BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باجوڑ بم دھماکہ، قبائلی سربراہ ہلاک

فائل فوٹو
واقعہ جمعرات کی دوپہر ڈیڑھ بجے باجوڑ کے صدر مقام خار میں پیش آیا (فائل فوٹو)
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ میں ایک بم حملے میں قبائلی سربراہ نوابزادہ شمس الوہاب زخمی ہو نے کے بعد ہسپتال میں دم توڑ گئے ہیں۔ دھماکے میں ان کے ڈرائیور سمیت تین دیگر افراد زخمی ہوئے تھے ۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ان کے ڈرائیور کو باجوڑ سے پشاور منتقل کیا جا رہا تھا کہ وہ بھی زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ گئے ہیں۔

دوسری طرف کرم ایجنسی میں حکام کو ایک سربریدہ لاش ملی ہے جس سے مبینہ طور پر امریکہ کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں قتل کیا گیا ہے۔

نوابزادہ شمس الوہاب باجوڑ کے سابق نواب اور رکن قومی اسمبلی مرحوم عبدالسبحان خان کے بیٹے اور باجوڑ کے موجودہ رکن قومی اسمبلی شہاب الدین خان کے قریبی رشتہ دار ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق رکن قومی اسمبلی شہاب الدین خان نے بتایا ہے کہ نوابزادہ شمس الوہاب ہسپتال میں دم توڑ گئے ہیں۔

اس سے قبل پولٹیکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ جمعرات کی دوپہر ڈیڑھ بجے باجوڑ کے صدر مقام خار میں اس وقت پیش آیا جب نوابزادہ شمس الوہاب اپنی گاڑی میں گھر جا رہے تھے کہ ایک زوردار دھماکہ ہوا۔ دھماکے میں وہ اور انکے ڈرائیور شدید زخمی اور گاڑی میں سوار ان کے دو نوکر معمولی زخمی ہوگئے تھے۔ تاہم عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یہ ریموٹ کنٹرول بم کا ایک دھماکہ تھا۔

زخمیوں کو باجوڑ کے ڈسٹرکٹ ہسپتال منتقل کردیا گیا تھا جہاں دو افراد کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد فارغ کر دیا گیا تھا

قبائلی علاقوں میں امریکہ کے لیے جاسوسی کے الزام میں مقامی اور افغان باشندوں کو قتل کرنے کا سلسلہ جاری ہے

دوسری طرف اطلاعات کے مطابق قبائلی علاقے لوئر کرم ایجنسی کے تحصیل علی خیل میں حکام کو ایک شخص کی سر بریدہ لاش ملی ہے جس سے مبینہ طور پر امریکہ کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں قتل کیا گیا ہے۔

کرم ایجنسی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق حکام کو یہ لاش جمعرات کی صبح باچا کوٹ نامی علاقے میں ایک بر ساتی نالے سے ملی ہے جس کے ساتھ پشتو زبان میں ایک خط بھی ملا ہے۔

خط میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مقتول قیام الدین کا تعلق افغانستان سے ہے اوروہ افغان نیشنل آرمی میں بطور افسر خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں۔خط میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہیں علاقے میں امریکہ کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں قتل کیا گیا ہے۔ حکام نے لاش علی زئی کی قبرستان میں امانتاً دفنا دی ہے۔

اس سلسلے میں حکومت سے رابطے کی بارہا کوششیں کی گئیں مگر کامیابی نہیں ہوئی۔

واضح رہے کہ پچھلے ماہ بھی اپر کرم ایجنسی میں ایک شخص کو مبینہ طور پر امریکہ کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں قتل کیا گیا تھا۔ قبائلی علاقوں میں ایک طویل عرصے سے امریکہ کے لیے مبینہ طور پر جاسوسی کرنے کے الزام میں مقامی اور افغان باشندوں کو قتل کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد