BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 15 March, 2008, 13:55 GMT 18:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باجوڑ :افغان نیشنل آرمی کے جوان رہا

مولوی فقیر
باجوڑ میں پہلی مرتبہ مقامی طالبان کی طرف سے صلاح مشورے کے لیے مقامی مشران کوشرکت کی دعوت دی گئی
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں مقامی طالبان نے افغان نیشنل آرمی کے چار جوانوں کو اس شرط پر آزاد کرد یا ہے کہ وہ آئندہ افغان حکومت میں کوئی نوکری نہیں کرینگے اور ایسا کرنے کی صورت میں ان کی بیویاں ان پر حرام تصور ہونگی۔

اس بات کا فیصلہ گزشتہ روز باجوڑ میں مقامی طالبان کے سربراہ مولوی فقیر محمد کی سربراہی میں ہونے والے ایک جلسہ عام میں کیاگیا جس میں عوام کی ایک بڑی تعداد کے علاوہ افغان مشران نے بھی شرکت کی۔

تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کچھ عرصہ قبل باجوڑ ایجنسی میں مقامی عسکریت پسندوں نےافغان ملی اردو (نیشنل آرمی) کے چار جوانوں کو جاسوسی کے الزام میں حراست میں لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جمعہ کو سالارزئی تحصیل میں ایک جلسہ عام طلب کیا گیا تھا جس میں علماء کرام اور قاضی بھی شریک تھے تاکہ زیرحراست افغان اہلکاروں کے قسمت کے بارے میں فیصلہ کیا جائے۔

ترجمان نے بتایا کہ جلسہ عام کے دوران افغانستان کے صوبےکونڑ سے مقامی مشران کا ایک جرگہ پہنچا جس نے زیرحراست افغان شہریوں کو سزا نہ دینے کی استدعا کی اور طالبان قیادت کو یقین دہانی کرائی کہ افغان اہلکار جاسوسی کےلئے نہیں بلکہ اپنے ذاتی کام کے سلسلے میں باجوڑ آئے تھے۔

مولوی عمر نے بتایا کہ افغان جرگہ اور مقامی مشران کی مشاورت سے تمام زیرحراست اہلکاروں کو چھوڑ دیا گیا تاہم جلسہ میں ان سے حلف لیا گیا ہے کہ وہ آئندہ افغان حکومت میں کسی قسم کی نوکری نہیں کرینگے اور حکومت کے لیےکام کی صورت میں ان کی بیویاں ان پر طلاق تصور ہونگی۔ ترجمان نےکہا کہ رہائی پانےوالے اہلکار سنیچر کی دوپہر افغان جرگہ کے ہمراہ اپنے اپنے علاقوں کو روانہ ہوگئے ۔

واضح رہے کہ پشتون معاشرے میں بیوی حرام ہونے کی قسم کو بہت سنجیدگی سے لیا جاتا ہے اور سماجی طور پر حلف اٹھانے والے پر لازم ہے کہ وہ اس کو پورا کرے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جلسہ عام میں دو افراد کو پیش کیا گیا تھا جن کے ہاتھ ہتھکڑیوں میں بندھے ہوئے تھے۔

واضح رہے کہ باجوڑ ایجنسی میں یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ مقامی طالبان کی طرف سے افغان شہریوں کی قسمت کا فیصلہ کرنے کےلئے مقامی مشران اور عام شہریوں کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی تھی اور ان کو فیصلہ سازی میں شریک کیا گیا۔

طالبانباجوڑ:نقاب پر پابندی
باجوڑ میں طالبان کی مردوں کے نقاب پر پابندی
ابو بکرباجوڑ حملہ ایک سال
حملے میں زخمی ہونے والا ابوبکر ابھی تک لاچار
باجوڑ (فائل فوٹو)جاسوسوں کے بعد
باجوڑ دو اہلکاروں کو گلے کاٹ کر ہلاک کیا گیا
مولانا فقیر’مشرف کی پالیسی‘
طالبان خود کش حملے کرنے پر مجبور: مولانا فقیر
ووٹرباجوڑ کا نتیجہ
ایم ایم اے کے لیئے لمحہ فکریہ؟
باجوڑ’حملہ امریکہ نے کیا‘
ایک رپورٹ کے مطابق باجوڑحملہ امریکہ نے کیا
اسی بارے میں
باجوڑ میں اے این پی کا جلوس
15 November, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد