فرقہ وارانہ تشدد میں اڑتیس ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں سنی اور شیعہ مسالک کے ماننے والوں کے درمیان سات ماہ کی جنگ بندی کے بعد جمعہ کو شروع ہونے والی لڑائی سنیچر کو بھی بدستور جاری ہے اور مقامی انتظامیہ کے مطابق لڑائی کے دوران کم سے اڑتیس افراد ہلاک جبکہ نوّے سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔ کرم ایجنسی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق جمعہ کی نماز کے بعد صدر مقام پاڑہ چنار اور آس پاس کے علاقوں میں شروع ہونے والی لڑائی کے دوران فریقین ایک دوسرے کے خلاف مارٹرگولوں اور راکٹ لانچروں کا آزادانہ استعمال کر رہے ہیں۔غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق اس لڑائی میں ایف سی کے کم سے کم پانچ اہلکار ہلاک اور سات زخمی ہوئے ہیں۔ ہسپتال ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ اب تک نوّے سے زائد افراد کو طبی امداد کے لیے لایا گیا ہے۔ ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ رات بھر پاڑہ چنار اور آس پاس کے علاقوں میں شد ید لڑائی جاری رہی۔اسکے بقول’ فریقین ایک دوسرے کے گھروں پر بھاری ہھتیاروں سے حملے کر رہے ہیں جبکہ پاڑہ چنار بازار میں واقع کئی دکانوں سے آگ کے شعلے اٹھ رہے ہیں۔ہم نے پوری رات جاگ کر گزاری ہے اور شہر سے نکلنے کےتمام راستے بند ہوگئے ہیں۔‘ حکومت نے حالات پر قابو پانے کے لیے جمعہ کوکرفیو کے نفاذ کا اعلان کرتے ہوئے سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو شہر میں داخل ہونے کے لیے روانہ کردیا تھا مگر لڑائی کی شدت کی وجہ سے فوجی جوان چوبیس گھنٹے گزرنے کے باوجود شہر میں داخل ہونے میں کا میاب نہیں ہوئے ہیں۔ تاہم سنیچر کی صبح پاڑہ چنار پر دو گن شپ ہیلی کاپٹروں کی پرواز کے بعد لڑائی کی شدت میں کمی واقع ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ کرم ایجنسی کے پولٹیکل ایجنٹ ڈاکٹر فخرالعالم نے بی بی سی کو بتایا: ’گن شپ ہیلی کاپٹر جنگ زدہ علاقوں کے اوپر پروازیں کر رہے ہیں۔ دوسری طرف پاڑہ چنار کو جانے والے تمام راستوں کی بندش کے سبب مقامی لوگوں کو سخت دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ اسکول بند ہیں اور بجلی کا نظام درہم برہم ہوگیا ہے۔ ہسپستال ذرائع کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کے انکے پاس سہولیات ناکافی ہیں اور ایجنسی ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں اس وقت بارہ آسامیوں کے خالی ہونے کی وجہ سےصرف ایک سرجن ہی فرائص انجام دے رہاہے۔ واضح رہے کہ جمعہ کی نماز کے بعد پاڑہ چنار بازار میں نامعلوم افراد کی فائرنگ کے بعد فرقہ ورانہ لڑائی شروع ہوگئی تھی۔مقامی لوگوں کے مطابق جمعرات کو نامعلوم افراد نے مسجد سے نکلنے والے دو افراد کو گولی مار کر زخمی کردیا تھا جسکے بعد فریقین کے درمیان کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔ چھ اپریل کو کرم ایجنسی میں مذہبی جلوس کے مسئلے پر فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات پھوٹ پڑے تھے جس میں سرکاری اعداد وشمار کے مطابق 84 ہلاک اور درجنوں افراد زخمی ہوئے تھے جبکہ آزاد اور مقامی ذرائع ہلاک نے شدگان کی تعداد ڈیڑھ سو کے قریب بتائی تھی۔ ان فسادات کے نتیجے میں کرم ایجسنی میں کئی ہفتوں تک کرفیو نافذ رہی جو فریقین کے درمیان ہونے والے ایک امن معاہدے کے بعد اٹھالیا گیا تھا۔ | اسی بارے میں کرم ایجنسی میں فرقہ وارانہ فسادات16 November, 2007 | پاکستان کرفیومیں نرمی، مذاکرات میں تاخیر15 April, 2007 | پاکستان کرم: فائر بندی کی کوشش اور ہلاکتیں12 April, 2007 | پاکستان پارا چنار:’ہم بھوکے مر جائیں گے‘10 April, 2007 | پاکستان فرقہ واریت کے بعد سکیورٹی سخت26 April, 2007 | پاکستان کالعدم مذہبی تنظیم کے رہنما گرفتار08 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||