سفارتخانے پر حملہ بزدلانہ: انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان نے کابل میں اپنے سفارت خانے پر حملے کو ایک بزدلانہ حرکت قرار دیا ہے اور کہا کہ اس طرح کی دہشتگردی کی کاروائیوں سے ہندوستان کو اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں سے نہیں روکا جا سکتا ہے۔ وزیر خارجہ پرنب مکھرجی نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے بتایا کہ اس واقعہ میں ایک بریگیڈیر اور ایک قونصلر سمیت سفارت خانے میں چار ہندوستانی ہلاک ہوئے ہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ زخمیوں میں کئی کی حالت نازک ہے اور ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا’حکومت اس بہیمانہ حملے میں ہلاک ہونے والے ہندوستانی اور تمام دیگر افراد کے خاندانوں کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کرتی ہے۔‘ انہوں نے بتایا کہ ایک خصوصی ٹیم کابل بیھجی جاری ہے۔’ وزارت خارجہ کے اہلکار نلن سوری کی قیادت میں ایک خصوصی ٹیم کابل میں ہندوستانی مشن میں ایمرجینسی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے فوراً کابل بھیجی جا رہی ہے۔‘
چند مہینے قبل افغانستان میں ہندوستان کے بارڈر آرگنائزیشن کے دو انجینئروں کو بھی ایک بم حملے ميں ہلاک کر دیاگيا تھا۔ وہ ایک سڑک پروجیکٹ میں کام کر رہے تھے۔اس حملے کے لیے طالبان کا نام لیا گيا تھا۔ افغانستان میں تعمیر نو اور ترقیاتی کاموں کے مختلف ترقیاتی منصوبوں میں تقریباً تین ہزار ہندوستانی کام کر رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت نے آج کے حملے کے لیے کسی کا نام نہیں لیا ہے جبکہ بعض ٹی وی چینل نامعلوم ذرائع کے حوالے سے اس حملے میں پاکستان کی خفیہ ایجینسی آئی ایس آئی کا نام لے رہے ہیں۔ دلی میں مامور امریکی سفیر ڈیوڈ میلفرڈ نے اس واقعہ پر افسوس ظاہر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا ’ہندوستان اور امریکہ افغانستان میں جمہوریت کے قیام کے لیے ساتھ ساتھ کھڑے ہيں۔ اور اس طرح کے دہشت گردانہ حملوں سے دنیا میں دہشتگردی کو شکست دینے کے دونوں ملکوں کا عزم مزید پختہ ہوگا۔‘ ادھر حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے ہندوستانی سفارت خانے پر حملے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ سابق وزیر خارجہ جسونت سنگھ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان حملوں سے ثابت ہوتا ہے کہ حکومت اپنے شہریوں کی حفاظت کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی ہے۔ | اسی بارے میں بھارتی سفارتخانے پر حملہ، چالیس ہلاک07 July, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||