دھماکہ، سلامتی کونسل کی مذمت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کابل میں پیر کی صبح بھارتی سفارتخانے پر ہونے والے خودکش کار بم دھماکے کی شدید مذمت کی ہے جس میں چالیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ سلامتی کونسل نے ایک بیان میں کہا: ’کوئی بھی دہشت گردانہ کارروائی افغانستان میں امن، جمہوریت اور تعمیرِ نو کا کام نہیں روک سکتی ہے۔‘ بیان کے مطابق پندرہ رکنی سلامتی کونسل کے ممبر ممالک نے حملے کی ’سخت الفاظ میں مذمت کی‘ اور طالبان، القاعدہ اور دیگر غیرقانونی گروہوں سے ہونے والے خطرات پر تشویش کا اظہار کیا۔ امریکہ اور یورپی یونین نے بھی بھارتی سفارتخانے پر ہونے والے حملے کی مذمت کی ہے۔ امریکی صدر جارج بش کے ترجمان نے جاپان میں جی ایٹ اجلاس کے دوران کہا کہ اس مشترکہ دشمن کے خلاف امریکہ افغانستان اور بھارت کے عوام کے ساتھ ہے۔ برسلز میں یورپی یونین نے بھی اس حملے کی مذمت کی ہے۔ بھارتی سفارتخانے پر خودکش کار بم حملے میں کم از کم چالیس افراد ہلاک اور ایک سو چالیس سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ بھارتی وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں افغانستان میں تعینات بھارتی فوجی اتاشی، ایک سینئر بھارتی سفارتکار اور تین دیگر بھارتی شہری بھی شامل ہیں۔ افغان صدر حامد کرزئی نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے بھارت اور افغانستان کے دوستانہ تعلقات کو نقصان پہنچانے کی کوشش قرار دیا ہے۔ کابل میں مقامی پولیس حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ خود کش حملہ پیر کی صبح شہر کے مرکزی علاقے میں واقع بھارتی سفارتخانے پر اس وقت ہوا جب ایک حملہ آور نے بارود سے لدی کار سفارتخانے کے دروازے سے ٹکرا دی۔
دھماکے کے بعد ایمبولینسوں کو زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے اور پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔ دھماکے کے وقت جائے حادثہ پر اخبار فروخت کرنے والے عبدالرزاق نے بی بی سی کو بتایا کہ’ مجھے کچھ محسوس نہیں ہو رہا۔ میں نے عمارتوں کے شیشے ٹوٹتے دیکھے اور پھر سارا علاقہ ایمبولینسوں، پولیس اور ایساف کے فوجیوں سے بھر گیا۔‘ ایک اور افغان شخص علی حسن فہیمی کا کہنا ہے کہ دھماکہ خیز مواد کے کچھ ٹکڑے ان کے دفتر میں آ کر گرے جو جائے وقوعہ کے نزدیک واقع ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دھماکہ ’بہت طاقتور تھا۔ ہمارے دفتر میں سب دنگ رہ گئے۔‘ کابل میں بی بی سی کے نمائندے مارٹن پیشنس کا کہنا ہے کہ اگرچہ طالبان نے اپنے حملے تیز کرنے کا اعلان کیا ہوا ہے تاہم ابھی تک کسی گروپ نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ یہ اس علاقے میں ہونے والا دوسرا خودکش حملہ ہے۔ اس سے قبل دسمبر 2006 میں ایک خودکش حملہ آور نے افغان وزارتِ داخلہ کی عمارت کو نشانہ بنایا تھا اور اس میں بارہ افراد ہلاک اور 42 زخمی ہوئے تھے۔ اس دھماکے کے بعد علاقے میں مزید سکیورٹی چیک پوسٹیں اور حفاظتی بیریئر لگا دیے گئے تھے۔ |
اسی بارے میں ’امداد افغان تعمیرِ نو پر خرچ کریں‘06 July, 2008 | آس پاس ’امریکی بمباری، 22 شہری ہلاک‘06 July, 2008 | آس پاس افغانستان: ہلاکتیں، متضاد اطلاعات05 July, 2008 | آس پاس قندھار:چوکی پر حملہ، آٹھ ہلاک04 July, 2008 | آس پاس جون اتحادی افواج کے لیے بھاری رہا02 July, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||