BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 18 November, 2007, 07:43 GMT 12:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کُرم ایجنسی میں ہلاکتوں میں اضافہ

کرم ایجنسی(فائل فوٹو)
فریقین ایک دوسرے کے خلاف مارٹرگولوں اور راکٹ لانچروں کا آزادانہ استعمال کررہے ہیں
قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں سنی اور شیعہ مسالک کے ماننے والوں کے درمیان جمعہ کو شروع ہونے والی لڑائی تیسرے روز بھی بدستور جاری ہے اور فوج کے ترجمان کے مطابق لڑائی کے دوران مرنے والوں کی تعداد اسّی ہو گئی ہے۔

ہلاک شدگان میں سکیورٹی فورسز کے گیارہ اہلکار بھی شامل ہیں۔ اس سے قبل مقامی لوگوں نے بتایا تھا لڑائی میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد پچاس سے تجاوز کر چکی ہے۔

ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے بتایا کہ تین روز میں زخمی ہونے والوں کی تعداد سو سے زیادہ ہے جس میں بتیس سکیورٹی فورسز کے اہلکار شامل ہیں۔

کرم ایجنسی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق صدر مقام پاڑہ چنار میں گزشتہ تین روز سے بغیر کسی وقفے سے جاری لڑائی سنیچر کی رات کو لوئر کرم ایجنسی کے علاقے سدہ تک پھیل گئی ہے جہاں پر فریقین نے رات بھر ایک دوسرے پر شدید گولہ باری کی ہے۔

تشدد کی شروعات
 چھ اپریل کو کرم ایجنسی میں مذہبی جلوس کے مسئلے پر فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات پھوٹ پڑے تھے جس میں سرکاری اعداد وشمار کے مطابق 84 ہلاک اور درجنوں افراد زخمی ہوئے تھے جبکہ آزاد اور مقامی ذرائع ہلاک نے شدگان کی تعداد ڈیڑھ سو کے قریب بتائی تھی۔

سدہ کے ایک رہائشی حاجی سلیم نے بی بی سی کو بتایا کہ اتوار کی صبح پاڑہ چنار کی طرف جانے والے ایک فوجی قافلے پر ملیش خیل کے مقام پر حملہ ہوا ہے جس میں دو فوجی ہلاک جبکہ تیرہ زخمی ہوگئے ہیں تاہم سرکاری سطح پر اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

پاڑہ چنار میں لڑائی کے دوران زخمی ہونے والے ایک شخص حسین نے ٹیلی فون پر بی بی سی کو بتایا کہ اتوار کو بھی فریقین نے ایک دوسرے پر مارٹر گولوں اور راکٹ لانچروں سے حملے جاری رکھے ہیں۔ان کے بقول وہ اپنے گھر پر مارٹر کا گولہ لگنے کے نتیجے میں زخمی ہوگئے ہیں جبکہ ان کے پڑوس میں واقع ایک گھر بھی مارٹر کے گولے کا نشانہ بنا ہے جس میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

زخمی شخص نے کہا کہ لوگوں کے پاس خوراک کا ذخیرہ ختم ہورہا ہے جبکہ بجلی نہ ہونے کے سبب پانی دستیاب نہیں ہے۔ انہوں نے حکومت پر شدید تنقید کی اور کہا کہ وہ لڑائی رکوانے میں سنجیدہ نہیں۔

کرم ایجنسی کے پولیٹکل ایجنٹ فخر عالم نے بی بی سی کو بتایا کہ لڑائی رکوانے کے لیے اورکزئی ایجنسی اور ہنگو کے عمائدین پر مشتمل ایک گرینڈ جرگہ تشکیل دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ روز اہل تشیع کی طرف سے یرغمال بنائے جانے والے تین تحصیلداروں کو بھی بازیاب کرا لیا گیا ہے۔

سکیورٹی فورسز کی ناکامی
 حکومت نے حالات پر قابو پانے کے لیے جمعہ کوکرفیو کے نفاذ کا اعلان کرتے ہوئے سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو شہر میں داخل ہونے کے لیے روانہ کردیا تھا مگر لڑائی کی شدت کی وجہ سے فوجی جوان تین دن گزرنے کے باوجود بھی شہر میں داخل ہونے میں کا میاب نہیں ہوئے ہیں۔

حکومت نے حالات پر قابو پانے کے لیے جمعہ کوکرفیو کے نفاذ کا اعلان کرتے ہوئے سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو شہر میں داخل ہونے کے لیے روانہ کردیا تھا مگر لڑائی کی شدت کی وجہ سے فوجی جوان تین دن گزرنے کے باوجود بھی شہر میں داخل ہونے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔

دوسری طرف پاڑہ چنار کو جانے والے تمام راستوں کی بندش کے سبب مقامی لوگوں کو سخت دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ سکول بند ہیں اور بجلی کا نظام درہم برہم ہوگیا ہے۔

ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے ان کے پاس سہولیات ناکافی ہیں اور ایجنسی ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں اس وقت بارہ آسامیوں کے خالی ہونے کی وجہ سےصرف ایک سرجن ہی فرائض انجام دے رہا ہے۔

واضح رہے کہ جمعہ کی نماز کے بعد پاڑہ چنار بازار میں نامعلوم افراد کی فائرنگ کے بعد فرقہ ورانہ لڑائی شروع ہوگئی تھی۔مقامی لوگوں کے مطابق جمعرات کو نامعلوم افراد نے مسجد سے نکلنے والے دو افراد کو گولی مار کر زخمی کردیا تھا جس کے بعد فریقین کے درمیان کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔

چھ اپریل کو کرم ایجنسی میں مذہبی جلوس کے مسئلے پر فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات پھوٹ پڑے تھے جس میں سرکاری اعداد وشمار کے مطابق 84 ہلاک اور درجنوں افراد زخمی ہوئے تھے جبکہ آزاد اور مقامی ذرائع نے ہلاک شدگان کی تعداد ڈیڑھ سو کے قریب بتائی تھی۔ان فسادات کے نتیجے میں کرم ایجنسی میں کئی ہفتوں تک کرفیو نافذ رہا جو فریقین کے درمیان ہونے والے ایک امن معاہدے کے بعد اٹھا لیا گیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد