BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 05 January, 2008, 09:19 GMT 14:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیرستان: ایف سی اہلکار ’یرغمال‘

فائل فوٹو
طالبان ترجمان کے مطابق ان کی تحویل میں سکیورٹی اہلکاروں کی کل تعداد چودہ ہوگئی ہے
پاکستان میں مقامی طالبان کی تنظیم نے دعوی کیا ہے کہ دو دن قبل جنوبی وزیرستان میں حکومتی جیٹ طیاروں کی بمباری کے جواب میں فرنٹیر کور کے چھ اہلکاروں کو یرغمال بنایا گیا ہے۔

تنظیم نے ایک بار پھر دھمکی دی ہے کہ اگر سنیچر کی شام تک سوات میں ’مجاہدین‘ کے خلاف جاری کارروائیاں بند نہ کی گئیں تو اتوار سے ملک بھر میں سرکاری اہداف پر حملوں کا سلسلہ شروع کیا جائے گا جس میں خودکش دھماکے بھی کیے جائیں گے۔

سنیچر کو کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان مولوی عمر کا کہنا تھا کہ دو روز قبل پاکستانی جیٹ طیاروں نے محسود قبائل کے علاقوں میں بمباری کی تھی جس میں ان کے مطابق بے گناہ افراد کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس حکومتی کارروائی کے جواب میں تنظیم کے ’مجاہدین‘ نے لدھا کے قریب فرنٹیر کور کے چھ اہلکاروں کو اغواء کیا اور اس طرح اب ان کی تحویل میں سکیورٹی اہلکاروں کی کل تعداد چودہ ہوگئی ہے جن میں ان کے بقول فوج کے دو کپتانوں کے علاوہ دیر سکاؤٹس کے چار اہلکار بھی شامل ہیں۔ حکومت نے اس سے قبل آٹھ اہلکاروں کے لاپتہ ہونے کی تصدیق کی تھی۔

مولوی عمر نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے طالبان کے خلاف مختلف علاقوں میں کارروائیاں بند نہ کیں تو یرغمال سکیورٹی اہلکاروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ سوات میں ’ مجاہدین‘ کے خلاف جاری کارروائیاں بند کرنے کے لیے حکومت کو دو دن کی مہلت دی گئی تھی جو ان کے مطابق سنیچر کی شام ختم ہورہی ہے۔

مولوی عمر نے صدر پرویز مشرف کے اس الزام کی بھی سختی سے تردید کی جس میں بیت اللہ محسود پر گزشتہ دو ماہ کے دوران ملک بھر میں سترہ خودکش حملے کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

تاہم ترجمان یہ واضح نہیں کرسکے کہ ایک طرف تو بیت اللہ حملوں کی دھمکیاں دے رہے ہیں جبکہ دوسری طرف جب حکومت کی طرف سے ان پر خودکش حملوں کا الزام لگایا جاتا ہے تو وہ اس کی فوراً تردید کردیتے ہیں۔

واضح رہے کہ تقریباً تین ہفتے قبل طالبان نے حکومت کو سوات میں آپریشن بند کرنے کے لیے دس دن کی مہلت دی تھی جس کے خاتمے پر کچھ حملے بھی کیے گئے تھے۔ تاہم تازہ مہلت دو دن قبل دی گئی تھی جو سنیچر کی شام ختم ہورہی ہے۔

ادھر قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ مسیحی برادری کے تین افراد کو نامعلوم افراد نے اغواء کر لیا ہے۔

ڈیرہ اسمعیل خان میں بی بی سی کے نامہ نگار دلاور خان وزیر نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ مسیحی برادری کے تین افراد وانا سے ٹانک جارہے تھے کہ مدی جان کے علاقے میں مسلح افراد نے انہیں بندوق کے نوک پرگاڑی سے اتارا اور اپنے ساتھ کسی نامعلوم مقام کی طرف لے گئے۔ تاحال کسی گروپ نے اس اغواء کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

لال مسجد آپریشن کے بعد کئی حملے ہوئے ہیںطالبان کی دھمکی
’لال مسجد پر مقامی طالبان رہنما کا بیان‘
سواتطالبان کی روپوشی
سوات: طالبان کی روپوشی سے اٹھنے والے سوالات
طالبان(فائل فوٹو)وزیرستان میں امن
طالبان کا امن معاہدہ جاری رکھنے کا فیصلہ
طالبان’طالبان کا ملک‘
جنوبی وزیرستان میں طالبان ہر جگہ نظر آتے ہیں
طالبان اور القاعدہ
مقامی طالبان اور القاعدہ کا ایک نکاتی ایجنڈا
اسی بارے میں
میر علی میں طالبان کا حملہ
05 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد