BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 19 April, 2008, 17:24 GMT 22:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طالبان: اغواء برائے تاوان کی حکمتِ عملی

طالبان کی ویڈیو سے لی گئی ایک تصویر
طالبان کی ویڈیو سے لی گئی ایک تصویر
افغانستان میں متعین پاکستانی سفیر طارق عزیزالدین کو دو ماہ سے زائد عرصہ تک اپنی تحویل میں رکھنے کے بعد طالبان نے انکی ویڈیو ٹیپ جاری کرکے مغوی سفیر کی ہی زبانی حکومت پاکستان سے اپنے مطالبات منوانے کی جو اپیل کروائی ہے اس میں اغواء کاروں نے مطالبات کی نوعیت نہیں بتائی۔

یہ گزشتہ چند سالوں کے دوران ہونے والے اغواء کی اس طرح کی بظاہر پہلی واردات ہے۔

دبئی میں قائم العربیہ ٹی وی پر نشر کی جانے والی اس ویڈیو میں پاکستانی سفیر نے محض اتنا کہا ہے کہ ’حکومت انکی کی رہائی کے لیے طالبان کے مطالبات مان لے‘ مگر ان سے یہ نہیں کہلوایا گیا کہ طالبان کے مطالبات ہیں کیا۔

سفیر کے اغواء کے چند دنوں بعد طالبان ترجمان کے حوالے سے ذرائع ابلاغ پر یہ خبر نشر ہوئی تھی کہ پاکستانی سفیر کو ایک طالبان کمانڈر کی رہائی کے عوض چھوڑ دیا جائے گا تاہم اس بیان میں ترجمان کا نام ظاہر نہیں کیا گیا تھا اور نہ ہی یہ بتایا گیا تھا کہ ان کا تعلق طالبان کے کس گروپ کے ساتھ ہے۔ تب پاکستان اور افغانستان میں طالبان ترجمان مولوی عمر اور قاری یوسف نے سفیر کے اغواء سے لاعلمی ظاہر کی تھی۔

طالبان کی جانب سےسفیر کے اغواء کرنے کی ذمہ داری قبول کرنے میں اتنی تاخیر نے اس پورے معاملہ پر ایک سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ حکومت اور طالبان کے درمیان پس پردہ مذاکرات جاری ہوں اور شاید ویڈیو کے جاری کرنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی ہو کہ فریقین کے درمیان جاری بات چیت میں کوئی خاص پیش رفت نہ ہونے کے سبب طالبان نے دباؤ ڈالنے کے لیے ایسا کیا ہو۔ پس پردہ مذاکرات کا ا ندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ سفیر نےاپیل کے دوران مطالبات کی نوعیت کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہا جس سے لگتا ہے کہ حکومت کو پہلے ہی سے ان مطالبات کا پتہ ہے۔

سوالیہ نشان
News image
 یہ بھی ممکن ہے کہ حکومت اور طالبان کے درمیان پس پردہ مذاکرات جاری ہوں اور شاید ویڈیو کے جاری کرنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی ہو کہ فریقین کے درمیان جاری بات چیت میں کوئی خاص پیش رفت نہ ہونے کے سبب طالبان نے دباؤ ڈالنے کے لیے ایسا کیا ہو۔

اگرچہ ماضی میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ حکومت نے اپنے اہلکاروں کے بدلے طالبان کے گرفتار شدہ ساتھیوں کو رہا کر دیا لیکن اس کے ساتھ ساتھ طالبان ذرائع کے مطابق حکومت نے کئی مواقع پر انہیں بھاری رقمیں بھی ادا کی ہیں۔ ابھی یہ دیکھا جائے گا کہ طارق عزیزالدین کی رہائی کے بدلے کیا مطالبات سامنے آتے ہیں اور کیا انکی رہائی کے لیے بھی پیسے ادا کیے جاتے ہیں یا نہیں۔

اگر دیکھا جائے تو دوہزار ایک میں طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد پاکستان اور افغانستان میں طالبان کے ایک قوت کے طور پر ابھر کر سامنے آنے کے بعد اغواء کی وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ طالبان اور حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اغواء برائے تاوان طالبان کے لیے ایک بہت ہی منافع بخش کاروبار ثابت ہوا ہے جس کے ذریعے سے وہ دونوں ممالک میں امریکی، نیٹو اور پاکستانی فوج کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

جب سے افغانستان اور پاکستان میں طالبان نے امریکی، نیٹو اور پاکستانی افواج کے خلاف جنگ شروع کی ہے طالبان ذرائع کے بقول کمزور مالی حالت نے کئی بار انکی مزاحمت کو کمزور کر دیا مگر انہوں نے مختلف طریقوں سے اپنی مالی حالت مضبوط کرنے میں بہت حد تک کامیابی حاصل کی ہے۔

جنوبی وزیرستان میں گزشتہ سال جن تین سو کے قریب فوجیوں کو گرفتار کیا گیا تھا انکی جو ویڈیوز حال ہی میں بی بی سی اردو کو بھیجی گئی تھیں ان میں فوجیوں کے علاوہ وہ تمام اسلحہ، فوجی سازوسامان اور گاڑیاں دکھائی گئی ہیں جنہیں ویڈیو میں طالبان’ مال غنیمت‘ کہتے ہوئے اپنے قبضہ میں لے رہے ہیں۔

ایک طالب کمانڈر نے بی بی سی کو بتایا ہےکہ انہوں نے گاڑیوں سمیت اسلحہ، فوجی وردیاں، بوٹ، بیلٹ، ٹوپیاں اور دیگر سازسامان کی قیمت لگائی اور اسے چھ کروڑ روپے کے عوض حکومت پاکستان کو واپس کیا تھا۔

دوسری طرف افغانستان میں ویسے تو ابتداء ہی سے امریکہ اور یورپی ممالک طالبان پر الزام لگاتے آرہے ہیں کہ وہ افغانستان میں پوست کی کاشت میں ملوث ہیں اور ان کے ’ڈرگ مافیا‘ سے قریبی روابط قائم ہوچکے ہیں لیکن ان چند سالوں کے دوران اب طالبان کے دونوں ممالک میں سرگرم مبینہ ’اغواء کار گروپوں‘ کے ساتھ بھی بظاہر اچھے تعلقات پیدا ہوگئے ہیں۔

خرچہ پانی
News image
 پچھلے سال بیس فروری کو افغانستان میں غزنی کے علاقے سے طالبان نے جن تئیس جنوبی کوریائی باشندوں کو اغواء کیا تھا انکی رہائی کے بدلے قابل اعتماد ذرائع کےمطابق جنوبی کوریا نے طالبان کوچھ ملین ڈالر کی رقم ادا کردی تھی۔

پچھلے سال بیس فروری کو افغانستان میں غزنی کے علاقے سے طالبان نے جن تئیس جنوبی کوریائی باشندوں کو اغواء کیا تھا انکی رہائی کے بدلے قابل اعتماد ذرائع کےمطابق جنوبی کوریا نے طالبان کوچھ ملین ڈالر کی رقم ادا کردی تھی۔ ذرائع کے مطابق دو ہزار سات میں بھی فرانس کے دو امدادی کارکنوں کی رہائی کے بدلے طالبان کو چار ملین ڈالر اد کیے گئے تھے۔ اس کے علاوہ اغواء برائے تاوان کے عوض طالبان کو مبینہ طور پر بھاری رقمیں ادا کرنے کے کئی واقعات پیش آئے ہیں۔

اغواء برائے تاوان کی وارداتوں کے نتیجے میں طالبان ذرائع کے بقول انکی معاشی حالت کافی حد تک مضبوط ہوگئی ہے۔انکا کہنا ہے کہ ایک وقت ایسا بھی آیا تھا کہ ’ہمارے پاس خودکش بمبار تو بہت بڑی تعداد میں موجود تھے مگر مالی وسائل اتنے محدود ہوگئے تھے کہ کسی خودکش حملے کے لیے کار خرید کر اس سے بارود سے بھرنا تو درکنار ہر خودکش حملہ آور کو بارودی جیکٹ جس کی تیاری پر تقریباً پینسٹھ ہزارروپے خرچہ آتا ہے، دینا مشکل ہوگیا تھا‘۔

طالبان کے مطابق خود کش کار حملے پر اوسطا پانچ لاکھ روپے کا خرچہ آتا ہے اور اب جبکہ طالبان کی مالی حالت کافی بہتر ہوئی ہے تو انہوں نے کاریں خرید کر افعانستان میں زیادہ خود کش کار حملے شروع کردیئے ہیں۔

اس پس منظر میں کہا جا سکتا ہے کہ افغانستان اور پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جاری نام نہاد جنگ میں امریکہ اور اتحادی ممالک کے لیے اغواء کی بڑھتی ہوئی وارداتیں ایک بڑے چیلنج کے طور پر سامنے آرہی ہیں کیونکہ اس سے نہ صرف طالبان مالی فوائد حاصل کر رہے ہیں بلکہ جب کبھی کسی بھی اتحادی ملک کے شہریوں کو یرغمال بنایا جاتا ہے تو اس ملک پر اپنے عوام کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ جنوبی کوریا کی جانب سے افغانستان سے اپنے فوجیوں کے انخلاء کا اعلان اسکی ایک واضح مثال ہے۔

بیت اللہ محسود فائل فوٹوالگ الگ طالبان
پاکستانی طالبان سے تنظیمی اظہارِ لاتعلقی
طالبانطالبان کا خیرمقدم
ایم ایم اے کی شکست اور طالبان خوش!
طالبان’حملہ آور کم نہیں‘
طالبان کی ’سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمینٹ‘
مولوی فقیرافغان فوجی رہا
باجوڑ میں بیوی کی طلاق کا حلف اٹھانے پرجاسوس رہا
مقامی طالبان(فائل فوٹو)’سنگساری‘ کی سزا
سنگسار شدہ جوڑے کی لاشیں لوٹا دی گئیں
طالبان سے مفاہمت کی کوشش (فائل فوٹو)مفاہمت کہاں تک؟
طالبان سے مفاہمت کی بیل منڈھے چڑھے گی؟
طالبان’طالبان کا کنٹرول‘
وانا میں امن قائم لیکن طالبان امریکہ سے خائف
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد