عبدالحئی کاکڑ بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور |  |
 | | | اس سے پہلے بھی پاکستان حکومت مقامی طالبان سے مفاہت کی کوشش کرتی رہی ہے سے افغانستان، امریکی اور امریکی اتحادیوں نے نا پسند کیا |
اٹھارہ فروری کے انتخابات کے نتیجے میں پیپلز پارٹی کی سربراہی میں کئی جماعتوں پر مشتمل قائم ہونے والی نئی حکومت اور قبائلی علاقوں میں سرگرم طالبان کے درمیان مذاکرات کے ذریعہ مسائل کا حل ڈھونڈنے کے حوالے سے خیر سگالی کے بیانات کے بعد قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد میں بظاہر’دہشت گردی‘ کے واقعات میں کافی حد تک کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد امریکہ کی سربراہی میں ’دہشت گردی’ کے خلاف شروع کی جانے والی نام نہاد عالمی جنگ میں عراق اور افغانستان کے بعد اگر کسی ملک نے سب سے بڑا نقصان اٹھایا ہے تو وہ شاید پاکستان ہی ہے۔گزشتہ ساڑھے چھ سال میں ایک آزاد اور خود مختار ملک ہونے کے ناطے پاکستان نے وہی بم دھماکے، خودکش حملے، مبینہ شدت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان ہونےوالی شدید لڑائی، معصوم شہریوں کی ہلاکتیں اور نقل مکانی سمیت وہ سب کچھ دیکھا ہے جو مقبوضہ عراق اور افغانستان میں روز کا معمول بن چکاہے۔ ان ساڑھے چھ سال کے دوران پاکستان کے قبائلی علاقوں میں طالبان ایک مضبوط قوت کے طور پر ابھر کرسامنے آئے ہیں جن پر الزام ہے کہ انہوں نے القاعدہ سے تعلق رکھنے والے ان مبینہ غیر ملکیوں کو پناہ دے رکھی ہے جو سرحد پار افغانستان میں موجود امریکی اور نیٹو فورسز پر حملوں میں مبینہ طور پر ملوث ہیں۔ تاہم پاکستان ان الزامات کی تردید کرتا آیا ہے۔
 | طالبان، الزامات اور پاکستان کی تردید چھ سال کے دوران پاکستان کے قبائلی علاقوں میں طالبان ایک مضبوط قوت کے طور پر ابھر کرسامنے آئے ہیں جن پر الزام ہے کہ انہوں نے القاعدہ سے تعلق رکھنے والے ان مبینہ غیر ملکیوں کو پناہ دے رکھی ہے جو سرحد پار افغانستان میں موجود امریکی اور نیٹو فورسز پر حملوں میں مبینہ طور پر ملوث ہیں۔ تاہم پاکستان ان الزامات کی تردید کرتا آیا ہے۔ |
پاکستان نے سکیورٹی فورسز پر ہونے والے حملوں اور سرحد پار’دہشت گردی‘ کو روکنے کے لیے ستمبر دوہزار چھ میں شمالی وزیرستان میں طالبان کے ساتھ ایک امن معاہدہ کیا جسے امریکہ اور افغان حکومت نے’دہشت گردوں‘ کے ساتھ معاہدہ قرار دے کر مسترد کردیا تھا۔ اس معاہدہ کے بعد افغان، امریکی اور نیٹو حکام کے علاوہ مغربی ذرائع ابلاغ کی جانب سے ان الزامات میں مزید شدت آئی کہ قبائلی علاقوں سے طالبان جنگجو کی آمد میں اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجہ میں وہاں پر مبینہ شدت پسندی گزشتہ سالوں کے مقابلے میں بڑھ گئی ہے۔ لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ ستمبر دو ہزارسات میں اس معاہدے کے ٹوٹنے اور پاکستان کے اندر طالبان کی کاروائیوں میں اضافہ کے بعد ان الزامات میں کافی حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ امریکہ، افغان حکومت اور نیٹو فورسز نے مبینہ شدت پسندوں سے نمٹنے میں پاکستان کے کردار پر شک ظاہر کرتے ہوئے ایک ایسی پالیسی وضع کی جس سے افغانستان میں جاری مزاحمت کا رخ پاکستان کی طرف کیا گیا جس کے نتیجہ میں پاکستانی طالبان بھی ایسی ہی کارروائیوں پر مصروف ہوگئے اور ان کا افغان طالبان کے ساتھ عسکری تعاون ایک حد تک ختم ہوگیا۔ مرکز اور صوبہ سرحد میں قائم ہونے والی نئی حکومتوں کے اس اعلان نے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں گے امریکہ کو بظاہر اس خوف میں مبتلا کردیا ہے کہ مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں پاکستانی طالبان دوبارہ
 | مفاہمت مخلاف کون ہو سکتا ہے؟  امریکہ، افغان حکومت اور نیٹو فورسز نے ایک ایسی پالیسی وضع کی جس سے افغانستان میں جاری مزاحمت کا رخ پاکستان کی طرف ہو گیا جس کے نتیجہ میں پاکستانی طالبان اپنے علاقوں میں افغان طالبان جیسی کارروائیوں پر مصروف ہوگئے اور ان کا افغان طالبان کے ساتھ عسکری تعاون ایک حد تک ختم ہوگیا  مبصرین |
افغانستان کا رخ کرسکتے ہیں جس سے وہاں طالبان کی کمزور ہونے والی قوت میں پھر سے جان پڑ سکتی ہے اور اس پر مستزاد یہ کہ طالبان کے ترجمان مولوی عمر نے بھی یہ واضح اعلان کردیا ہے کہ اگرمذاکرات کامیاب ہوگئے تو وہ پاکستان کے اندر اپنی سرگرمیاں ختم کرنے پر تیار ہوسکتے ہیں تاہم وہ افغانستان میں اپنا ’جہاد‘ جاری رکھیں گے۔ یہی خوف ہے جس نے رچرڈ باوچر اور نیگرو پونٹے کو شیڈول سے ہٹ کر خیبر سے لے کر کراچی تک دورہ کرنے پر مجبور کردیا۔ مگر حکمران اتحاد میں شامل سیاستدانوں آصف زرداری، وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، اسفندیار ولی خان، نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن سے ہونے والی ملاقاتوں میں انہیں بظاہر وہ سب کچھ شاید ہاتھ نہیں آیا جو ایک زمانہ میں’فرد‘ واحد انہیں دے سکتا تھا۔ نئی حکومت کے لیے اس وقت سب سے بڑا چیلنج بھی یہی ہے کہ وہ پس پردہ ہونے والے مذاکرات میں طالبان کو کس طرح اس بات پر قائل کرسکتی ہے کہ وہ نہ صرف پاکستان میں بلکہ افغانستان میں بھی لڑنے کے لیے سرحد پار نہیں کریں گے۔ اگر حکومت طالبان کو اس بات پر راضی کرانے میں ناکام ہوگئی تو شاید پاکستان اور امریکہ، افغان اور نیٹو حکام کے درمیان پھر سے اسی قسم کے اختلافات اور سخت لہجے کے استعمال کا آغاز ہوسکتا ہے جس نے ڈیڑھ سال قبل اپنی انتہائی حدوں کو چھو لیا تھا۔ |