BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 16 November, 2007, 16:26 GMT 21:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کرم ایجنسی میں فرقہ وارانہ فسادات

اپریل میں بھی کرم ایجنسی میں فرقہ وارانہ تشدد ہوئے تھے
قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں سنی اور شیعہ مسالک کے ماننے والوں کے درمیان سات ماہ کی جنگ بندی کے بعد جمعہ کوایک بار پھر شدید لڑائی شروع ہوگئی ہے جس میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

حکام نے کرم ایجنسی کے صدر مقام پاڑہ چنار میں غیرمعینہ مدت تک کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ فوج کےجوانوں کو شہر کی طرف روانہ کر دیا گیا ہے۔

کرم ایجنسی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب جمعہ کی صبح پاڑہ چنار بازار میں بعض نامعلوم افراد نے اچانک فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

مقامی حکام نے تازہ لڑائی کی تصدیق کی ہے تاہم انہوں نے ہلاک یا زخمی ہونے کے بارے میں کچھ بتانے سے گریز کیا ہے۔ پولٹیکل انتظامیہ نے حالات پر قابو پانے کے لیے علاقے میں کرفیو کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔

تاہم کرفیو کے باوجود آخری اطلاعات تک فریقین کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری تھا۔ حکام کے بقول لڑائی کے دوران فریقین ایک دوسرے کے خلاف بھاری ہھتیاروں کا آزادانہ استعمال کر رہے ہیں۔

مقامی لوگوں کے مطابق لڑائی کے شروع ہونے کے ساتھ ہی لوگوں نے دکانیں بند کردیں۔ انکے مطابق فریقین کے درمیان اس وقت کشیدگی شروع ہوئی تھی جب جمعرات کو ایک مسجد پر حملہ کیا گیا جس میں دو افراد زخمی ہوگئے تھے۔

مقامی لوگوں نے پولٹیکل انتظامیہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے سات ماہ قبل فریقین کے درمیان ہونے والے خونریز جھگڑے کے بعد فرقہ وارانہ ہم آہنگی بحال کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں اٹھائے ہیں۔

واضح رہے کہ چھ اپریل کو کرم ایجنسی میں مذہبی جلوس کے مسئلے پر فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات پھوٹ پڑے تھے جس میں سرکاری اعداد وشمار کے مطابق 84 ہلاک اور درجنوں افراد زخمی ہوئے تھے جبکہ آزاد اور مقامی ذرائع ہلاک شدگان کی تعداد ڈیڑھ سو کے قریب بتا رہے ہیں۔

ان فسادات کے نتیجے میں کرم ایجسنی میں کئی ہفتوں تک کرفیو نافذ رہی جو فریقین کے درمیان ہونے والے ایک امن معاہدے کے بعد اٹھالیا گیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد