BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 10 March, 2008, 12:01 GMT 17:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بیت اللہ سمیت 5 ملزمان کے وارنٹ

انسداد دہشگردی کی عدالت نے بیت اللہ محسود سمیت پانچ افراد کے ورانٹ جاری کیے ہیں
راولپنڈی کی انسداد دہشتگردی عدالت نے پیر کے روز پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو قتل کے مبینہ ماسٹر مائنڈ بیت اللہ محسود سمیت پانچ اشتہاری ملزمان کی گرفتاری کے لیے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے ہیں۔

عدالت نے پولیس کو اشتہاری ملزمان کو اٹھارہ مارچ تک گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے جبکہ عدالت بینظیر کے قتل کے الزام میں گرفتار پانچ ملزمان پر اٹھارہ مارچ کو فرد جرم عائد کرے گی۔

بینظیر بھٹو قتل میں گرفتار ہونے والے پانچ ملزمان کو جن میں محمد رفاقت، حسنین گل، عبدالرشید، اعتزاز شاہ اور شیر زمان شامل ہیں پیر کے روز سخت حفاظتی پہرے میں عدالت میں پیش کیاگیا۔ ملزمان کو عدالت میں پیش کرتے وقت پولیس نے سڑک ٹریفک کے لیے بند کر دی جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

عدالت نےان ملزمان کے جوڈیشل ریمانڈ میں اٹھارہ مارچ تک توسیع کر دی ہے اور مقدمہ کی سماعت کے دوران چوراسی پولیس اہلکاروں اور ڈاکٹروں کے بیانات پر مشتمل نقول کی کاپیاں دونوں جانب کے وکلاء میں تقسیم کر دی گئیں۔

عدالت نے بینظیر بھٹو کو قتل کرنے کے الزام میں گرفتار اعتزاز شاہ اور شیر زمان سمیت پانچ گرفتار ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے مقدمہ کی مزید کارروائی اٹھارہ مارچ تک ملتوی کر دی۔

سرکاری وکیل سردار اسحاق نے بی بی سی کو بتایا کہ ملزمان کو ایف آئی آر سمیت اس مقدمے کی نقول کی کاپیاں دینے کے بعد شہادتوں کا سلسلہ شروع ہوجائےگا جس کے بعد عدالت میں گواہی دینے والے افراد پر ان کے بیانات کی روشنی میں جرح بھی کی جائے گی۔

ملزمان حسنین گل اور محمد رفاقت کے عزیز و اقارب بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے اور عدالت کے حکم پران کی ملاقات ملزمان کے ساتھ کروائی گئی۔

ملزم رفاقت کے والد صابر حسین جنہوں نےاپنے بیٹے سے ملاقات کی بی بی سی کو بتایا کہ ان کے بیٹے نے پولیس یا کسی مجسٹریٹ کے سامنے کوئی اقبالی بیان نہیں دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے بیٹے نے بتایا ہے کہ پولیس اہلکاروں نےان سمیت گرفتار ہونے والے دیگر افراد سے ایک سادہ کاغذ پر دستخط لیے تھے جس پر انہوں نے اقبالی بیان لکھ کر عدالت میں پیش کر دیے۔

صابر حسین نے بتایا کہ انہوں نے اپنے بیٹے اور داماد حسنین سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کرنے کی کوشش کی تو جیل حکام کا کہنا تھا کہ ملزمان انتہائی اہم مقدمے میں ملوث ہیں اس لیے ان سے ملاقات کے لیے پنجاب کے ہوم سیکرٹری سے اجازت لینا ہوگی۔

رفاقت کے والد نے کہا کہ انہوں نے لاہور جاکر ہوم سیکرٹری کو ایک درخواست دی ہے لیکن ابھی تک اس کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

واضح رہے کہ اس مقدمے کی تفتیش کرنے والی پولیس ٹیم کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی، سی آئی ڈی پنجاب چوہدری عبدالمجید نے دعویٰ کیا تھا کہ مذکورہ گرفتار ہونے والے ان ملزمان نے عدالت میں اقبالی بیان دیے ہیں جس میں انہوں نے کہا ہے کہ انہوں نے پیپلز پارٹی کی چئیرپرسن بینظیر بھٹو پر خودکش حملہ کرنے والے افراد بلال اور اکرام اللہ کو اس مشن کے سلسلے میں سہولتیں فراہم کی تھیں۔

تفتیشی ٹیم کے سربراہ نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ ملزمان رفاقت اور حسنین گل راولپنڈی میں فوجی اہلکاروں پر ہونے والے خود کش حملوں میں بھی ملوث ہیں۔

ستائیس دسمبر سنہ دو ہزار سات کو راولپنڈی کے لیاقت باغ کے باہر ہونے والے خودکش حملے میں پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو سمیت پچیس افراد ہلاک اور پچاس سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں
’میرا بیٹا بے قصور ہے‘
22 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد