BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 20 June, 2007, 14:15 GMT 19:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دتہ خیل:34 ہلاک شدگان کی تدفین
دتہ خیل حملے پر احتجاج
اسلام آباد میں دتہ خیل کے واقعے کے خلاف احتجاج کیا گیا
پاکستان کے قبائلی علاقےشمالی وزیرستان کے دتہ خیل نامی علاقے میں منگل کو مبینہ میزائل حملے میں چونتیس ہلاک شدگان میں سےگیارہ کے اعضاء کو ایک اجتماعی قبر میں جبکہ تئیس کو جائے وقوعہ پر ہی دفنا دیا گیا ہے۔

شمالی وزیرستان کے ایک صحافی نے بی بی سی کو جائے وقوعہ کا دورہ کرنے والے دتہ خیل کے ناظم کے حوالے سے بتایا ہے کہ جس جگہ حملہ ہوا وہاں کوئی مدرسہ نہیں تھا بلکہ اس واقعے میں مقامی افراد کے خیموں پر تین میزائلوں سے حملہ کیا گیا جس سے چونتیس افراد مارے گئے۔

ادھر جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والی خواتین نے اسلام آباد میں دتہ خیل کےعلاقے میں ہونے والے مبینہ حملے کے خلاف احتجاجی جلوس بھی نکالا ہے جبکہ ہیومن رائٹس واچ نے اس واقعہ کی غیرجانبدرانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

دتہ خیل کے ناظم کے حوالے سے صحافی حاجی مجتبیٰ نے بتایا کہ ایک جاسوس طیارہ اسی علاقے میں تین دن سے مسلسل چکر لگا رہا تھا اور تینوں میزائل ایک ہی وقت میں فائر کیے گئے۔ حملے کا نشانہ بننے والے کچھ افراد خیموں کے اندر جبکہ کچھ باہر گپ شپ میں مصروف تھے۔ کچھ لوگ اِدھر اُدھر گھوم پھر رہے تھے۔ جو لوگ ٹینٹ کے اندر یا باہر بیٹھے تھے، وہ میزائل حملوں کا نشانہ بنے تاہم جو لوگ گھوم پھر رہے تھے وہ بچ گئے۔

اس سوال پر کہ حکومت یہ کہہ رہی ہے کہ یہ شر پسند افراد تھے جو وہاں دھماکہ خیز مواد بنا رہے تھے تو صحافی حاجی مجتبیٰ کا کہنا تھا کہ ایک جرگے کے بعد حکومت سے یہ معاہدہ کیا گیا تھا کہ یہاں پر کسی شرپسند یا غیرملکی کو نہیں رہنے دیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ بھی ہوا تھا کہ اگر کسی کے ساتھ کوئی غیر ملکی پکڑا گیا تو اس کو پچاس لاکھ روپے جرمانہ اداد کرنا ہوگا۔ اس کا گھر بھی جلا دیا جائے گا اور اسے ایجنسی بدر کردیا جائے گا۔ اسی وجہ سے یہاں کوئی بھی شرپسندوں کو پناہ نہیں دے سکتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں متاثرہ علاقے میں فوج کی کسی قسم کی نقل و حمل نظر نہیں آئی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز دتہ خیل کے علاقے میں دھماکوں میں متعدد افراد کی ہلاکت کی خبریں سامنے آئی تھیں۔ مقامی لوگوں اور طالبان کے ایک کمانڈر حاجی عمر کے مطابق یہ ہلاکتیں ایک فضائی حملہ میں ہوئیں جبکہ پاک فوج کےترجمان میجر جنرل وحید ارشد کے مطابق مقامی شدت پسند بم بنا رہے تھے جو حادثاتی طور پر پھٹ گئے جس کے نتیجے میں یہ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔

اس سے قبل باجوڑ میں بھی ایک مدرسہ بمباری کا نشانہ بن چکا ہے ( فائل فوٹو)

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے میجر جنرل وحید ارشد نے کہا تھا کہ’یہ ہلاکتیں کسی فوجی آپریشن کا نتیجہ نہیں تھیں اور مقامی انتظامیہ کے مطابق اس واقعے میں پندرہ سے بیس افراد اس وقت ہلاک ہوئے جب بم بنانے کی کوشش کے دوران دھماکہ خیز مواد پھٹ گیا‘۔

اس کے برعکس طالبان کمانڈرحاجی عمر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعوی کیا تھا کہ حملہ امریکی طیاروں نے کیا جو کئی روز سے اس علاقے میں جاسوسی کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا ’حملہ گائیڈڈ میزائل سے کیا گیا۔یہ بارود کا دھماکہ نہیں تھا ( جیسا کے فوج کے ترجمان دعوی کر رہے ہیں)۔ یہ کوئی تربیتی کیمپ نہیں تھا۔‘

خبر رساں ایجنسی اے پی نے ایک نامعلوم انٹیلی جنس افسر کے حوالے سے کہا تھا کہ سرحد پار افغانستان سے تین میزائل داغے گیے جس سے شدت پسندوں کا ایک تربیتی مرکز تباہ ہوگیا۔ ایجنسی نے دوسرے انٹیلی جنس افسران کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ مدرسہ پاکستان کی سرحد کے تین کلومیٹر اندر ہے اور مبینہ شدت پسند کھلے میں بیٹھے تھے۔

ادھر افغانستان میں امریکی فوج نے اپنے بیان میں افغانستان سے میزائل داغے جانے کے بارے میں کسی بھی اطلاع کی تردید کی تھی۔ فوج کے ترجمان لیفٹننٹ کرنل ڈیوڈ اسیٹا نے کہا کہ پاکستان ایک خود مختار ملک ہے اور ہم اس کے اقتدار اعلی کا احترام کرتے ہیں۔

قبائلکون کس کے ساتھ ہے؟
جنوبی وزیرستان میں لڑنے والے قبائل کون ہیں؟
مسیحا کب آئےگا؟
شاید دنیا والوں کا درد ابھی حد سے نہیں بڑھا
فوجیشدت پسندی کا’جن‘
شدت پسندی قبائلی علاقے تک محدود نہیں
جرگہ(فائل فوٹو)’دہشتگردی‘ کامقابلہ
پاکستانی قبائلی عمائدین امن کانفرنس کرینگے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد