BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 08 July, 2007, 09:28 GMT 14:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باجوڑ: بم حملہ،ایک اہلکار ہلاک

لیویز(فائل فوٹو)
’مغویان کو نامعلوم مقام کی طرف لے جایاگیا ہے‘
قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی اہلکاروں کی ایک گاڑی پر بم حملے میں ایک اہلکار ہلاک اور چھ زخمی ہوگئے ہیں جبکہ ایک دیگر واقعے میں چار لیویز اہلکاروں کو اغواء کر لیا گیا ہے ۔

مقامی پولٹیکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے بم حملے کا واقعہ اتوار کی دوپہر صدر مقام خار سے تقریباً چار کلومیٹر دور یوسف آباد کے مقام پر اس وقت پیش آیا جب معمول کے گشت کے دوران سکیورٹی اہلکاروں کی گاڑی کو ریموٹ کنٹرول بم سے اڑا دیا گیا۔

اس دھماکے سے ایک لیویز سپاہی ہلاک اور چھ زخمی ہوگئے ہیں۔زخمیوں کو طبی امداد کے لیے خار کے سول ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے جبکہ ایک شدید زخمی اہلکار کو پشاور منتقل کردیا گیا ہے۔

ادھر باجوڑ میں ہی لیویز چیک پوسٹ پر راکٹ حملوں کے بعد بعض نامعلوم افراد نے چار لیویز اہلکاروں کو اغواء کرلیا ہے۔ پولٹیکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب ڈیڑھ بجے صدر مقام خار سے تقریباً چھبیس کلومیٹر دور تحصیل ناونگئی میں واقع دربنو چیک پوسٹ پر تین راکٹ فائر کیےگئے جس میں ایک راکٹ چیک پوسٹ کی دیوار پر جبکہ باقی دو نشانے پر نہیں لگے۔

ان کے بقول حملے کے بعد بعض مسلح افراد نے چیک پوسٹ کو اپنے محاصرے میں لے لیا اور انہوں نےوہاں پر موجود ایک حوالدار سمیت لیویز کے تین سپاہیوں کو اغواء کرلیا۔

حکام کا مزید کہنا ہے کہ مغویان کو نامعلوم مقام کی طرف لے جایاگیا ہے تاہم اغواء کاروں کی شناخت اور اغواء کی کوئی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی ہے۔اطلاعات کے مطابق مغویان کی رہائی کے لیے ایک جرگہ بھی تشکیل دے دیا گیا ہے۔

دریں اثناء صدر مقام خار سے دس کلومیٹر دور عمرزئی کے مقام پر حکام نے دو ریموٹ کنٹرول بم ناکارہ بنانے کا بھی دعوٰی کیا ہے جبکہ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ باجوڑ میں پولٹیکل انتظامیہ اور محکمۂ صحت نے لال مسجد کے خلاف آپریشن کے بعد کسی بھی ممکنہ ردعمل سے بچنے کے لیے علاقے میں بچوں کو پولیو کے ویکسین پلانے کی مہم کو روک دیا ہے تاہم سرکاری سطح پر اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

اسی بارے میں
شدت پسندوں کو ’دھمکی‘
17 June, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد