گورنر سرحد نے جرمانہ معاف کردیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گورنر سرحد علی محمد جان اورکزئی نے جنوبی وزیرستان میں احمد زئی وزیر قبیلے کی جانب سے ان کے دورے کے دوران وانا میں راکٹ چلنے کے معاملے میں معذرت قبول کرتے ہوئے ان پر عائد پچاس لاکھ روپے جرمانہ معاف کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ انہوں نے منگل کو گورنر ہاؤس پشاور میں احمدزئی وزیر قبائل کی جانب سے قبائلی روایت ’ننوتے‘ کے مطابق بکرے اور دنبے پیش کرنے پر کیا۔ گورنر سرحد نے گزشتہ برس سات نومبر کو وانا کا دورہ کیا تھا تاہم ایک قبائلی جرگے سے خطاب کے دوران نامعلوم افراد نے ان پر دو راکٹ چلائے تھے۔ راکٹ کھلے میدان میں گرے جن سے گورنر اور جرگے کے اراکین محفوظ رہے۔ تاہم حکومت نے قبائلی قانون کے تحت احمدزئی وزیر قبیلے پر پچاس لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا تھا۔ قبیلے نے یہ رقم جمع بھی کرا دی تھی۔ جرگے کے ساتھ آئے ملک سرور خان یارگل خیل نے اس موقع پر کہا کہ حملہ آور جو کوئی بھی تھا چونکہ یہ واقعہ ان کے علاقے میں پیش آیا لہذا وہ اس کی پوری ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ گورنر سرحد نے قبائلیوں کی معذرت قبول کر لی۔ گورنر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ ان کا وانا کا پہلا دورہ تھا۔ | اسی بارے میں گورنر سرحد پر راکٹ حملہ07 November, 2006 | پاکستان گورنرسرحدپرحملہ: ملزم نہ دینے کی سزا14 November, 2006 | پاکستان گورنر سرحد کی تبدیلی کی خبریں؟04 March, 2005 | پاکستان صوبہ سرحد کے گورنر کا حلف15 March, 2005 | پاکستان وزیر اعلیٰ سرحد کا آئی بی پر الزام05 December, 2006 | پاکستان گورنر سرحد کا استعفیٰ منظور12 March, 2005 | پاکستان سرحد حکومت کے آئی بی پر الزامات06 December, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||