وزیرستان: طالبان کو کروڑوں کی ادائیگی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قبائلی علاقہ جنوبی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ حکومت نے فوجی آپریشن کے دوران متاثر ہونے والے مقامی طالبان کے امیر ملانذیر اور کئی اہم کمانڈروں سمیت ایک سو پچاس سے زائد طالبان جنگجوؤں کو معاوضے کی مد میں ایک خطیر رقم ادا کی ہے۔ پچھلے سال جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں ملانذیر کی سربراہی میں طالبان کی جانب سے ازبک جنگجؤوں کےخلاف سکیورٹی فورسز کی معاونت سے ہونے والے کامیاب آپریشن کے بعد حکومت اور مقامی طالبان نے ایک امن معاہدہ کیا تھا جس میں حکومت نے فوجی آپریشن کے دوران مقامی افراد کو پہنچنے والے جانی اور مالی نقصان کے ازالے کے لیے انہیں معاوضہ ادا کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ ایک اعلیٰ حکومتی اہلکار نے نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ دو ہزار چار میں جنوبی وزیرستان میں شروع کیے جانےوالے فوجی آپریشن کے دوران صرف جانی نقصان کی مد میں پانچ سو سے زائد افراد کو بیس کروڑ سے زیادہ رقم ادا کر دی گئی ہے جس میں معمولی زخمی کو پچاس ہزار، شدید زخمی کو ڈھائی لاکھ اور ہلاک ہونے والے شخص کے لواحقین کو پانچ لاکھ روپے ادا کیےگئے ہیں۔
ان کے بقول طالبان نے حکومت کے پاس اپنےایک سو چوّن متاثرہ ساتھیوں کی فہرست جمع کرائی ہے جن میں سے زیادہ تر کو معاوضہ کی رقم ادا کر دی گئی ہے۔ ان کے مطابق مقامی طالبان کے سربراہ ملا نذیر کے شدید زخمی ہونے والے دو بھائیوں عبدالعزیز اور حضرت عمر کو بالترتیب ڈھائی اور دو لاکھ پچانوے ہزار جبکہ دیگر اہم کمانڈروں میں میٹھا خان نے اپنی بہن ، کمانڈر نورالسلام نے اپنے بیٹے غازی مرجان اور کمانڈر مولوی عباس نے اپنی بیوی کی ہلاکت کے نام پر پانچ پانچ لاکھ روپے کے معاوضہ کی رقم وصول کی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جنوبی وزیرستان میں میزائل حملے میں ہلاک ہونے والے طالبان کے پہلے کمانڈر نیک محمد وزیر کی ہلاکت پر بھی معاوضہ کی رقم کی ادائیگی کی منظوری دے دی گئی ہے تاہم ان کے خاندان والوں نے یہ کہہ
اہلکار کے مطابق منان نامی ایک طالب جنگجو کے لواحقین کو بھی پانچ لاکھ روپے کا معاوضہ ادا کیا گیا ہے جسے سنہ دو ہزار چار میں سکیورٹی فورسز نے اس وقت گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا جب وہ سڑک کے کنارے بم نصب کرنے کی مبینہ کوشش کر رہا تھا جبکہ اس کے علاوہ ان کے بقول سکیورٹی فورسز کے ساتھ دو طرفہ فائرنگ میں ہلاک ہونے والے عثمان نامی طالب جنگجو کے اہل خانہ کو بھی معاوضہ کی رقم دے دی گئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ زیادہ تر غیر مستحق افراد کو معاوضہ کی رقم ادا کی گئی ہے اور ادائیگی سے قبل کسی قسم کی کوئی چھان بین نہیں کی گئی ہے کہ آیا درخواست دینے والے حقیقتاً آپریشن کے دوران متاثر ہوئے بھی ہیں یا نہیں۔ اس سے قبل نو فروری سنہ دو ہزار پانچ میں صوبہ سرحد کے اس وقت کے کور کمانڈر لیفٹنینٹ جنرل صفدر حسین شاہ نے کہا تھا کہ ’حکومت نے القاعدہ کی مدد کے الزام میں مطلوب طالب کمانڈروں حاجی شریف اور مولوی عباس کو ڈیڑھ ڈیڑھ کروڑ اور حاجی جاوید اور حاجی عمر کو دس دس لاکھ روپے کی رقم اس لیے ادا کر دی تھی تاکہ وہ القاعدہ کی جانب سے ان کو دی گئی قرض سے جان چھڑا سکے۔ کور کمانڈر کے اس انکشاف کے بعد حکومت کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا کہ اس نے قبائلی جنگجؤوں کو خطیر رقم ادا کر کے بلاواسطہ القاعدہ کی مالی معاونت کی ہے۔ | اسی بارے میں ’طالبان کے تحت وانا میں امن‘15 April, 2008 | پاکستان سکیورٹی فورسز کے خلاف جنگ بندی06 February, 2008 | پاکستان ’حکومت کے حامی نہیں‘، مقامی کمانڈر11 January, 2008 | پاکستان وزیرستان فائربندی میں توسیع01 January, 2008 | پاکستان وزیرستان: جرگہ تنازعےکا شکار08 December, 2007 | پاکستان وزیرستان: گولہ باری، پانچ ہلاک02 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||