دلاور خان وزیر بی بی سی اردو ڈاٹ کام ڈیرہ اسماعیل خان |  |
 | | | مولوی نذیر کے گروپ نے اپریل دو ہزار سات میں طالبان سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔ (فائل فوٹو) |
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں مقامی طالبان نذیر گروپ کے ایک کمانڈر نے کہا ہے کہ حکومت کے ساتھ ان کا معاہدہ صرف امن کا ہے اور وہ حکومت کے حامی نہیں ہیں۔ یہ بات گروپ کے ایک مقامی کمانڈر میٹھا خان نے وانا سے ٹیلفون پر بتائی۔ انہوں نے وانا میں امن امان خراب کرنے کی ذمہ داری حکومت پاکستان، اس کی خفیہ ایجنسی، آئی ایس آئی اور روسی خفیہ ایجنسی کے جی بی پر عائد کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سابقہ گورنر نے ان کو کروڑوں روپے کی پیشکش کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ نذیر گروپ نے وانا میں مکمل امن قائم کیا ہے اور علاقے کے لوگ امن و امان برقرار رکھنے کی بنیاد پر ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔ میھٹا خان کے مطابق آئی ایس آئی ایک مرتبہ پھر وانا کا باغی گروپ وانا میں لانا چاہتی ہے۔ حکومت کی جانب سے ان کو ایسے اشارے ملے ہیں۔کہ وانا سے بھگائے گئے غیر ملکیوں اور ان کے مقامی ساتھیوں سے امن معاہدہ ہونا چاہیے لیکن ان کے گروپ نے یہ بات مسترد کردی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کاگروپ القاعدہ اور افغان طالبان کا حامی ہے اور ان کے ساتھی افغانستان میں امریکہ اور اتحادیوں کے خلاف جاری جہاد میں باقاعدہ لڑرہے ہیں۔ان کے مطابق گزشتہ سال ان کے درجنوں ساتھی افغان جہاد میں امریکہ کے خلاف لڑتےہوئے’شہید‘ ہوئے ہیں۔ میٹھا خان کا کہنا تھا ’ہمارا جہاد ظلم کے خلاف ہے، اگر ظالم لوگ قبائل میں سے ہوں تو ان کے خلاف بھی ہمارا جہاد کا اعلان ہے۔ جب پاکستانی فوج نے وانا میں ظلم کیا تو ہمارے ساتھیوں نے اینٹ کا جواب پھتر سے دیا لیکن بعد میں حکومت سے ان کے گروپ کا امن معاہدہ طے پایا۔‘ لیکن ان کا کہنا تھا کہ ان کا گروپ حکومت پاکستان کے حامیوں میں سے نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وانا میں احمد زئی وزیر قبائل نے چھ سو افراد پر مشتمل ایک لشکر بنایا ہے جو علاقے میں داخل ہونے والے حملہ آوروں کا راستہ روکے گا۔انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی لشکر بنانے میں نذیر گروپ نے مشورہ دیا ہے۔ یاد رہے کہ میٹھا خان نذیر گروپ کے ایک سرکردہ کمانڈر ہیں جن پر گزشتہ سال وانا بازار میں ایک قاتلانہ حملہ ہوا تھا جس میں وہ بچ گئے تھے لیکن ان کے دو ساتھی ہلاک ہوگئے تھے۔
|