عبدالحئی کاکڑ بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور |  |
 | | | طالبان نے دھمکی دی تھی کہ اگر ان کے ساتھیوں کو سنیچر تک رہا نہیں کیا تو حکومت کے ساتھ ہونے والا امن معاہد ہ خطرے میں پڑ سکتا ہے |
صوبہ سرحد کی حکومت نے سوات کے طالبان کے ساتھ ہونےوالے معاہدے کے مطابق پہلے مرحلے میں آپریشن کے دوران گرفتار ہونے والے چھ طالبان کو رہا کیا ہے۔ جمعہ کو طالبان نے دھمکی دی تھی کہ اگر ان کے ساتھیوں کو سنیچر تک رہا نہیں کیا تو حکومت کے ساتھ ہونے والا امن معاہد ہ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ سوات کے ضلعی رابطہ آفسر شوکت یوسف زئی نے بی بی سی کو بتایا کہ معاہدے کے مطابق سنیچر کوضلع دیر میں واقع تیمرگرہ جیل سے طالبان کے ساتھیوں کو رہا کردیا گیا ہے اور اس سلسلے میں مزید افراد کو پیر اور منگل کو رہا کیا جائے گا۔ سوات سے طالبان کے ترجمان مسلم خان نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پہلے مرحلے میں ان کے پندرہ ساتھیوں کو رہا کیا جانا تھا تاہم کچھ قانونی پیچیدگیوں کیوجہ سے سنیچر کو صرف آٹھ افراد کی رہائی کے احکاما ت جاری کیے گئے۔ تیمرگرہ میں جیل حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے سنیچر کی شام چھ افراد کو رہا کردیا ہے جبکہ باقی تین کو اس لیے رہانہیں کیا جاسکا ہے کیونکہ ان کی بعض کیسوں میں ضمانت نہیں ہوسکی ہے۔ جن طالبان کو رہا کیا گیا ہے ان میں شیر علی، جان محمد، ایوب، فداحسین، رحمان الملک اور دوست محمد شامل ہیں۔ طالبان ترجمان مسلم خان نے قیدیوں کی رہائی کے عمل کو سُست قراردیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ حکومت ان کے ساتھیوں کے خلاف دائر مقدمات کو ختم کرنے کے عمل میں تیزی کا مظاہرے کرے۔انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے اب بھی ستتر کے قریب ساتھی حکومت کی تحویل میں ہیں۔ طالبان اور حکومت کے درمیان طے پانے والے معاہدے میں یہ طے پا یا تھا کہ آپریشن کے دوران گرفتار ہونے والے تمام افراد کو رہا کیا جائے گا اور اس سلسلے میں پہلے مرحلے میں جمعہ کو پندرہ افراد کے رہائی کافیصلہ کیا گیا تھا تاہم اس پر عملدرآمد نہیں ہوسکا تھا۔ |