وزیرستان: ایف سی اہلکار ’یرغمال‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں مقامی طالبان کی تنظیم نے دعوی کیا ہے کہ دو دن قبل جنوبی وزیرستان میں حکومتی جیٹ طیاروں کی بمباری کے جواب میں فرنٹیر کور کے چھ اہلکاروں کو یرغمال بنایا گیا ہے۔ تنظیم نے ایک بار پھر دھمکی دی ہے کہ اگر سنیچر کی شام تک سوات میں ’مجاہدین‘ کے خلاف جاری کارروائیاں بند نہ کی گئیں تو اتوار سے ملک بھر میں سرکاری اہداف پر حملوں کا سلسلہ شروع کیا جائے گا جس میں خودکش دھماکے بھی کیے جائیں گے۔ سنیچر کو کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان مولوی عمر کا کہنا تھا کہ دو روز قبل پاکستانی جیٹ طیاروں نے محسود قبائل کے علاقوں میں بمباری کی تھی جس میں ان کے مطابق بے گناہ افراد کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس حکومتی کارروائی کے جواب میں تنظیم کے ’مجاہدین‘ نے لدھا کے قریب فرنٹیر کور کے چھ اہلکاروں کو اغواء کیا اور اس طرح اب ان کی تحویل میں سکیورٹی اہلکاروں کی کل تعداد چودہ ہوگئی ہے جن میں ان کے بقول فوج کے دو کپتانوں کے علاوہ دیر سکاؤٹس کے چار اہلکار بھی شامل ہیں۔ حکومت نے اس سے قبل آٹھ اہلکاروں کے لاپتہ ہونے کی تصدیق کی تھی۔ مولوی عمر نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے طالبان کے خلاف مختلف علاقوں میں کارروائیاں بند نہ کیں تو یرغمال سکیورٹی اہلکاروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ مولوی عمر نے صدر پرویز مشرف کے اس الزام کی بھی سختی سے تردید کی جس میں بیت اللہ محسود پر گزشتہ دو ماہ کے دوران ملک بھر میں سترہ خودکش حملے کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ تاہم ترجمان یہ واضح نہیں کرسکے کہ ایک طرف تو بیت اللہ حملوں کی دھمکیاں دے رہے ہیں جبکہ دوسری طرف جب حکومت کی طرف سے ان پر خودکش حملوں کا الزام لگایا جاتا ہے تو وہ اس کی فوراً تردید کردیتے ہیں۔ واضح رہے کہ تقریباً تین ہفتے قبل طالبان نے حکومت کو سوات میں آپریشن بند کرنے کے لیے دس دن کی مہلت دی تھی جس کے خاتمے پر کچھ حملے بھی کیے گئے تھے۔ تاہم تازہ مہلت دو دن قبل دی گئی تھی جو سنیچر کی شام ختم ہورہی ہے۔ ادھر قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ مسیحی برادری کے تین افراد کو نامعلوم افراد نے اغواء کر لیا ہے۔ ڈیرہ اسمعیل خان میں بی بی سی کے نامہ نگار دلاور خان وزیر نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ مسیحی برادری کے تین افراد وانا سے ٹانک جارہے تھے کہ مدی جان کے علاقے میں مسلح افراد نے انہیں بندوق کے نوک پرگاڑی سے اتارا اور اپنے ساتھ کسی نامعلوم مقام کی طرف لے گئے۔ تاحال کسی گروپ نے اس اغواء کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ |
اسی بارے میں باجوڑ: طالبان نے اہلکار اغوا کر لیے19 November, 2007 | پاکستان 25 طالبان کے بدلے 200 سپاہی بازیاب04 November, 2007 | پاکستان مقامی طالبان کی حکومت کو دھمکی04 January, 2008 | پاکستان طالبان کا حملہ، 5 ہلاک، 21 اغواء02 October, 2007 | پاکستان طالبان کی طرف سے دعوے کی تردید29 December, 2007 | پاکستان فوجیوں کواغواء کیا: مقامی طالبان24 December, 2007 | پاکستان ’ہم نے طالبان کو محدود کیے رکھا‘16 December, 2007 | پاکستان میر علی میں طالبان کا حملہ05 December, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||