BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 14 February, 2008, 15:24 GMT 20:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’میرا بیٹا کبھی اٹک پار بھی نہیں گیا‘

محمد رفاقت
رفاقت پانچ جنوری کو صبح ساڑھے نو بجے ٹیکسی لے کر گھر سے نکلا تھا: زینب بی بی
پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو قتل کیس کے الزام میں گرفتار ہونے والے محمد رفاقت کی والدہ زینب بی بی نے کہا ہے کہ ان کا بیٹا اور داماد حسنین بے قصور ہیں اور ان کا اس واقعہ میں ملوث مبینہ خودکش حملہ آور کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔

راولپنڈی کے مضافات میں واقعہ دھمیال کیمپ کے علاقے احمد آباد میں اپنے خاندان کے ساتھ رہائش پذیر زینب بی بی نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا بیٹا رفاقت پانچ جنوری کو صبح ساڑھے نو بجے ٹیکسی لے کر گھر سے نکلا تھا۔ اس کے بعد واپس نہیں آیا جبکہ اس کا بھانجا حسنین جو کہ زینب بی بی کا داماد بھی ہے تین جنوری سے لاپتہ ہے۔

واضح رہے کہ اس واقعہ کی تحقیقات کرنے والی پولیس ٹیم نے سات فروری کو اُس دن ان افراد کی گرفتاری ظاہر کی جب سکاٹ لینڈ یارڈ کی تفتیشی ٹیم بینظیر بھٹو قتل کیس کی تحقیقاتی رپورٹ حکومت کو پیش کرنے کے لیے پاکستان آئی تھی۔

زینب بی بی نے کہا کہ ان کا خاوند صابر حسین نے جو ایک سرکاری سکول کے ریٹائرڈ ہیڈماسٹر ہیں، چھ جنوری کو تھانہ صدر بیرونی میں اپنے بیٹے محمد رفاقت اور داماد حسنین کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروائی تھی۔

اس ضمن میں جب متعلقہ تھانے سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے ان افراد کی گمشدگی کی رپورٹ کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا۔

 انتہائی کسمپرسی کی حالت میں رہنے والی زینب بی بی نے بتایا کہ اس کے آٹھ بیٹے ہیں جن میں سے محمد رفاقت چھٹے نمبر پر ہے اور اس کو کچھ عرصہ پہلے ٹیکسی لے کر دی گئی تھی تاکہ وہ اپنا روزگار کما سکے۔

انتہائی کسمپرسی کی حالت میں رہنے والی زینب بی بی نے بتایا کہ اس کے آٹھ بیٹے ہیں جن میں سے محمد رفاقت چھٹے نمبر پر ہے اور اس کو کچھ عرصہ پہلے ٹیکسی لے کر دی گئی تھی تاکہ وہ اپنا روزگار کما سکے۔

زینب بی بی نے بتایا کہ انہوں نے حسنین کے ساتھ اپنی بیٹی کی شادی دو ماہ پہلے کی تھی۔

زینب بی بی کا سارا گھرانہ مذہبی ہے۔ ان کے گھر میں نہ تو کوئی ٹی وی ہے اور نہ ہی کوئی ریڈیو۔ زینب بی بی کا خاوند صابر حسین سرکاری ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد علاقے میں ایک مسجد کے نگران ہیں۔

ستر سالہ زینب بی بی نے، جو انٹرویو کے دوران سسکیاں لے کر رو رہی تھیں، کہا کہ سات فروری کو محلے کے کچھ لوگوں نے انہیں بتایا کہ رفاقت اور حسنین مبینہ خودکش حملہ آوروں کو سہولتیں فراہم کرنے کے الزام میں راولپنڈی پولیس کی تحویل میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ خودکش حملہ آور سعید عرف بلال نہ تو ان کے گھر پر ٹھہرا اور نہ ہی پولیس نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا اور نہ ہی وہاں سے کوئی خودکش حملے میں استعمال ہونے والی جیکٹس اور موٹر سائیکلیں برآمد کئیں۔

کچھ نہیں ہوا
 مبینہ خودکش حملہ آور سعید عرف بلال نہ تو ہمارےگھر پر ٹھہرا اور نہ ہی پولیس نے میرے گھر پر چھاپہ مارا اور نہ ہی یہاں سے کوئی خودکش حملے میں استعمال ہونے والی جیکٹس اور موٹر سائیکلیں برآمد ہوئیں۔
زینب بی بی

مبینہ ملزم محمد رفاقت کی والدہ نے بتایا کہ اس کا بیٹا قبائلی علاقوں میں جانا تو دور کی بات کبھی اٹک کے پار بھی نہیں گیا۔ جبکہ اس کے داماد حسنین نے اٹک کے ایک مدرسے سے دینی تعلیم حاصل کی۔

اہل محلہ کا کہنا ہے کہ صابر حسین اور اس کی فیملی گزشتہ تیس سال سے اس علاقے میں رہ رہے ہیں اور اہل محلہ کو کبھی بھی ان سے کوئی شکایت نہیں ہوئی۔ ’بلکہ مذہبی گھرانہ ہونے کی وجہ سے اہل محلہ ان کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔‘

واضح رہے کہ اس واقعہ کی تحقیقات کرنے والی پولیس کی ٹیم کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی سی آئی ڈی چودھری عبدالمجید نے بدھ کی رات پریس کانفرنس کے دوران دعوٰی کیا تھا کہ مذکورہ ملزمان نے اپنے اقبالی بیان میں یہ کہا ہے کہ انہوں نے مبینہ خودکش حملہ آور بلال اور اس کے ساتھی اکرام اللہ کے ساتھ مل کر اس حملے کی منصوبہ بندی کی تھی اور انہیں لیاقت باغ چھوڑ کر آئے تھے۔

اس کے علاوہ پولیس کی ٹیم کے سربراہ نے یہ بھی دعوٰی کیا تھا کہ یہ ملزمان گزشتہ چند ماہ کے دوران راولپنڈی میں فوجی اہلکاروں پر خودکش حملوں میں ملوث ہونے کا بھی اعتراف کیا ہے۔

پولیس نے اس واقعہ کی تحقیقات کے سلسلے میں مزید دو افراد اعتزاز شاہ اور شیر زمان کو گرفتار کیا ہے اور وہ جسمانی ریمانڈ پر تفتیشی ٹیم کی تحویل میں ہیں۔

مبصرین کے مطابق پولیس کی طرف سے اتنی تیزی سے اس اہم مقدمے میں پیش رفت پر بڑے سوال اٹھ رہے ہیں جبکہ حکومت اس کو اپنی کامیابی قرار دے رہی ہے۔

بینظیر بھٹو اصل سوال یہ ہے
قاتل کون ہیں اور اس قتل کا فائدہ کس کو پہنچا؟
مارنے والے کون تھے
’بینظیر سے رابطے کے بعد طالبان مطمئن تھے‘
 بینظیر بھٹو پوسٹرقتل کے 40 دن بعد
ابھی عبوری چالان تک پیش نہیں ہو سکا
بینظیر بھٹو کی وصیت’قیادت زرداری کریں‘
جانشینی کے بارے میں بینظیر بھٹو کی وصیت
بینظیر بھٹوحملہ آور کون کون؟
بینظیر بھٹو کی نئی کتاب میں نئے انکشافات
بنظیر بھٹوکتاب سے اقتباسات
’اوہ میرے خدا یہ نہیں ہو سکتا‘
اسی بارے میں
گولی نہیں لگی: برطانوی پولیس
08 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد