فاٹا کے بچوں کے لئیے امریکی امداد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں سرکاری حکام کے مطابق قبائلی علاقوں میں ہر ایک ہزار بچوں میں سے ایک سو پینتیس پانچ سال کی عمر کو پہنچنے سے قبل مختلف بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اسی صورتحال کی بظاہر بہتری کے لیئے امریکہ نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں بچوں کی صحت کے لیئے ایک کروڑ ڈالر سے زائد رقم کے ایک تین سالہ منصوبے کا آغاز کیا ہے۔ قبائلی علاقوں میں بچوں کی صحت کی بہتری کے لیئے ایک کروڑ دس لاکھ ڈالر سے زائد مالیت کے اس تین سالہ منصوبے کے معاہدے پر پیر کو صوبائی دارالحکومت پشاور میں دستخط ہوئے۔ اس موقع پر گورنر سرحد علی محمد جان اورکزئی کے علاوہ پاکستان میں امریکی سفیر ریان سی کرور بھی موجود تھے۔ اس موقعہ پر خطاب میں امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ ہر ایک ہزار بچوں میں سے ایک سو پینتیس پانچ برس کی عمر کو پہچنے سے پہلے ہی اسہال جیسی قابل علاج بیماریوں کے ہاتھوں جان کھو بیٹھتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہر ہزار بچوں کی پیدائش کے وقت چھ مائیں مناسب طبی سہولتوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے ہلاک ہوجاتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں میں بچوں اور عورتوں کی صحت کے مسائل ان سب کے لیئے ایک چیلنج ہیں۔ اس نئے منصوبے کے تحت تمام سات قبائلی ایجنسیوں میں صحت کی سہولتوں کے فراہمی اور سٹاف کی تربیت پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ اس سے تقریبا پندرہ لاکھ افراد جبکہ دو لاکھ سے زائد پانچ برس سے کم عمر کے بچوں کو مناسب طبی سہولتیں مہیا کی جائیں گی۔ یہ منصوبہ بھی امریکی حکام کی قبائلی علاقوں میں خصوصی دلچسپی کا مظہر ہے۔ اس کے علاوہ امریکی حکام روزگار کے مواقع اور دیگر کئی شعبوں میں بھی پاکستانی حکام کی مدد کر رہا ہے۔ | اسی بارے میں ’طالبان کوئی ٹیکس نہیں لیتے‘11 December, 2006 | پاکستان پاکستان: قبائلی علاقوں کا نظام 31 October, 2006 | پاکستان ’انگریزی نظام کو مضبوط کریں گے‘31 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||