BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 May, 2008, 14:56 GMT 19:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حکومت، طالبان: قیدیوں کا تبادلہ

 طالبان(فائل فوٹو)
کابل میں پاکستان کے سفیر بھی گزشتہ دو ماہ سے لاپتہ ہیں
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کی تحصیل رزمک میں حکومت اور محسود قبائل کے جرگے نے ایک دوسرے کے قیدیوں کا تبادلہ کیا ہے۔ افغانستان میں پاکستان کے مغوی سفیر رہا ہونے والوں میں شامل نہیں۔

مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ بدھ کو شمالی وزیرستان کی تحصیل رزمک میں حکومت اور محسود قبائل کے ایک جرگے نے قیدیوں کو ایک دوسرے کے حوالے کیا۔

جشن
 مکین میں جشن کا سماں ہے اور لوگ گھروں سے باہر سڑکوں پر کھڑے ہیں
فاروق
انہوں نے کہا کہ جرگے نے سکیورٹی فورسز کے بارہ اہلکاروں کو مقامی انتظامیہ تک پہنچایا اور حکومت نے بیت اللہ محسود گروپ کے بتیس مقامی طالبان کو جرگے کے حوالے کردیا۔انہوں نے کہا کہ محسود قبائل کے جرگے کے ساتھ بات چیت میں حکومت کی جانب سے گورنر ہاؤس پشاور کے اہلکار شامل تھے۔

مقامی لوگوں کے مطابق طالبان کے رہا ہونے والے بتیس ساتھیوں کو رزمک سے جنوبی وزیرستان کی تحصل مکین تک جلوس کی شکل میں لایا گیا۔ مکین میں موجودہ ایک شخص فاروق نے بی بی سی کو بتایا کہ مکین میں جشن کا سماں ہے اور لوگ گھروں سے باہر سڑکوں پر کھڑے ہیں۔

حکام کے مطابق طالبان کی طرف سے رہائی پانے والے قیدیوں میں افغانستان میں پاکستان کے سفیر طارق عزیزالدین شامل نہیں ہیں۔ انہیں فروری میں پشاور سے افغانستان جاتے ہوئے خیبر ایجنسی سے اغواء کیا گیا تھا۔ مقامی طالبان کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایاکہ طالبان کی جانب سے رہا ہونے والوں میں شامل تمام لوگ سکیورٹی فورس کے اہلکار تھے۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق اس مرحلے کے بعد جنوبی وزیرستان میں بعض علاقوں سے فوج کی واپسی شروع ہو جائے گی۔

یاد رہے کہ حکومت اور محسود قبائل کے دو سرکردہ افراد ملک اکرام الدین اور امیر محمد کے کامیاب مذکرات کے بعد قیدیوں کے تبادلے میں محسود جرگے کو شامل کیا گیا تھا۔ بیت اللہ گروپ کے تیس طالبان کو گزشتہ روز ڈیرہ اسماعیل خان سنٹرل جیل سے ایک ہیلی کاپیٹر کے ذریعے وانا زیڑی نور میں فوجی کالونی منتقل کردیاگیا تھا۔اس کے بعد انہیں شمالی وزیرستان کے تحصیل رزمک لے جایا گیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد