گورنر سرحد نے استعفیٰ دیدیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبۂ سرحد کے سابق گورنر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ علی محمد جان اورکزئی کے اچانک استعفی کے حوالے سے عوامی حلقوں میں بہت قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں تاہم استعفی کی اصل وجہ قبائلی علاقوں میں مقامی طالبان سے ہونے والے امن معاہدوں پر سکیورٹی فورسز کی طرف سے عمل نہ کیا جانا اور قبائلی جرگوں میں ہونے والے وعدوں سے اعلیٰ سکیورٹی اہلکاروں کا انحراف بتایا جارہا ہے۔ خود قبائلی ہونے کی وجہ سے علی محمد جان اورکزئی نے اپنے دور میں تمام مسائل کو مصالحتی جرگوں کے ذریعے سے حل کرانے کی کوشش کی جس میں وہ کچھ حد تک کامیاب بھی رہے۔
اورکزئی کے علی خیل قبیلے سے تعلق رکھنے والے علی محمد جان نےگورنر نامزد ہونے کے بعد ایک قبائلی جرگہ تشکیل دیا تھا جس نے مقامی طالبان سے مذاکرات شروع کیے اور چند ماہ میں شمالی وزیرستان میں ایک امن معاہدہ کرایا گیا۔ اگرچہ اس معاہدے پر پاکستان کو امریکہ، نیٹو اور افغان حکومت کی طرف سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تاہم معاہدے کے بعد علاقے میں حالات کچھ بہتر بھی ہوگئے تھے۔ قبائلی علاقوں میں پاکستان کو سب سے زیادہ خطرہ غیر ملکی ازبک جنگجوؤں سے تھا جن کے خلاف جرائم میں ملوث ہونے کی شکایت لگائی جاتی تھی۔ شمالی وزیرستان کے امن معاہدے کے بعد جنوبی وزیرستان میں ازبکوں کو پناہ دینے کے معاملے پر طالبان کے کچھ گروپوں کے مابین اختلافات پیدا ہوگئے جس کے بعد حکومت کے حامی بعض کمانڈروں نے ازبک جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا اور ان کو وانا اور دیگر مقامات سے نکال دیا جس سے علاقے میں کچھ حد تک امن قائم ہوگیا۔ پانچ سال قبل جب علی محمد جان پشاور کے کور کمانڈر تھے تو ان ہی کے دور میں القاعدہ اور طالبان کے جنگجوؤں سے نمٹنے کے لیے قبائلی علاقوں میں پہلی مرتبہ فوج تعینات کی گئی تھی جس کا اس وقت قبائلیوں نے خیرمقدم کیا تھا۔
دن دہاڑے لوگوں کے گلے کاٹے جانے لگے۔ طالبان کے اثر رسوخ میں اضافہ ہوا اور یہاں تک کہ شدت پسندوں کے مختلف تنظیمیں اکٹھی ہوئی اور انہوں نے پاکستان کے سطح پر ’ تحریک طالبان پاکستان‘ کے نام سے ایک تنظم بنالی جس کے سربراہ بیت اللہ محسود ہیں۔ علی محمد جان اورکزئی کے دور میں کرم ایجنسی میں دو بار فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات ہوئے جو تاحال جاری ہے۔ وزیرستان میں ڈھائی سو کے قریب فوجیوں کو اغواء کیا گیا۔ بعدازاں علی جان کی کوششوں سے جرگہ کے ذریعے سے فوجیوں کو رہا کرایا گیا جبکہ اس کے بدلے میں فیصلے کے تحت حکومت نے طالبان کے 34 جنگجوؤں کو رہا کرنا تھا جن میں سے 28 شدت پسند تو رہا ہوگئے جبکہ چھ جنگجوؤں ابھی تک رہا نہیں کیےگئے۔ بتایا جاتا ہے کہ علی محمد جان اس بات پر بعض اعلیٰ سکیورٹی اہلکاروں سے سخت ناراض تھے کہ جرگہ کے فیصلے سے انحراف کیا گیا اور وعدے کے مطابق جنگجوؤں کو رہا نہیں کیا گیا۔ قبائلی علاقوں میں جرگوں کے فیصلوں کو حرف آخر سمجھا جاتا ہے اور جرگہ میں کیے ہوئے فیصلوں سے انحراف ایسا ہے جیسے موت کو دعوت دینا۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ قبائلی علاقوں میں ہونے والے جرگوں کے فیصلوں پر سکیورٹی فورسز کی طرف سے عمل نہ کرانے پرفاٹا سیکرٹریٹ پشاور میں بعض اعلیٰ عہدوں پر فائز افسران نے اپنے عہدوں سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔ علی محمد جان اورکزئی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائیوں اور اضافی فوج تعینات کرنے کے بھی مخالف تھے جبکہ امریکہ اور مغربی ممالک کی طرف سے بار بار فوجی کارروائیوں پر زور دیا جاتا رہا۔ |
اسی بارے میں فوج آخری آپشن ہے: گورنر سرحد02 November, 2007 | پاکستان گورنر مغویوں کی رہائی کیلیے پرامید17 August, 2007 | پاکستان امن معاہدے کی خلاف ورزی: گورنر07 July, 2007 | پاکستان گورنر سرحد نے جرمانہ معاف کردیا23 January, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||