’ہلاکتیں غیر ملکی حملے کا نتیجہ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے وزیرِاعلٰی اکرم خان درانی کا کہنا ہے کہ دتہ خیل میں ہلاکتیں بیرونی فضائی حملے کے نتیجے میں ہوئیں اور حکومت کو اس کا نوٹس لینا چاہیے اور اس قسم کی کارروائیوں پر سخت موقف اپنانا چاہیے۔ سرحد اسمبلی نے بھی دتہ خیل میں حملوں کے خلاف قراردار مذمت منظور کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ اس قسم کے واقعات کو روکنے کے لیے ملکی خارجہ پالیسی میں تبدیلی لانی چاہیے۔ جمعرات کو سرحد اسمبلی میں چائے کے وقفہ کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اکرم خان درانی نے کہا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں دو دن قبل ہلاکتوں کا واقعہ بیرونی حملہ تھا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس سے وزیرستان میں امن معاہدے پر کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ یہ کارروائی حکومت یا قبائلیوں نے نہیں کی بلکہ اس میں بیرونی عناصر ملوث ہیں لیکن وہ یہ واضح نہیں طور نہیں بتا سکے کہ حملہ کس ملک نے کیا ہے۔ وزیرِاعلٰی کا کہنا تھا کہ ’حکومت اور قبائلیوں کو مل کر اس کارروائی کے خلاف سخت موقف اپنانا چاہیے کیونکہ یہ حق کسی کے پاس نہیں کہ ایک آزاد ملک میں مداخلت کر کے معصوم لوگوں کو نشانہ بنائے‘۔یاد رہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی اعلٰی حکومتی نمائندے نے دتہ خیل کے واقعے کو بیرونی حملہ قرار دیا ہے۔
اس سے قبل جمعرات کو چائے کے وقفہ کے بعد جب سرحد اسمبلی کی کارروائی شروع ہوئی تو حکومتی ممبران مولانا امانت شاہ اور خاتون رکن شگفتہ ناز نے ایک نکتۂ اعتراض پر ایوان کو بتایا کہ وزیرستان میں’اتحادی افواج‘نے بمباری کر کے بےگناہ لوگوں کو نشانہ بنایا ہے جس پر انہیں قرارداد پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔ سپیکر بخت جہان خان کی طرف سے اجازت پر دونوں ممبران نے دو ایک جیسی قراردادیں پیش کیں جس میں حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ قرارداد کے مطابق یہ تازہ واقعہ باجوڑ میں ہونے والی کارروائیوں کا تسلسل ہے اور اس قرارداد میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ قبائلی علاقوں میں اس قسم کے واقعات کو روکنے کے لیے خارجہ پالیسی میں تبدیلی لائی جائے۔ اس سے قبل ایوان نے واقعہ میں ہلاک ہونے والوں کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی۔ یاد رہے کہ منگل کو شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں مبینہ میزائل حملوں کے نتیجے میں چونتیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ہلاکتیں میزائل حملے کی وجہ سے ہوئیں تاہم پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد کے مطابق مقامی شدت پسند بم بنارہے تھے جن کے حادثاتی طور پر پھٹنے سے ہلاکتیں ہوئیں۔ |
اسی بارے میں مدرسےمیں ’دھماکے‘ 30 ہلاک19 June, 2007 | پاکستان ’حکومت خلاف ورزی کر رہی ہے‘20 June, 2007 | پاکستان باجوڑ ایجنسی: نو مشتبہ قبائلی رہا21 October, 2006 | پاکستان حکومت،طالبان امن معاہدے کا ٹیسٹ22 September, 2006 | پاکستان وزیرستان: دو بااثر قبائلی سردار رہا15 July, 2006 | پاکستان پاک افغان جرگہ کمیشن کا اجلاس01 June, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||