BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 08 May, 2008, 11:41 GMT 16:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ایف سی کے اہلکار اغواء اور رہائی‘

ایف سی اہلکار(فائل فوٹو)
اس واقعہ کے بعد مختلف جگہوں پر سکیورٹی اہلکاروں کو بھاری تعداد میں تعینات کردیا گیا ہے جبکہ طالبان بھی مورچہ زن ہیں:مولوی عمر
پاکستان میں باجوڑ ایجنسی میں اطلاعات کے مطابق جمعرات کی صبح یرغمال بنائے جانے والے فرنٹیئر کور کے کئی اہلکاروں میں سے کچھ کو جرگے کے ذریعے رہا کرا لیا گیا ہے۔

مقامی عسکریت پسندوں کی تنظیم نے دعویٰ کیا تھا کہ باجوڑ ایجنسی میں فرنٹیر کور کے ایک قافلے کو مقامی طالبان نے تقریباً تیس 30 اہلکاروں، اسلحے اور گاڑیوں سمیت یرغمال بنا لیا ہے۔ تاہم بعد ازاں ایک جرگہ کے توسط سے چند اہلکاروں کو آزاد کردیا گیا جبکہ اسلحہ اور گاڑیاں بدستور عسکریت پسندوں کے قبضے میں ہے۔

مقامی ذرائع نے ایف سی اہلکاروں کے یرغمال بنائے جانے کی تصدیق کی ہے جبکہ فوجی ترجمان نے بھی جنگجوؤں کی طرف سے ایف سی کا قافلہ روکے جانے کی تصدیق کی ہے تاہم مزید تفصیلات بتانے سے انکار کیا ہے۔

جنگ بندی اور طالبان
 حکومت کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ ختم ہونے کے بعد وہ جنگ بندی پر قائم رہنے کی کوشش کررہے ہیں تاہم مختلف علاقوں میں طالبان جنگجوؤں کو کارروائیوں سے روکنا مشکل دیکھائی دیتا ہے
مولوی عمر
جمعرات کو تحریکِ طالبان پاکستان کے ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ گزشتہ روز باجوڑ ایجنسی میں فرنٹیر کور کا ایک قافلہ پاک افغان سرحد پر جا رہا تھا کہ سالارزئی تحصیل میں عسکریت پسندوں نے قافلے کو گھیرے میں لے کر تقریباً تئیس کے قریب فرنٹیئر کور کے اہلکاروں کو یرغمال بنایا۔ انہوں نے کہا کہ شدت پسندوں نے چار گاڑیاں اور بڑی تعداد میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی قبضہ میں لیا ہے۔

ترجمان کے مطابق ’فرنٹیئر کور کا قافلہ اجازت لیے بغیر طالبان کے علاقے سے گزررہا تھا اس لیے ان کے خلاف کارروائی کی گئی۔ ’انہوں نے کہا کہ بعد ازاں ایک مقامی جرگہ کے توسط سے چوبیس کے قریب سکیورٹی اہلکاروں کو آزاد کرا لیا گیا تاہم چھ ایف سی اہلکار، چار گاڑیاں اور اسلحہ بارود بدستور عسکریت پسندوں کے قبضے میں ہے‘۔

مولوی عمر نے کہا کہ اس واقعہ کے بعد حکومت نے مختلف جگہوں پر سکیورٹی اہلکاروں کو بھاری تعداد میں تعینات کردیا ہے جبکہ طالبان جنگجو بھی علاقے میں مورچہ زن ہوگئے ہیں۔

اس سلسلے میں پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے رابطہ کرنے پر بی بی سی کو اس بات کی تو تصدیق کی کہ گزشتہ روز عسکریت پسندوں نے پاک افغان سرحد جانے والے سکیورٹی اہلکاروں کے ایک قافلے کو روکا تھا تاہم مزید تفصیل دینے سے معذوری ظاہر کی۔

مقامی لوگوں کا کہنا کہ اس واقعہ کے بعد سالارزئی تحصیل میں صورتحال کشیدہ ہوگئی ہے اور فریقین ایک دوسرے کے خلاف مورچہ زن ہیں۔

مولوی عمر نے وزیرستان، بنوں اور سوات میں ہونے والے حالیہ حملوں کی ذمہ داری براہ تو قبول نہیں کی البتہ انہوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ ختم ہونے کے بعد وہ جنگ بندی پر قائم رہنے کی کوشش کررہے ہیں تاہم مختلف علاقوں میں طالبان جنگجوؤں کو کارروائیوں سے روکنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بات چیت معطل ہونے کے بعد تاحال حکومت سے کوئی رابط نہیں ہوا ہے۔ واضح رہے کہ تقریباً دو ہفتے قبل بیت اللہ محسودکی قیادت میں قائم تحریک طالبان پاکستان نے حکومت پاکستان کے ساتھ ہر قسم کے امن مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان کے بعد وزیرستان، بنوں اور سوات میں سکیورٹی اہلکاروں اور سرکاری املاک پر حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اسی بارے میں
کرم: یرغمالی رہا، کرفیو جاری
11 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد