BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 20 April, 2008, 08:45 GMT 13:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سفیر کی رہائی، طالبان کی شرائط

ایک عرب ٹی وی چینل نے طالبان کے قبضے میں موجود پاکستانی مغوی سفیر طارق عزیزالدین کی ویڈیونشرکی ہے
پاکستانی مغوی سفیر طارق عزیز الدین کے اغواء کاروں نے سفیر کی رہائی کے بدلے میں افغانستان کے پانچ طالبان جنگجوؤں کے علاوہ لال مسجد کے خطیب مولانا عبد العزیز، کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ مولانا صوفی اور بینظیر بھٹو کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث افراد سمیت بارہ افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

ادھر پاکستان میں مقامی طالبان کی تنظیم نے مغوی پاکستانی سفیر طارق عزیز الدین کی اغواء سے ایک بار پھر مکمل طورپر لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت نے تنظیم سے سفیر کی بازیابی میں مدد کی درخواست کی تو وہ ہر قسم کے تعاون کےلیے تیار ہے۔

ایک سرکردہ قبائلی ملک نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ یہ معلوم نہیں ہو پا رہا کہ مغوی سفیر کو پاکستان کے قبائلی علاقے یا افغانستان میں رکھا گیا اور نہ اس بارے میں کچھ معلوم ہے کہ اغواء کار کون لوگ ہیں۔

قبائلی ملک کا کہنا تھا کہ افغان طالبان قیدیوں کے نام تو تا حال معلوم نہیں ہو سکے ہیں البتہ پاکستانی قیدیوں میں لال مسجد کے خطیب مولانا عبد العزیز، تحریک نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد، شیر زمان محسود، رفاقت، حسنین، اعتزاز شاہ اور نور خان شامل ہیں۔

اس کے علاوہ اغوا کار افغانستان کے پانچ طالبان جنگجوؤں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں جن کو حکومت پاکستان نے مغوی فوجیوں کی رہائی کے وقت رہا کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی لیکن بعد میں ان کو رہا نہیں کیا تھا۔

 پاکستانی سفیر کی رہائی کے بدلے جن افراد کی رہائی کا مطالبہ سامنے آیا ہے ان کی اکثریت پاکستانی طالبان کمانڈر بیت اللہ محسود کے حامی بتائے جاتے ہیں تاہم تحریک طالبان کے ترجمان مولوی عمر متعدد مرتبہ پاکستانی سفیر کی اغواء سے لاعلمی کا اظہار کر چکے ہیں۔

دریں اثناء تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان مولوی عمر نے اتوار کو بی بی سی سے گفتگو میں کہا ہے کہ ’ہم کئی بار واضح کر چکے ہیں کہ پاکستانی سفیر طارق عزیز الدین کے اغواء میں نہ تو تحریک طالبان ملوث ہے اور نہ ان کے بارے میں کچھ جانتی ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’اگر اغواء کاروں کے مطالبات جائز ہیں تو حکومت پاکستان کو ان پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے اور انہیں پورا کیا جانا چاہیے تاکہ یہ معاملہ ہی ختم ہو جائے۔ ان کے بقول ’ہمیں کچھ نہیں معلوم کہ طارق عزیز الدین کے اغواء میں کون لوگ ملوث ہوسکتے ہیں اور انہوں نے یہ واردات کس مقصد کے لیے کی ہے‘۔

اس سوال پر کہ پاکستانی سفیر کی رہائی کے بدلے جن افراد کی رہائی کا مطالبہ سامنے آیا ہے ان کی اکثریت پاکستانی طالبان کمانڈر بیت اللہ محسود کے حامی بتائے جاتے ہیں مولوی محمد عمر نے کہا کہ ’یہ ہمارے ساتھ اغواء کاروں کی ہمدردی کا اظہارہے ورنہ ہمارا اغواء کاروں سے نہ کوئی تعلق ہے اور نہ کبھی تھا‘۔

واضح رہے کہ لال مسجد کے خطیب مولانا عبد العزیز گزشتہ سال جولائی کے ماہ میں اس وقت گرفتار کئے گئے تھے جب وہ لال مسجد آپریشن کے دوران برقعہ پہن کر مسجد سے فرار ہورہے تھے۔ کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد اجکل پولیس کے سخت سکیورٹی میں پشاور کے ایک ہپستال میں زیرعلاج ہیں۔ انہیں نومبر دو ہزار ایک میں افغانستان سے پاکستان آتے ہوئے پاک افغان سرحد پر گرفتار کیا گیا تھا۔ اعتزاز شاہ، حسنین اور رفاقت کو بینظیر بھٹو کے قاتل کو مدد فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا اور پاکستانی حکومت کا موقف رہا ہے کہ بیت اللہ محسود نے بینظیر بھٹو کو قتل کروایا ہے۔

وزارت داخلہ کا بیان
اسلام آباد میں ہمارے نامہ نگار احمد رضا کے مطابق وزارت داخلہ نے تسلیم کیا ہے کہ طارق عزیز الدین کا ویڈیو بیان ماہ مارچ کے اوائل میں ریکارڈ کیا گیا تھا اور اس وقت سے ہی حکومت ان کی بازیابی کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔

وزارت داخلہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’مغوی سفیر، ان کے ڈرائیور اور محافظ کی بازیابی کے لیے حکومت کی مخلصانہ اور مسلسل کوششوں کے نتیجے میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے اور اب بھی یہ کوششیں جاری ہیں۔‘

سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم کے مشیر برائے داخلہ امور رحمان اے ملک مغوی سفیر کے اہل خانہ سے رابطے میں ہیں اور مستعدی سے ان کی محفوظ بازیابی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔

سرکاری بیان کے مطابق حکومت کوشش کر رہی ہے کہ اس افسوسناک واقعے کو اطمینان بخش انجام تک پہنچائے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’حکومت کو ملنے والی مصدقہ اطلاعات کے مطابق طارق عزیز الدین اور ان کے دونوں ساتھی خیر و خیریت سے ہیں۔‘

وزارت داخلہ کے مطابق وزیر اعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی نے تمام متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ ڈھائی ماہ قبل اغواء ہونے والے افغانستان میں متعین پاکستان کے سفیر طارق عزیز الدین اور ان کے ڈرائیور اور محافظ کی بازیابی کے لئے کوششیں تیز تر کردیں۔

یاد رہے کہ طارق عزیز تقریباً ڈھائی ماہ قبل پشاور سے کابل جاتے ہوئے خیبر ایجنسی کے علاقے سے پراسرار طور پر لاپتہ ہوگئے تھے اور ان کے طالبان کی تحویل میں ہونے کا انکشاف سنیچر کو تب ہوا جب ان کا ویڈیو بیان نشر کیا ہوا جس میں انہوں نے حکومت پاکستان سے کہا کہ وہ طالبان کے مطالبات مان لیں اور ان کی جان بچائیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد