’سنگسارشدہ جوڑے کی لاشیں واپس‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں مقامی انتظامیہ نے’زنا‘ کے الزام میں مبینہ طور پر طالبان کے ہاتھوں سنگسار کیے جانے والے جوڑے کی لاشیں برآمد کر کے ان کے ورثاء کے حوالے کر دی ہیں۔ تاہم مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس جوڑی کو سنگسار نہیں کیا گیا بلکہ گولی مار کر قتل کیا گیا ہے۔انتظامیہ کے مطابق قتل کیے جانے والی خاتون کو اپنے آبائی علاقے بائیزئی میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے جبکہ مرد کی لاش اسکے ورثاء کے حوالے کر دی گئی ہے۔ مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب پیش آیا تھا۔ ان کے مطابق پاک افغان سرحد پر واقع مہمند ایجنسی کے صدر مقام غلنئی سے چالیس کلومیٹر دور بائیزئی کےعلاقہ میں ایک مقامی خاتون اور خیبر ایجنسی کے دولت خان نامی شخص کو فائرنگ کر کے قتل کیا گیا۔ اہلکار کےمطابق مہمند ایجنسی کی تقریباً پینتالیس سالہ شادی شدہ خاتون اور خیبر ایجنسی کے پچیس سالہ نوجوان پشاور کے تارو جبھہ کے علاقے سے کچھ عرصے قبل بھاگ کرکراچی گئے تھے جنہیں اتوار کے روز کراچی سے واپس آتے ہوئے نوشہرہ سے مبینہ طور پر اغوا کیا گیا تھا۔ تاہم خود کو مہمند ایجنسی کے طالبان کا ترجمان ظاہر کرنے والے ڈاکٹر اسد نامی ایک شخص نے بی بی سی کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ طالبان نے قاضی کے فتوے پر عملدرآمد کراتے ہوئےاتوار اور پیر کی درمیانی شب دونوں افراد کو سنگسار کر کے ان کی لاشیں ویرانے میں پھینک دیں۔ ڈاکٹر اسد نے دعوی کیا کہ انہیں یہ شکایت ملی تھی کہ مہمند ایجنسی سے تعلق رکھنے والی ایک شادی شدہ خاتون اپنے مبینہ آشنا کے ساتھ کراچی بھاگ گئی ہے جس کے بعد طالبان نے ان دونوں کی تلاش شروع کر دی۔ان کے مطابق گزشتہ روز کراچی میں ان کے ساتھیوں نے اطلاع دی کہ دونوں بذریعہ بس واپس پشاور روانہ ہوگئے ہیں جس پر نوشہرہ پہنچنے پر طالبان نے انہیں اغواء کر کے مہمند ایجنسی کے بائیزئی کے علاقہ پہنچاد یا جہاں پر دو ’قاضیوں‘ نے انہیں زنا کا مرتکب قرار دیتے ہوئے سنگسار کرنے کا فتوی جاری کردیا۔ ڈاکٹر اسد سے جب پوچھا گیا کہ طالبان کے مقرر کردہ ’قاضیوں‘ نے اتنے کم وقت میں کن ثبوتوں اور کس طریقہ کار سے انہیں’ زنا‘ کا مرتکب پایا، تو انہوں نے کہا کہ ’ان کے بھاگنے کے بارے میں تو یہاں کے سبھی لوگوں کو پتا تھا‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’دونوں نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا تھا۔‘ مہنمد ایجسی میں طالبان کے ایک قوت کے طور پر ابھر کرسامنے آنے کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ’زنا‘ کے الزام کے تحت کسی کو سنگسار کیا گیا ہے۔البتہ اس سے پانچ سال قبل سولہ فروری دو ہزار تین کو ایک قبائلی جرگہ نے ملاخیل نامی ایک مشتبہ’قاتل‘ کو لوگوں کے سامنے سنگسار کیا تھا۔ صوبہ سرحد کے ضلع کوہاٹ میں سترہ اپریل دو ہزار دو کو بھی ایک ضلعی عدالت نے زفران بی بی کو زنا کے الزام میں سنگسار کرنے کا حکم جاری کیا تھا مگر چھ جون دو ہزار دو کو وفاقی شرعی عدالت نے اس حکم کو معطل کردیا تھا۔ | اسی بارے میں ’قتل سازش کا نتیجہ، غیرت نہیں‘31 January, 2007 | پاکستان جے یو آئی (ف) خواتین کا مطالبہ 04 September, 2006 | پاکستان حدود قوانین: تھانے سے عدالت تک17 November, 2006 | پاکستان دو خواتین گلا کاٹ کر مار دی گئیں07 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||