ننگرہار پر حملہ ہم نے کیا، طالبان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی طالبان نے پہلی مرتبہ افغانستان میں کسی کاروائی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمعہ کے روز صوبہ ننگرہار میں غیر ملکی افواج پر ہونے والا مبینہ خودکش حملہ باجوڑ سے تعلق رکھنے والے ان کے ایک ساتھی نے کیا ہے۔ طالبان نے دعوی کیا کہ یہ حملہ چودہ مئی کو باجوڑ کے ڈمہ ڈولہ کے علاقے میں واقع ایک گھر پر ہونے والے میزائل حملےکے جواب میں کیا گیا ہے۔ پاکستانی فوج نے کہا تھا کہ حملہ امریکہ نے کیا تھا جس میں چودہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی کو فون کرکے بتایا کہ جمعہ کی صبح افغانستان کے صوبہ ننگرہار میں غیر ملکی افواج کے قافلے پر مبینہ خود کش حملہ باجوڑ سے تعلق رکھنے والے انیس سالہ’ قاری سلیمان‘ نے کیا تھا جس میں ان کے دعوی کے مطابق پندرہ غیر ملکی فوجی مارے گئے تھے۔ افغان حکومت کا کہنا ہے کہ جمعہ کو غیر ملکی افوا ج کے قافلے پر ہونے والا یہ حملہ صوبہ ننگر ہار کے مارکو کے علاقہ میں پیش آیا تھا جس میں چار غیر ملکی فوجی زخمی ہوگئےتھے۔یہ علاقہ پاک افغان سرحد پر واقع طورخم سے تقریباً پینتیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ طالبان ترجمان کے مطابق اس حملے کے بعد طالبان نے امریکیوں سے انتقام لینے کی غرض سے چھ خودکش بمبار افغانستان بھیج دیئے تھے جن میں قاری سلیمان نامی انیس سالہ نوجوان بھی شامل تھا۔ ان کے بقول قاری سلیمان باجوڑ کے لوئی سم علاقےکا رہائشی ہے جس نے بقول ان کے ڈمہ ڈولہ پر ہونے والے امریکی حملے کے بعد خود کو خود کش حملے کے لیے پیش کردیا تھا۔
اس سوال کے جواب میں کہ پاکستانی طالبان کی جانب سے غیر ملکی افواج پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے سے کیا افعان حکومت اور امریکہ کے ان دعؤوں کو تقویت نہیں ملے گی کہ امن معاہدوں کے بعد سرحد پار سے افغانستان میں ان کے افواج پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے تو مولوی عمر کا کہنا تھا کہ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ کسی بھی طالب کو قتل کرنے والے سے بدلہ لیا جائے گا چاہے وہ پاکستانی فوج ہو یا امریکی۔ طالبان کے اس بیان کے بارے میں جب پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس سلسے میں وزارتِ خارجہ یا وزارتِ داخلہ سے بات کرنے کا مشورہ دیا تاہم وزارت خارجہ اور امور داخلہ کے ترجمان سے کوششوں کے باوجود رابطہ نہ ہوسکا۔ دوسری طرف افغان طالبان کا موقف جاننےکے لیے جب قاری یوسف احمدی اور ذبیح اللہ مجاہد سے بات کرنے کی کوشش کی گئی تو ان کا فون بند آرہا تھا۔ مبصرین کا خیال ہے کہ پاکستانی طالبان کی جانب سے سرحد پار غیر ملکی افواج پر مبینہ حملے کی ذمہ داری قبول کرنے سے پاکستان کی حکومت پر امریکہ، نیٹو اور افغان حکام کی طرف سے دباؤ بڑھ جائے گا جنہوں نے پہلے ہی سے طالبان اور حکومت کے درمیان ہونے والے معاہدوں پر تحفطات کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ کہا ہے کہ امن معاہدوں سے سرحد پار دہشت گردی میں اضافہ نہیں ہوگا بلکہ اس کا مقصد ملک کے اندر امن و امان کا قیام ہے ۔ | اسی بارے میں محفوظ ٹھکانوں پر امریکی تشویش24 May, 2008 | پاکستان درہ آدم خیل میں بھی’جنگ بندی‘28 May, 2008 | پاکستان سرحدمیں چھ طالبان کو رہا کر دیا گیا07 June, 2008 | پاکستان ’اب بھی فضل اللہ کا ساتھ دیں گے‘07 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||