ملا داد اللہ کی گرفتاری، ایک معمہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کی حکومت کی جانب سے طالبان کے سرکردہ کمانڈر ملا داد اللہ کی گرفتاری کے اعلان کے بعد متضاد دعوے سامنے آرہے ہیں جس سے طالبان کمانڈر کی مبینہ گرفتاری ایک معمہ بن گئی ہے۔ افغان حکام نے جمعہ کے روز اعلان کیا تھا کہ انہوں نے قندہار سے طالبان کے صف اول کے کمانڈر ملا داد اللہ سمیت قریباً چھ طالبان شدت پسندوں کو گرفتار کیا ہے۔ اس اعلان کے بعد ایک شخص نے افغانستان کے کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی اور دیگر اداروں کے نمائندوں کو سیٹ لائٹ فون سے بات کرتے ہوئے خود کو ملا دادا للہ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ وہ گرفتار نہیں ہوئے اور تاحال اپنی کارروائیوں کی مکمل نگرانی کر رہے ہیں۔ ایسے متضاد دعوؤں کے بعد ابھی یہ واضح نہیں کہ افغان انتظامیہ اب بھی ملاداد اللہ کی گرفتاری کے دعوے پر قائم ہے یا نہیں لیکن جو شخص خود کو ملا داد اللہ قرار دے رہا ہے اس نے پشاور میں بی بی سی پشتو سروس کے نمائندے کو دو بار فون کرکے کابل حکام کے دعوے کو مسترد کیا ہے۔ فون کرنے والے شخص نے خود کو طالبان کا ایک اہم ترین کمانڈر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ قندہار اور ہلمند میں افغان اور غیر ملکی افواج کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔ اس شخص کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ افغان حکام نے ان سینکڑوں معصوم افراد میں سے، جن کی ایک ٹانگ بارودی سرنگ میں ضائع ہوچکی ہے، کسی ایک کو گرفتار کیا ہو اور اُسے ملا داداللہ قرار دے رہے ہوں۔ قبل ازیں ملا داداللہ کی گرفتاری کے اعلان کے بعد کابل میں ایک خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی اور ایک سرکردہ طالبان کمانڈر کی گرفتاری کو افغان حکام اپنی سیکورٹی فورسز کی ایک بڑی کامیابی قرار دے رہے تھے تاہم متضاد دعوؤں کے بعد ایسا لگتا ہے کہ ملا داد اللہ کی گرفتاری اور ان کے انتظامیہ کی تحویل میں ہونے کے بارے میں دنیا کو یقین دلانے کے لیے افغانستان کی انتظامیہ کو ٹھوس شواہد پیش کرنا ہوں گے۔ | اسی بارے میں طالبان رہنما ملا داد اللہ ’گرفتار‘19 May, 2006 | آس پاس ملا داد اللہ کون ؟19 May, 2006 | آس پاس پاکستان کا ’طالبان جوا‘16 May, 2006 | پاکستان افغانستان میں طالبان کا بڑھتا ہوا اثر19 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||