پاکستان کی سرزمین سے طالبان کے حملے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وفاقی حکومت اور بالخصوص صوبہ سرحد کی حکومت ملک میں امن و امان کی صورتحال کو نہ صرف بہتر بلکہ اس کو برقرار بھی رکھنے کے لیے طالبان کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے۔ لیکن صوبہ سرحد کے قبائلی علاقوں کو لے کر پاکستان کے سامنے اصل دشواری پاکستان میں مبینہ طالبان کے کیے گئے حملے نہیں ہیں بلکہ بڑا چیلنج یہ ہے کہ پاکستان کی سر زمین سے افغانستان میں حملے بھی بند کیے جائیں۔ حکومت کی طالبان کے ساتھ بات چیت کوئی نئی بات نہیں ہے اور نہ ہی ان دونوں کے بیچ کسی قسم کا معاہدہ۔ اگر نئی چیز ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ پہلے فوج نے معاہدے کیے اور اب ایک سیاسی جماعت جو کہ جمہوری نظام کا حصہ ہے، طالبان کے ساتھ کسی سمجھوتے پر پہنچنے کی خواہشمند ہے جس کے نتیجے میں ملک میں امن و امان ہو جائے۔ ان معاہدوں میں بھی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ پہلے بھی قبائلی علاقوں میں تعینات سکیورٹی فورسز پر حملے نہ کرنے، غیرملکیوں کو پناہ نہ دینے، دہشت گردی میں ملوث افراد کو پناہ نہ دینے جیسی شرائط پر معاہدے ہوئے اور موجودہ حکومت بھی کم و بیش انہی شرائط کے ساتھ طالبان کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے۔ ان مذاکرات کے بارے میں صوبہ سرحد کے کئی سیاسی رہنماء یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ پاکستان میں امن چاہتے ہیں اور اس کے لیے ناگزیر ہے کہ طالبان کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت سے امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا جائے۔ مگر پچھلی حکومت کی طرح موجودہ حکومت بھی اس مسئلے کے ایک ہی پہلو پر غور و فکر کر رہی ہے اور اس کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی کوششوں میں مصروف ہے اور وہ پہلو پاکستان کا داخلی پہلو ہے۔ لیکن ستمبر دو ہزار ایک میں امریکہ پر حملے کے بعد دنیا میں شدت پسندی کسی بھی ملک کا داخلی معاملہ نہیں رہا بلکہ عالمی مسئلہ بن گیا ہے۔ یہ مسئلہ ان ممالک کے لیے اور بھی سنگین ہے جن کے ملک سے دوسرے ملک کو ہدف بنایا جارہا ہو۔ اس ضمن میں پاکستان پر بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ دہشت گردی کی روک تھام کے لیے عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کرے۔ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے قرارداد 1373 اٹھائیس ستمبر دو ہزار ایک میں منظور کی تھی جس کے تحت تمام ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ مل کر دہشت گردی کی روک تھام کے لیے کام کریں۔ اسی قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ تمام ممالک اپنے ملک میں دہشت گردی کی مالی امداد اور تیاری کو روک کر عالمی کوششوں کی مدد کریں۔ کوئی ملک بھی کسی دوسرے ملک میں دہشت گردی کرنے کا متحمل نہیں ہو گا اور نہ ہی اس کی اجازت دے گا۔ اور یہ کہ کوئی ملک ایسے لوگوں کو پناہ نہیں دے گا جو دہشت گردی میں مالی امداد، منصوبہ بندی، مدد یا خود دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث ہیں۔ اسی قرارداد میں عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ دہشت گردی میں مالی امداد، منصوبہ بندی، مدد یا خود دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث افراد کو کوئی ملک اپنی زمین کا استعمال نہیں کرنے دے گا۔ اور ہر ملک ایسے افراد کے خلاف کارروائی کرے گا۔ اسی قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ ممالک ایک دوسرے سے دہشت گردی کے حوالے سے تعاون کریں گے اور نگرانی کے لیے کاؤنٹر ٹیریرازم کمیٹی (سی ٹی سی) بھی تشکیل دی گئی ہے۔ اکثر پاکستانی تجزیہ کار وزیرستان کے مسئلے کو سری لنکا، مسئلہ فلسطین یا آئرلینڈ سے ملاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ان ممالک میں مسئلہ بات چیت سے حل ہو سکتا ہے تو وزیرستان کا کیوں نہیں۔ لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ سری لنکا یا فلسطین یا آئرلینڈ کی صورتحال پاکسستان کے قبائلی علاقوں سے مختلف ہیں۔ ان ممالک سے کسی دوسرے ملک پر حملوں کی منصوبہ بندی یا پھر دہشت گردی کے اقدام نہیں کیے جاتے جبکہ جہاں تک پاکستان کے قبائلی علاقوں کا تعلق ہے تو وہاں سے افغانستان میں کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں سے افغانستان میں کارروائیوں کے حوالے سے طالبان کے ترجمان مولوی عمر کہہ چکے ہیں کہ تحریک طالبان ایک ’جہادی تنظیم‘ ہے اور وہ ’جہاد‘ کو ایک مقدس اسلامی فریضہ سمجھتے ہوئے اس سے دستبردار ہونے کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ حکومت پاکستان کے ساتھ جاری رہنے والی بات چیت میں اس نکتے کو ہرگز زیر بحث نہیں لایا جائے گا کہ طالبان افغانستان میں موجود اتحادی افواج کے خلاف مزاحمت میں حصہ نہیں لیں گے۔ لاہور میں واقع بین الاقوامی قانون کی تنظیم ریسرچ سوسائٹی فار انٹرنیشنل لاء کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بیرسٹر تیمور ملک کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی قرارداد 1373 کے تحت قائم ہوئی سی ٹی سی مختلف ممالک میں جاتی ہے اور قرارداد کے حوالے سے ان ممالک کے عملی اقدامات کو دیکھتی ہے۔ اور سی ٹی سی کی ٹیم نے پچھلے سال پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ کمیٹی یہ دیکھتی ہے کہ ایک ملک اس قرارداد پر عمل نہیں کر رہا تو اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل اس ملک کے خلاف کارروائی کر سکتی ہے۔ آرٹیکل 41 ایس کے تحت غیر فوجی آپشن میں مکمل یا جزوی معاشی تعلقات کا خاتمہ یا سفارتی تعلقات کا خاتمہ جبکہ آرٹیکل 42 ایس کے تحت فوجی آپشن میں بری، بحری یا فضائی کارروائی شامل ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت پاکستان اسی طرح قبائلی علاقوں سے پیدا ہونے والی صورتحال کے داخلی پہلو ہی کو دیکھتی رہی اور بین الاقوامی قانون کے تحت اس پر عائد ذمہ داری کو نظر انداز کرتی رہی تو اقوام متحدہ اس قرارداد کی خلاف ورزی کے پیش نظر پاکستان کے خلاف قدم اٹھا سکتی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ پاکستان نوشتہ دیوار پڑھے۔ | اسی بارے میں ’طالبان کے تحت وانا میں امن‘15 April, 2008 | پاکستان وزیرستان:’سینکڑوں ہلاک، ہزاروں بےگھر‘18 April, 2008 | پاکستان ’مقامی طالبان کے ہاتھوں تین ہلاک‘19 April, 2008 | پاکستان جنوبی وزیرستان میں فوجیوں پر حملہ05 May, 2008 | پاکستان ٹانک، وانا شاہراہ دوبارہ بند 08 May, 2008 | پاکستان ’طالبان معاہدوں سے حملوں میں اضافہ‘14 May, 2008 | پاکستان حکومت، طالبان: قیدیوں کا تبادلہ14 May, 2008 | پاکستان تئیس طالبان، چھ اہلکاروں کی رہائی16 May, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||