حکومت، طالبان: قیدیوں کا تبادلہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کی تحصیل رزمک میں حکومت اور محسود قبائل کے جرگے نے ایک دوسرے کے قیدیوں کا تبادلہ کیا ہے۔ افغانستان میں پاکستان کے مغوی سفیر رہا ہونے والوں میں شامل نہیں۔ مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ بدھ کو شمالی وزیرستان کی تحصیل رزمک میں حکومت اور محسود قبائل کے ایک جرگے نے قیدیوں کو ایک دوسرے کے حوالے کیا۔
مقامی لوگوں کے مطابق طالبان کے رہا ہونے والے بتیس ساتھیوں کو رزمک سے جنوبی وزیرستان کی تحصل مکین تک جلوس کی شکل میں لایا گیا۔ مکین میں موجودہ ایک شخص فاروق نے بی بی سی کو بتایا کہ مکین میں جشن کا سماں ہے اور لوگ گھروں سے باہر سڑکوں پر کھڑے ہیں۔ حکام کے مطابق طالبان کی طرف سے رہائی پانے والے قیدیوں میں افغانستان میں پاکستان کے سفیر طارق عزیزالدین شامل نہیں ہیں۔ انہیں فروری میں پشاور سے افغانستان جاتے ہوئے خیبر ایجنسی سے اغواء کیا گیا تھا۔ مقامی طالبان کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایاکہ طالبان کی جانب سے رہا ہونے والوں میں شامل تمام لوگ سکیورٹی فورس کے اہلکار تھے۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق اس مرحلے کے بعد جنوبی وزیرستان میں بعض علاقوں سے فوج کی واپسی شروع ہو جائے گی۔ یاد رہے کہ حکومت اور محسود قبائل کے دو سرکردہ افراد ملک اکرام الدین اور امیر محمد کے کامیاب مذکرات کے بعد قیدیوں کے تبادلے میں محسود جرگے کو شامل کیا گیا تھا۔ بیت اللہ گروپ کے تیس طالبان کو گزشتہ روز ڈیرہ اسماعیل خان سنٹرل جیل سے ایک ہیلی کاپیٹر کے ذریعے وانا زیڑی نور میں فوجی کالونی منتقل کردیاگیا تھا۔اس کے بعد انہیں شمالی وزیرستان کے تحصیل رزمک لے جایا گیا تھا۔ | اسی بارے میں سفیر کی رہائی، طالبان کی شرائط20 April, 2008 | پاکستان تیسں طالبان کی رہائی متوقع13 May, 2008 | پاکستان وزیرستان: طالبان کو کروڑوں کی ادائیگی29 April, 2008 | پاکستان ’اصل جہاد تو افغانستان میں ہے‘01 May, 2008 | پاکستان ’ایف سی کے اہلکار اغواء اور رہائی‘ 08 May, 2008 | پاکستان جرگہ: لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی 09 May, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||