BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 13 February, 2008, 12:12 GMT 17:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بینظیر کیس:ملزمان کا ’اقبالی بیان‘

 بینظیر بھٹو
ملزموں کو کڑی سیکورٹی میں کمرۂ عدالت میں پیش کیا گیا
بینظیر بھٹو قتل کیس میں گرفتار ہونے والے دو افراد حسنین اور رفاقت نے بدھ کو راولپنڈی کی ایک عدالت میں ایک مبینہ اقبالی بیان دیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ انہوں نے بینظیر بھٹو پر خودکش حملے میں ملوث افراد کو ’ٹاسک‘ کے لیے سہولتیں باہم پہنچائی تھی۔

حسنین اور رفاقت کو سات فروری کو راولپنڈی سےگرفتار کیا گیا تھا۔ ملزمان کو سخت حفاظتی اقدامات مقامی عدالت میں پیش کیا گیا۔ صحافیوں کو بھی کمرۂ عدالت میں جانے کی اجازت نہیں تھی۔

اس سے قبل پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے بینظیر بھٹو کے قتل کے سلسلے میں کچھ اور ملزمان کو بھی گرفتار کیا ہے جن میں اعتزاز شاہ اور شیر زمان شامل ہیں۔

اس واقعہ کی تحقیقات کرنے والی ٹیم میں شامل ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ان ملزمان نے دوران تفتیش بتایا تھا کہ انہوں نے مبینہ خودکش حملہ آور محمد بلال کو اس ’ٹاسک‘ کے لیے سہولتیں فراہم کی تھیں اور اسے لیاقت باغ تک چھوڑا تھا۔ جبکہ دوسرا مبینہ خودکش حملہ آور جس کا نام اکرام اللہ بتایا جاتا ہے بھی وہاں پر موجود تھا جس کو قبائلی علاقے میں روانہ کر دیا گیا تھا۔ ملزمان کے مطابق دوسرا مبینہ خودکش حملہ آور ابھی تک قبائلی علاقے میں ہی ہے۔

اس پولیس افسر نے دعویٰ کیا کہ دورانِ تفتیش ملزمان نے مزید سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں جن کی روشنی میں پولیس کی ٹیمیں اس نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی گرفتار ی کے لیے مختلف علاقوں میں روانہ کر دی گئی ہیں۔

اس ٹیم کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی سی آئی ڈی چوہدری عبدالمجید کے مطابق اس واقعہ میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ ان کے بارے میں فی الوقت کچھ نہیں بتا سکتے۔

وزارتِ داخلہ کے ترجمان بریگیڈئیر جاوید اقبال چیمہ نے منگل کے روز پریس بریفنگ میں بتایا تھا کہ بینظیر بھٹو قتل کیس میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔

رفاقت اور حسنین بارہ دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں اور انہیں عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد اڈیالہ جیل لے جایا جائے گا جہاں پر ان افراد کی شناخت پریڈ کروائی جائے گی جنہیں راولپنڈی کی پولیس نے بینظیر بھٹو قتل کیس کے شبہ میں گرفتار کیا گیا تھا۔

دریں اثناء نگران وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) حامد نواز نے کہا ہے کہ ملزمان کی طرف سے عدالت میں اقبالی بیان تفتیشی ٹیم کی ایک کامیابی ہے۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ملزمان حسنین اور رفاقت کے بارے میں بتایا کہ انہوں نے بینظیر بھٹو پر ہونے والے خودکش حملے کے ملزمان کو سہولتیں بہم پہنچائی تھیں اور وہ ان کے پاس آ کر ٹھہرے تھے۔ یہی ان کو لے جاتے تھے اور انہوں نے پورا پلان ان کے ساتھ مل کر بنایا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ ہم تو شروع سے ہی کہہ رہے ہیں کہ ایک سے زیادہ حملہ آور وہاں موجود تھے، کم از کم دو تھے شاید زیادہ بھی ہوں۔ ’دوسرے لڑکے نے پہلے کے بعد ضرورت محسوس نہیں کی یا وہ کسی وجہ سے ڈر گیا یا ہٹ گیا کسی وجہ سے لیکن وہ جائے حادثہ پر موجود تھا۔‘

انہوں نے کہا کہ ملزمان رفاقت اور حسنین ابھی پولیس کی تحویل میں ہی رہیں گے کیونکہ ان سے پوچھ گچھ ہو رہی ہے اور ان کی مدد سے اور لوگوں کے پکڑے جانے کی توقع ہے۔

واضح رہے کہ پولیس نے اس سانحہ کے چوبیس گھنٹے میں اس واقعہ کی ذمہ داری قبائلی شدت پسند بیت اللہ محسود پر ڈال دی تھی جنہوں نے بینظیر بھٹو کے قتل میں ملوث ہونے سے انکار کیا تھا۔

ادھر ملزمان حسنینں اور رفاقت کو میڈیا کے سامنے پیش نہیں کیا گیا۔
اس کیس کی تفتیش کرنے والی ٹیم کے سربراہ ایڈشنل آئی جی عبدالحمید نے صحافیوں کو بتایا کہ پیپلز پارٹی کی چئرپرسن بےنظیر بھٹو کے قتل کی سازش نومبر دو ہزار سات میں کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ستائیس دسمبر کو لیاقت باغ میں ہونے والے پیپلز پارٹی کے جسلے کے دوران مبینہ خودکش حملہ آور بلال کی ڈیوٹی گیٹ نمبر ایک پر جبکہ اکرام کی ڈیوٹی دوسرے گیٹ پر لگائی گئی تھی۔ پلان کے مطابق بلال کے حملے میں ناکامی کی صورت میں دوسرے مبینہ خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑانا تھا۔

تفتیشی ٹیم کے سربراہ نے کہا کہ ان ملزمان نے راولپنڈی میں ہونے والے متعدد خودکش حملوں کا اعتراف کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چار ستمبر کو آر اے بازار کے علاقے میں فوجی اہلکاروں پر خودکش حملہ کیا اور اس میں جو خودکش حملہ آور تھا اس کا نام عثمان بتایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ مجاہد چوکی پر جو خودکش حملہ ہوا تھا اس میں خودکش حملہ آور کا نام شاہد بتایا جاتاہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس کا بھائی لال مسجد آپریشن میں ہلاک ہوگیا تھا جس کے بعد انہوں نے خودکش حملوں کی منثونہ بندی کی تھی۔

چوہدری عبدالجید نے کہا کہ ان خودکش حملہ آوروں نے سابق وفاقی وزیر شیخ رشید پر چار مرتبہ ٹارگٹ کرنے کی کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہیں ہوئے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان خودکش حملہ آور کا مقصد یہی تھا کہ بےنظیر بھٹو کوئی غیرملکی ایجنڈا لیکر پاکستان آرہی ہے جو انہیں پسند نہیں تھا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تفتیشی ٹیم اس حملے کے ماسٹر مائنڈ تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد