BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 12 April, 2007, 04:40 GMT 09:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدہ میں جنگ بندی، حالات بدستور کشیدہ

فائل فوٹو
صدہ میں متحارب گروپوں میں لڑائی درجنوں لوگ زخمی ہو گئے
پاکستان کے قبائلی علاقے لوئر کرم کے صدرمقام صدہ میں فوج نےعارضی جنگ بندی کرا دی ہے تاہم علاقے میں حالات بدستور کشیدہ ہے۔

صدہ اور بالش خیل کے علاقوں میں منگل کی رات فریقین کے مابین شدید لڑائی ہوئی جس میں مقامی لوگوں کے مطابق دونوں جانب سے بیس کے قریب لوگ ہلاک ہوگئے ہیں۔


ہنگو کے علاقے دوابہ سے صدہ کے راستے میں مقامی قبائلیوں نے اپنے گھروں کے سامنے عارضی قسم کے چیک پوسٹیں بنائی ہوئی تھیں جس میں لوگوں کی تلاشی اور ان کے شناختی کارڈ چیک کئے جاتے ہیں۔

ٹل پارچنار سڑک بند ہونے کی وجہ سے صدہ جانے والی تمام ٹریفک تورہ آوڑی کے راستے جا رہی ہے۔

اس پہاڑی راستے پر ہر گاؤں اور علاقے میں مسلح جوان ، بچے اور بوڑھے ہنگو سے پبلک ٹرانسپورٹ یا نجی گاڑیوں میں سوار لوگوں کوغور سے دیکھتے ہیں۔

 صدہ بازار
صدہ بازار میں میزائیل داغے گئے

کچھ گھروں کے سامنے لوگوں نے سبیلیس لگائی ہوئی تھیں جس میں لوگوں کو پانی اور شربت بھی پلایا جاتا ہے۔

صدہ سے ایمبولیس اور نجی گاڑیوں میں لاشیں اور زخمیوں کو لے کر ہنگو ، کوہاٹ اور پشاور لے جاتی نظر آتی ہیں۔

صدہ پہنچے والے ہر شخص کو بارود کی بو محسوس ہوتی ہے۔ پہاڑی علاقوں میں مختلف جگہوں پر بھاری اسلحے کے استعمال سے آگ لگی ہوئی ہے۔ سب سے زیادہ لوگ صدہ ہسپتال کے اندر اور آس پاس کے علاقوں میں دیکھے گئے ہیں جو زخمیوں کے ساتھ آئے ہوئے تھے۔

صدہ ، جس کی آبادی بیس ہزار افراد کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے، میں ایک بڑا بازار بھی ہے جو جنگ کی وجہ سے مکمل طور پر بند ہے۔ صدہ گاؤں کے علاوہ بازار میں بھی مختلف جگہوں پر میزائل اور مارٹر توپ کے گولے گرے ہیں جس سے وہاں پر گڑے پڑگئے ہیں جبکہ کچھ میزائل دوکانوں کو بھی لگے ہیں۔

صدہ زخمی
صدہ میں مقامی لوگوں میں جھگڑے میں بیس افراد ہلاک ہو گئے

بازار میں موجود ایک دوکاندار نے بتایا کہ مارٹر کا گولہ اس کے دوکان پر آکرگرا ہے جس سے وہاں پر موجود تمام سامان خاکستر ہوگیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ لڑائی میں لوگوں کا کروڑوں روپے کا نقصان ہوا ہے حکومت کو چاہیے کہ دوکانداروں کو معاوضہ دیں۔

مقامی لوگوں میں اس بات پرشدید نارضگی پائی جاتی ہے کہ حکومت نے فریقین کے مابین عارضی جنگ بندی کرانے کےلیے فوجی کاروائی میں دیر کیوں کی ہے۔

کئی لوگوں نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت پہلے ہی دن یہ کاروائی کرتی تواتنے جانوں کا ضیاع نہ ہوتا۔

زخمیوں کے بیانات
’کرم ایجنسی میں بڑے پیمانے پر لڑائی‘
’ ہم مر جائیں گے‘
پارا چنار میں کرفیو سے راشن و ادویات کی کمی
کراچی کے بس میں شیعہ فرقے کے افراد پر حملہفرقہ واریت کیوں؟
فرقہ وارانہ تنظیموں پر پابندی کارآمد ہے؟
فسادات جاری ہیں
کرم ایجنسی فسادات میں درجنوں ہلاک
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد