کرم: یرغمالی رہا، کرفیو جاری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں متحارب گرہوں کی جانب سے یرغمال بنائے جانے والے اٹھائیس 28 افراد کو جرگے کی توسط سے آزاد کرادیا گیا ہے۔ دوسری طرف علاقے میں کرفیو بدستور نافذ ہے اور تمام تعلیمی ادارے اور سرکاری دفاتر گزشتہ تین ہفتوں سے بند ہیں۔ مرکزی شاہراہ بھی پانچ دن سے ہر قسم کے ٹریفک کےلیے بند ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ کرم ایجنسی میں سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ پانچ دن قبل لوئر کرم کے علاقے صدہ میں پارہ چنار جانے والی ایک مسافر گاڑی پر نامعلوم افراد کی طرف سے فائرنگ کی گئی تھی جس میں ڈرائیور ہلاک ہوا تھا جبکہ گاڑی میں سوار سات افراد کو نامعلوم افراد کی طرف سے یرغمال بنایا گیا تھا۔ بعد میں اس واقعہ کے ردعمل میں پارہ چنار میں بھی مختلف علاقوں سے اکیس افراد کو یرغمال بنایا گیا۔ تاہم سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ گورنر سرحد کی طرف سے تشکیل کردہ اورکزئی اور ہنگو قبائل کے مشران پر مشتمل جرگہ اور مقامی عمائدین کی کوششوں سے ان لوگوں کو پیر کی شام غیر مشروط طورپر آزاد کرالیا گیا۔
ایک سرکاری اہلکار نے بتایا کہ یرغمال بنائے گئے تمام افراد رہائی کے بعد اپنے اپنے علاقوں کو پہنچ گئے ہیں۔ علاقے میں کشیدگی کی وجہ سے کرفیو بدستور نافذ ہے۔ پیر کو پارہ چنار میں چار دن کے مسلسل کرفیو کے بعد مقامی انتظامیہ کی جانب سے پہلی بار کرفیو میں چار گھنٹوں کی نرمی دی گئی۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کرفیو میں نرمی کے دوران بازاروں میں غیر معمولی رش دیکھنے میں آیا اور زیادہ تر لوگ راشن اور روزمرہ کےاستعمال کی اشیاء خریدتے رہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق مرکزی ٹل پارہ چنار شاہراہ کے بند ہونےکی وجہ سے علاقے میں کھانے پینے کی اشیاء کی قلت بھی پیدا ہوگئی ہے۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹل پارہ چنار سڑک سولہ نومبر کی جھڑپوں کے بعد کھول دی گئی تھی۔ تاہم صدہ میں مسافر گاڑی پر فائرنگ کے واقعہ کے بعد یہ سڑک ایک بار پھر ہر قسم کے ٹریفک کے لیے بند کردی گئی ہے۔ کرم ایجنسی میں تقریباً چار ہفتوں سے تمام تعلیمی ادارے اور سرکاری دفاتر بھی بند ہیں۔ اس سال یہ دوسری دفعہ ہوا ہے کہ کرم ایجنسی میں کشیدگی کے باعث تمام تعلیمی ادارے اور سرکاری دفاتر ایک لمبے عرصے سے بند ہیں۔ اس سے قبل اس سال اپریل کے مہینے میں بھی کرم ایجنسی میں تشدد کے واقعات کی وجہ سے تعلیمی ادادے تقریباً ایک ماہ تک بند رہے تھے۔ ادھر گورنر سرحد کی طرف سے تشکیل کردہ ہنگو اور اورکزئی ایجنسی کے شیعہ اور سنی عمائدین پر مشتمل جرگہ کی طرف سے علاقے میں باضابطہ فائربندی کےلیے کوششیں جاری ہیں۔ واضح رہے کہ سولہ نومبر کو پارہ چنار میں فرقہ وارانہ فسادات شروع ہوئے تھے جس میں حکومت کے مطابق سو افراد ہلاک جبکہ ڈیڑھ سو سے زائد زخمی ہوگئے تھے ۔تاہم مقامی لوگوں نے لڑائی میں مرنے والوں کی تعداد ایک سو بیس اور زخمیوں کی ڈیڑھ سو سے زائد بتائی تھی۔ |
اسی بارے میں پارہ چنار: چوالیس افراد کی تدفین21 November, 2007 | پاکستان کرم ایجنسی، سڑکیں ابھی تک بند25 November, 2007 | پاکستان شورش زدہ علاقے، انتخابی امیدوار07 December, 2007 | پاکستان کرم ایجنسی: اغواء، حالات کشیدہ07 December, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||