کرم ایجنسی، سڑکیں ابھی تک بند | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں فریقین کے مابین فائربندی ہوئے ایک ہفتہ گزرچکا ہے لیکن مرکزی ٹل پارہ چنار شاہراہ بدستور بند ہے جسکی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ دوسری طرف ایجنسی سے ملحق واقع ضلع ہنگو میں بھی خوف وہراس کے باعث ہنگو کوہاٹ روڈ گزشتہ ایک ہفتہ سے عام ٹریفک کےلیے بند ہے۔ کرم ایجنسی کے صدر مقام پارہ چنار سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق مرکزی ٹل پارہ چنار شاہراہ گزشتہ دس دنوں سے عام ٹریفک کےلیے بند ہے جس سے علاقے میں کھانے پینے کی اشیاء کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔ علاقے میں گزشتہ ایک ہفتے سے بغیر کسی نرمی کے کرفیو نافذ ہے جبکہ زیادہ تر علاقوں میں بجلی کی سپلائی بھی بند ہے۔ پولیٹکل ایجنٹ کرم ایجنسی ظہیر الااسلام نے بی بی سی کو بتایا کہ کل سے علاقے میں فوجی قافلوں کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے جس میں سامان سے بھری ہوئی گاڑیوں اور لوگوں کو سکیورٹی فورسز کی حفاظت میں پارہ چنار سے ٹل پہنچایا جارہا ہے اور وہاں سے بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ ان کے مطابق علاقے میں حالات آہستہ آہستہ معمول پر آرہے ہیں جبکہ پارہ چنار شہر میں کرفیو کے نفاذ کے بعد علاقہ مکمل طورپر فوج اور سکیورٹی فورسز کے کنٹرول میں ہے۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ سرحد گاؤں پیواڑ اور گیدو میں فریقین وقفے وقفے سے ایک دوسرے کے مورچوں پر بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کررہے ہیں تاہم سرکاری اہلکار نے ان اطلاعات کی سختی سے تردید کی۔ ادھر کرم ایجنسی سے ملحق ضلع ہنگو میں بھی خوف وہراس کی وجہ سے مرکزی ہنگو کوہاٹ شاہراہ گزشتہ ایک ہفتہ سے عام ٹریفک کےلیے بند ہے جس کے باعث مقامی لوگ سخت مشکلات سے دوچار ہیں۔ ہنگو سے ملنے والی اطلاعات میں عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مرکزی سڑک کی بندش کی وجہ سے لوگ پہاڑی اور دشوار گزار راستوں سے کوہاٹ اور دوسرے علاقوں میں پہنچ رہے ہیں۔ یہ پہلی دفعہ ہے کہ کرم ایجنسی میں فرقہ وارانہ لڑائی کے اثرات ملحقہ علاقوں پر بھی پڑے ہیں۔ واضح رہے کہ سولہ نومبر کو پارہ چنار بازار میں نامعلوم افراد کی فائرنگ کے بعد فرقہ ورانہ لڑائی شروع ہوگئی تھی جس میں حکومت کے مطابق سو افراد ہلاک جبکہ ڈیڑھ سو سے زائد زخمی ہوگئے۔تاہم مقامی لوگ مرنے والوں کی تعداد ایک سو بیس جبکہ زخمیوں کی ڈیڑھ سو سے زائد بتا رہے ہیں۔ اس سے قبل اس سال چھ اپریل کو بھی کرم ایجنسی میں مذہبی جلوس کے مسئلے پر فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات پھوٹ پڑے تھے جس میں سرکاری اعداد وشمار کے مطابق 84 ہلاک اور درجنوں افراد زخمی ہوئے تھے جبکہ آزاد اور مقامی ذرائع نے ہلاک شدگان کی تعداد ڈیڑھ سو کے قریب بتائی تھی۔ |
اسی بارے میں فاٹا کے ایم این اے ناراض05 October, 2007 | پاکستان کُرم ایجنسی میں ہلاکتوں میں اضافہ18 November, 2007 | پاکستان باجوڑ بم دھماکہ، قبائلی سربراہ ہلاک16 August, 2007 | پاکستان ’ہر طرف لاشیں بکھری پڑی ہیں‘19 November, 2007 | پاکستان کرم ایجنسی میں فرقہ وارانہ فسادات16 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||