ہارون رشید بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | ضلع سوات میں فوج نے کنٹرول حاصل کرلیا ہے |
پاکستان کے انتخابی کمیشن کا کہنا ہے کہ صوبہ سرحد کے شورش زدہ ضلع سوات اور قبائلی علاقوں کرم ایجنسی اور شمالی وزیرستان میں تین سو سے زائد افراد نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔ کمیشن کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق صوبہ سرحد کے شورش زدہ ضلع سوات اور قبائلی علاقوں کرم ایجنسی اور شمالی وزیرستان میں تین سو سے زائد امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔ ان علاقوں میں مخصوص حالات کی وجہ سے کاغذات جمع کرانے کی تاریخ میں چھ دسمبر تک توسیع کر دی گئی تھی۔  | شریف برادران کی اپیل  ادھر اطلاعات ہیں کہ مسلم لیگی رہنماؤں نواز شریف اور شہباز شریف نے چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ قاضی فاروق کو نظرثانی کی درخواست دی ہے۔  |
سوات اور شانگلہ سے قومی اسمبلی کی دو اور صوبائی اسمبلی کی سات نشستوں کے لیے دو سو تیرہ جبکہ کرم ایجنسی کی دو قومی اسمبلی کی نشستوں کے لیے تریسٹھ اور شمالی وزیرستان کی قومی اسمبلی کی واحد نشست کے لیے پچیس امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔ انتخابی کمیشن کے سیکٹری کنور دلشاد کے مطابق ان کاغذات کی جانچ پڑتال سات اور آٹھ دسمبر کو ہوگی جبکہ ریٹرننگ افسروں کے فیصلوں کے خلاف اپیل بارہ دسمبر تک موصول کی جاسکیں گی۔ ان علاقوں میں امن عامہ کی خراب صورتحال کی وجہ سے انتخابات مقررہ وقت پر ہوتے دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ لیکن اب سوات میں فوجی پیش رفت، کرم میں جنگ بندی اور شمالی وزیرستان میں قدرے خاموشی کی وجہ سے شاید یہ انتخابات وقت پر ہوسکیں۔ ادھر اطلاعات ہیں کہ مسلم لیگی رہنماؤں نواز شریف اور شہباز شریف نے چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ قاضی فاروق کو نظرثانی کی درخواست دی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر کے بنیادی اختیارات کے تحت دائر درخواست میں نواز شریف اور شہباز شریف نے موقف اختیار کیا ہے کہ ان کے کاغذات بغیر کسی وجہ کے مسترد کیے گئے ہیں۔ انتخابی کمیشن کے سیکٹری کنور دلشاد کنور دلشاد نے مسلم لیگ کی جانب سے فیکس موصول ہونے کی تصدیق کی لیکن اس کے متن کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا۔ مسلم لیگی رہنماؤں نے ان کے کاغذات نامزدگی کے مسترد ہونے کے خلاف ہائی کورٹ کے ججوں پر مشتمل ٹریبیونل کے سامنے اپیل کرنے سے انکار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ عبوری حکم نامے کے تحت حلف لینے والے ان ججوں سے انصاف کی توقع نہیں ہے۔ |