BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 05 October, 2007, 12:13 GMT 17:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فاٹا کے ایم این اے ناراض

وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے (فائل فوٹو)
فاٹا کے اراکین قومی اسمبلی کے مطالبات میں فوجی کارروائی کے خاتمے کا مطالبہ بھی شامل ہے
پاکستان کے قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے پانچ اراکین قومی اسمبلی نے، جن میں ایک صدر مشرف کے کاغدات نامزدگی میں تجویز کندہ بھی ہیں، صدر مشرف کو ووٹ دینے کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

ان اراکین کے سربراہ اور خیبر ایجنسی سے رکن قومی اسمبلی نور الحق قادری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دو مطالبات کے حق میں وہ تین چار روز سے حکومت سے مذاکرات میں مصروف ہیں البتہ انہیں کوئی مثبت ردعمل نہیں ملا۔

ان کے مطابق ان کے دو مطالبات میں پہلا قبائلی علاقوں سے فوج کا بتدریج انخلاء، فوجی کارروائی کی بندش اور دوسرا ترقیاتی منصوبوں کے لیے مقامی اراکین اسمبلی اور عمائدین سے مشاورت ہیں۔

نور الحق قادری کے مطابق ناراض اراکین میں وفاقی وزیر ثقافت ڈاکٹر جی جی جمال کے علاوہ لوئر کرم ایجنسی سے حاجی منیر خان اورکزئی، کرم ایجنسی سے ہی ڈاکٹر سید جاوید حسین اور درہ آدم خیل سے ڈاکٹر نسیم آفریدی شامل ہیں۔

نور الحق قادری کا کہنا تھا کہ اگر پیپلز پارٹی کو واپس لانے کے لیے مفاہمت ہوسکتی ہے تو فاٹا کے علاقے کے لیے، جہاں بدعنوانی بقول ان کے نام کی نہیں، بھی مفاہمت کی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے تو ان کے لیے صدر کے حق میں ووٹ ڈالنا مشکل ہوگا۔

اسی بارے میں
فاٹا: کونسلروں کی دھمکی
21 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد