باجوڑ :افغان نیشنل آرمی کے جوان رہا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں مقامی طالبان نے افغان نیشنل آرمی کے چار جوانوں کو اس شرط پر آزاد کرد یا ہے کہ وہ آئندہ افغان حکومت میں کوئی نوکری نہیں کرینگے اور ایسا کرنے کی صورت میں ان کی بیویاں ان پر حرام تصور ہونگی۔ اس بات کا فیصلہ گزشتہ روز باجوڑ میں مقامی طالبان کے سربراہ مولوی فقیر محمد کی سربراہی میں ہونے والے ایک جلسہ عام میں کیاگیا جس میں عوام کی ایک بڑی تعداد کے علاوہ افغان مشران نے بھی شرکت کی۔ تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کچھ عرصہ قبل باجوڑ ایجنسی میں مقامی عسکریت پسندوں نےافغان ملی اردو (نیشنل آرمی) کے چار جوانوں کو جاسوسی کے الزام میں حراست میں لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جمعہ کو سالارزئی تحصیل میں ایک جلسہ عام طلب کیا گیا تھا جس میں علماء کرام اور قاضی بھی شریک تھے تاکہ زیرحراست افغان اہلکاروں کے قسمت کے بارے میں فیصلہ کیا جائے۔ ترجمان نے بتایا کہ جلسہ عام کے دوران افغانستان کے صوبےکونڑ سے مقامی مشران کا ایک جرگہ پہنچا جس نے زیرحراست افغان شہریوں کو سزا نہ دینے کی استدعا کی اور طالبان قیادت کو یقین دہانی کرائی کہ افغان اہلکار جاسوسی کےلئے نہیں بلکہ اپنے ذاتی کام کے سلسلے میں باجوڑ آئے تھے۔ مولوی عمر نے بتایا کہ افغان جرگہ اور مقامی مشران کی مشاورت سے تمام زیرحراست اہلکاروں کو چھوڑ دیا گیا تاہم جلسہ میں ان سے حلف لیا گیا ہے کہ وہ آئندہ افغان حکومت میں کسی قسم کی نوکری نہیں کرینگے اور حکومت کے لیےکام کی صورت میں ان کی بیویاں ان پر طلاق تصور ہونگی۔ ترجمان نےکہا کہ رہائی پانےوالے اہلکار سنیچر کی دوپہر افغان جرگہ کے ہمراہ اپنے اپنے علاقوں کو روانہ ہوگئے ۔ واضح رہے کہ پشتون معاشرے میں بیوی حرام ہونے کی قسم کو بہت سنجیدگی سے لیا جاتا ہے اور سماجی طور پر حلف اٹھانے والے پر لازم ہے کہ وہ اس کو پورا کرے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جلسہ عام میں دو افراد کو پیش کیا گیا تھا جن کے ہاتھ ہتھکڑیوں میں بندھے ہوئے تھے۔ واضح رہے کہ باجوڑ ایجنسی میں یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ مقامی طالبان کی طرف سے افغان شہریوں کی قسمت کا فیصلہ کرنے کےلئے مقامی مشران اور عام شہریوں کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی تھی اور ان کو فیصلہ سازی میں شریک کیا گیا۔ |
اسی بارے میں باجوڑ، سوات حملے سرکاری افسر زخمی05 September, 2007 | پاکستان باجوڑ بم دھماکہ، قبائلی سربراہ ہلاک16 August, 2007 | پاکستان دتہ خیل:34 ہلاک شدگان کی تدفین20 June, 2007 | پاکستان باجوڑ میں اے این پی کا جلوس 15 November, 2006 | پاکستان درگئی اور باجوڑ: آخر تعلق کیا ہے؟11 November, 2006 | پاکستان باجوڑ بمباری: آدھا سچ، آدھا جھوٹ10 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||