فوجیوں کواغواء کیا: مقامی طالبان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں مقامی طالبان کی مختلف تنظیموں پر مشتمل اتحاد ’تحریک طالبان پاکستان‘ نے ایک ہفتہ قبل صوبہ سرحد کے جنوبی شہر کوہاٹ سے لاپتہ ہونے والے دو افسروں سمیت چار فوجی اہلکاروں کے اغواء کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ تحریک طالبان کے ترجمان مولوی عمر نے پیر کو ایک نامعلوم مقام سے بی بی سی کو ٹیلی فون کر کے دعویٰ کیا کہ چاروں فوجی اہلکار جن میں دو کپتان اور دو فوجی حوالدار شامل ہیں ان کی تحویل میں ہیں۔ ان کے مطابق تحریک طالبان نے حکومت کو دس دن کی مہلت دی تھی کہ وزیرستان اور سوات سے فوج کو فوری طورپر واپس بلایا جائے، وہاں تمام کارروائیاں بند کی جائیں اور لال مسجد کے خطیب مولانا عبد العزیز اور ان کے تمام گرفتار ساتھیوں کو رہا کیا جائے۔ ترجمان نے بتایا کہ مہلت ختم ہوگئی لیکن حکومت نے ان کے مطالبات پر کوئی توجہ نہیں دی لہذا جوابی کارروائی کے طورپر انہوں نے چار فوجی اہلکاروں کو اغواء کرلیا ہے۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر حکومت نے ان کے اسیر ساتھیوں کو رہا نہ کیا اور وزیرستان سوات میں جاری فوجی کارروائیاں بند نہیں کی گئیں تو حکومت کے خلاف اعلان جنگ کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ گزشتہ پیر کو فوج کے دو افسروں کے چار اہلکار ڈیرہ اسماعیل خان سے پشاور جاتے ہوئے ضلع کوہاٹ کی حدود میں لاپتہ ہوگئے تھے۔ پولیس کے مطابق لاپتہ ہونے والے اہلکاروں میں کیپٹن صفدر، کیپٹن فیصل اور حوالدار منصب خان شامل ہیں جبکہ ایک اہلکار کا نام معلوم نہیں ہوسکا۔ طالبان کے ترجمان نے کہا کہ سوات میں سکیورٹی فورسز کے اہلکار ان کے ساتھیوں کے گھروں اور دینی مدرسوں کو نشانہ بنارہے ہیں اسی وجہ سے گزشتہ روز مینگورہ شہر میں فوجی قافلے پر خودکش حملہ بھی کیا گیا۔ مولوی عمر نے وضاحت کی کہ سوات میں عسکریت پسند روپوش نہیں ہوئے بلکہ ایک حکمت عملی کے تحت زیرزمین چلے گئے ہیں۔ | اسی بارے میں ’ یہ داداللہ ہلاکت کا ردعمل نہیں‘15 May, 2007 | پاکستان داد اللہ دفن، ایک مغوی قتل، چار رہا07 June, 2007 | پاکستان ’امریکی اپنا نقصان چھپاتے ہیں‘25 June, 2007 | پاکستان ’پاکستان میں ہمارا مضبوط نیٹورک ہے‘10 March, 2007 | پاکستان ملا داد اللہ کی گرفتاری، ایک معمہ20 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||