچھ محسوس نہیں ہو رہا۔ میں نے عمارتوں کے شیشے ٹوٹتے دیکھے اور پھر سارا علاقہ ایمبولینسوں، پولیس اور ایساف کے فوجیوں سے بھر گیا۔‘

ایک اور افغان شخص علی حسن فہیمی کا کہنا ہے کہ دھماکہ خیز مواد کے کچھ ٹکڑے ان کے دفتر میں آ کر گرے جو جائے وقوعہ کے نزدیک واقع ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دھماکہ ’بہت طاقتور تھا۔ ہمارے دفتر میں سب دنگ رہ گئے۔‘

کابل میں بی بی سی کے نمائندے مارٹن پیشنس کا کہنا ہے کہ اگرچہ طالبان نے اپنے حملے تیز کرنے کا اعلان کیا ہوا ہے تاہم ابھی تک کسی گروپ نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

یہ اس علاقے میں ہونے والا دوسرا خودکش حملہ ہے۔ اس سے قبل دسمبر 2006 میں ایک خودکش حملہ آور نے افغان وزارتِ داخلہ کی عمارت کو نشانہ بنایا تھا اور اس میں بارہ افراد ہلاک اور 42 زخمی ہوئے تھے۔ اس دھماکے کے بعد علاقے میں مزید سکیورٹی چیک پوسٹیں اور حفاظتی بیریئر لگا دیے گئے تھے۔

کابل میں بم دھماکہ
خودکش حملہ آور کا نشانہ بھارتی سفارتخانہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد