فرار طالبان محفوظ ہیں: طالبان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغان طالبان کا کہنا ہے کہ جمعہ کی شب قندھار جیل سے ایک کارروائی کے دوران فرار ہونے والے تقریباً چار سو طالبان کو محفوط مقامات پر پہنچا دیا گیا ہے جبکہ مستقبل میں بھی افغان اور غیرملکی افواج کے خلاف اس قسم کےنئے عسکری حربے آزمائے جائیں گے۔ افغان طالبان کے ترجمان قاری یوسف احمدی نے افغانستان کے ایک نامعلوم مقام سے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ جمعہ کی شب قندھار جیل پر ہونے والی کارروائی کی منصوبہ بندی پہلے ہی سے کی گئی تھی جو کہ ان کی جانب سے ’عبرت‘ کے نام سے شروع کی جانے والی کارروائیوں کا حصہ تھی۔ ان کے مطابق جیل سے فرار ہونے والے تقریباً چار سو طالبان کو کارروائی میں حصہ لینے والے ان کے ساتھیوں نے محفوظ مقامات تک پہنچا دیا ہے اور ابھی تک کسی کو بھی دوبارہ گرفتار نہیں کیا جاسکا ہے۔ان کے بقول’اس کارروائی میں جن ساتھیوں نے حصہ لیا تھا وہ اپنا سر ہتھیلی پر رکھ کر نکل گئے تھے اور ہمارے لیے خود بھی یہ بات باعث حیرت ہے کہ اس منصوبے کو کس کامیابی کے ساتھ اپنے انجام کو پہنچایا گیا۔‘ قاری یوسف کا مزید کہنا تھا کہ جیل کے داخلی دروازے میں ایک ٹینکر میں کیے جانے والے دھماکہ میں اٹھارہ سو کلو گرام آتش گیر مادے کا استعمال کیا گیا تھا۔ان کے مطابق جیل میں داخل ہوتے ہی لاؤڈ اسپیکروں پر قیدی طالبان کے لیے یہ اعلان کیا گیا کہ’چلو آزادی کی طرف چلو، ظالموں سے نجات کا وقت ختم ہوگیا ہے۔‘ قاری یوسف سے پوچھا گیا کہ فرار ہونے والے طالبان میں کوئی خاص کمانڈر یا رہنماء شامل ہے تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سردست اس بارے میں اس لیے کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ ہم نے سب سے پہلے انہیں محفوظ مقام پر پہنچانا تھا۔ تاہم انہوں نے کہا: ’ہمیں اس قسم کی غیرمصدقہ اطلاعات ملی ہیں کہ ان میں بعض ایسے طالبان جنگجو بھی شامل ہیں جنہیں قندھار کے گورنر نے مبینہ طور پر پھانسی کی سزا سنائی تھی۔‘ ان کے مطابق ’ قندھار جیل فوجی اڈہ اور دیگر اہم حکومتی دفاتر کے قریب واقع ہے اور طالبان نے اس قدر شدید اورمنظم انداز میں یہ کارروائی کی کہ قندھار کچھ دیر کے لیے طالبان کے کنٹرول میں چلا گیا تھا۔‘ انہوں نے مزید بتایا کہ افغانستان میں موجود افغا ن اور غیرملکی افواج کے خلاف طالبان آپریشن’ عبرت‘ کے نام سے شروع کی جانے والی کاروائیوں کے سلسلے میں مستقبل میں بھی اس قسم کے نئے عسکری حربوں کا استعمال کیا جائے گا۔ | اسی بارے میں قندھارجیل پر حملہ، 340 طالبان فرار14 June, 2008 | آس پاس طالبان کی دھمکی، درجنوں سکول بند23 May, 2008 | آس پاس طالبان، پشاور کے لیے سکیورٹی پلان 14 June, 2008 | پاکستان افغانستان میں نیٹو کے دو فوجی ہلاک16 April, 2008 | آس پاس ٹانک:پولیس چوکی پرطالبان کا حملہ08 June, 2008 | پاکستان 24 طالبان، دو بھارتی انجینیئر ہلاک 12 April, 2008 | آس پاس سرحدمیں چھ طالبان کو رہا کر دیا گیا07 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||