پارہ چنار: چوالیس افراد کی تدفین | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قبائلی علاقے کرم ایجسنی میں بدھ کو ان چوالیس افراد کو سپرد خاک کردیا گیا جو سنی اور شیعہ مسالک کے ماننے والوں کے درمیان گزشتہ کئی دنوں تک جاری رہنے والی لڑائی کے دوران مارے گئے تھے۔ جبکہ دوسری طرف لوئر کرم میں چھٹے روز بھی فریقین کے درمیان لڑائی جاری رہی جس میں ایک شخص کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔ فریقین کے درمیان مصالحت کرانے کی غرض سے سرگرم سولہ رکنی جرگے کے ایک رکن پیر حیدر علی شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ جنگ بندی کے بعد منگل کے روز مختلف مقامات سے جمع کی گئیں چوالیس افراد کی لاشوں کو بدھ کی شام کو پارہ چنار میں سنیوں کے قبرستان میں دفنا دیا گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جنازے میں سولہ رکنی جرگے کے ارکان کے علاوہ بعض دیگر افراد نے بھی شرکت کی اور اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔انکے بقول ان افراد کو امانتاً دفنایا گیا ہے اور انکی شناخت کے لیے قبروں پر انکے نام لکھ دیئے گئے ہیں تاکہ بعد میں ورثاء کو اس بارے مکمل معلومات ہو۔ پیر حیدر شاہ کے بقول اہل تشعیع کے ہلاک ہونے والے افراد کو پہلے ہی دفنا دیا گیا ہے۔انکے مطابق بدھ کو پارہ چنار شہر میں کسی قسم کی کوئی فائرنگ نہیں ہوئی ہے۔ دوسری طرف لوئر کرم میں بدھ کی شام کو آخری اطلاعات آنے تک چھٹے روز بھی فریقین کے درمیان فائرنگ جاری تھی اور وہ ایک دوسرے کے خلاف مارٹر گولوں، راکٹ لانچروں اور میزائلوں کو آزادانہ استعمال کررہے تھے۔ اطلاعات کے مطابق بدھ کو حکومت نے فریقین کو جنگ بندی پر رضا مند کرا لیا تھا اور اس سلسلے میں بالش خیل کے مقام پر واقع زیارت نامی مورچہ خالی کرانے کے لیے جب فوج اور بعض قبائلی عمائدین آگے بڑھ رہے تھے کہ ان پر حملہ ہوا جسکے نتیجے میں ایک شخص ہلاک ہوگیا جس کے بعد فوج واپس لوٹ آئی۔ سرکاری ذرائع کے مطابق لڑائی سے بچ نکلنے میں کامیاب ہونے والے تقریباً نو سو افراد حکومت کی پناہ میں ہیں جن میں پانچ سو بچے اور تین سو خواتین بھی شامل ہیں جنہیں فرنٹیر کور کے ایک کیمپ میں رکھا گیاہے۔ ادھر بدھ کو لڑائی کے دوران شدید زخمی ہونیوالے متعدد افراد کو چھ روز کے بعد طبی امداد فراہم کرنے کے لیےایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے پارہ چنار سے پشاور منتقل کردیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ جمعہ کی نماز کے بعد پارہ چنار بازار میں نامعلوم افراد کی فائرنگ کے بعد فرقہ ورانہ لڑائی شروع ہوگئی تھی جس میں حکومت کے مطابق سو افراد ہلاک جبکہ ڈیڑھ سو سے زائد زخمی ہوگئے۔تاہم مقامی لوگ مرنے والوں کی تعداد ایک سو بیس جبکہ زخمیوں کی ڈیڑھ سو سے زائد بتا رہے ہیں۔ چھ اپریل کو کرم ایجنسی میں مذہبی جلوس کے مسئلے پر فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات پھوٹ پڑے تھے جس میں سرکاری اعداد وشمار کے مطابق 84 ہلاک اور درجنوں افراد زخمی ہوئے تھے جبکہ آزاد اور مقامی ذرائع نے ہلاک شدگان کی تعداد ڈیڑھ سو کے قریب بتائی تھی۔ | اسی بارے میں فرقہ وارانہ تشدد میں اڑتیس ہلاک17 November, 2007 | پاکستان کرم ایجنسی میں فرقہ وارانہ فسادات16 November, 2007 | پاکستان کرفیومیں نرمی، مذاکرات میں تاخیر15 April, 2007 | پاکستان کرم: فائر بندی کی کوشش اور ہلاکتیں12 April, 2007 | پاکستان پارا چنار:’ہم بھوکے مر جائیں گے‘10 April, 2007 | پاکستان فرقہ واریت کے بعد سکیورٹی سخت26 April, 2007 | پاکستان کالعدم مذہبی تنظیم کے رہنما گرفتار08 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||